Updated: November 04, 2026, 9:08 PM IST
| New Delhi
اسٹار بیڈمنٹن کھلاڑی پی وی سندھو کا ماننا ہے کہ ان کے اندر ابھی اعلیٰ سطح پر بہت کچھ کرنے کی صلاحیت باقی ہے۔ دو بار اولمپک تمغہ جیتنے والی سندھو نے سیزن کے آخری بی ڈبلیو ایف ورلڈ ٹور فائنلس کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے اور واضح کردیا ہے کہ ۳۱؍ سال کی عمر بھی ان کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔
اسٹار بیڈمنٹن کھلاڑی پی وی سندھو کا ماننا ہے کہ ان کے اندر ابھی اعلیٰ سطح پر بہت کچھ کرنے کی صلاحیت باقی ہے۔ دو بار اولمپک تمغہ جیتنے والی سندھو نے سیزن کے آخری بی ڈبلیو ایف ورلڈ ٹور فائنلس کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے اور واضح کردیا ہے کہ ۳۱؍ سال کی عمر بھی ان کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ اتوار کو ہائیلو اوپن سپر ۵۰۰؍ میں اس سیزن کا اپنا دوسرا خطاب جیتنے والی ہندوستانی کھلاڑی فی الحال ورلڈ ٹور کوالیفکیشن رینکنگ میں پانچویں مقام پر ہیں۔ چین میں ۹؍ سے ۱۳؍ دسمبر تک ہونے والے سیزن کے فائنل مقابلوں میں سرفہرست آٹھ کھلاڑی حصہ لیں گی۔جرمنی میں یہ خطاب جیتنے سے پہلے سندھو نے جولائی میں جاپان اوپن کا خطاب اپنے نام کیا تھا، جبکہ گزشتہ ماہ فرنچ اوپن میں وہ رنر اپ رہی تھیں۔ مسلسل اچھی کارکردگی کی بدولت وہ اب عالمی درجہ بندی میں چھٹے مقام پر پہنچ گئی ہیں اور خواتین کے سنگلز میں ایک بار پھر اہم دعویداروں میں شامل ہوگئی ہیں۔ کیرولینا مارین، نوزومی اوکوہارا، رتچانوک انتانون اور تائی زو ینگ جیسی کھلاڑیوں کی نسل کا اہم حصہ رہنے والی سندھو نئی کھلاڑیوں کی آمد کے باوجود سرکردہ حریفوں کو سخت چیلنج دے رہی ہیں۔
سندھو نے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ میں اب ٹاپ چھ میں پہنچ گئی ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ اگر آپ مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو کامیابیاں خود ملنے لگتی ہیں اور آپ کی رینکنگ بھی بہتر ہوتی جاتی ہے۔ اگر آپ اچھا کھیلتے ہیں اور ٹورنامنٹ جیتتے ہیں تو آپ کو صرف رینکنگ کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ خود بہتر ہوجاتی ہے۔ بیڈمنٹن کا کھیل مسلسل بدل رہا ہے۔ کورٹ پر صبر سے کھیلنا بہت ضروری ہے۔ اگلے سال سے ہر گیم ۱۵؍ پوائنٹس کا ہوگا، اس لیے حالات بدل جائیں گے۔ ہمیں اسی کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ مجھے خوشی ہے کہ میں اپنی سنہری نسل کے ساتھ ساتھ آج کی نئی نسل کی کھلاڑیوں کو بھی مقابلہ دے پارہی ہوں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنا پرانا غلبہ دوبارہ حاصل کرسکتی ہیں، جس کی وجہ سے کبھی انہیں سرکٹ کی خطرناک ترین کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا تھا، تو سندھو نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا کہ وہ پھر سے چوٹی پر پہنچ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بالکل، کیوں نہیں؟ اگر آپ اپنے جسم کا خیال رکھتے ہیں تو ایسا ممکن ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ اپنی صحت اور جسم کی دیکھ بھال کس طرح کرتے ہیں۔ کئی کھلاڑی ۳۰، ۳۱؍ اور ۳۲؍ سال کی عمر میں بھی کھیل رہے ہیں اور ایسے بہت سے کھلاڑی رہے ہیں جو اس عمر میں بھی ٹاپ پر تھے۔ تو پھر دوبارہ چوٹی پر کیوں نہیں پہنچا جاسکتا؟ میں اسی سمت میں آگے بڑھ رہی ہوں اور وہاں پہنچ بھی چکی ہوں۔ میں ایسا اس لیے کہہ رہی ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میں اب بھی یہ کرسکتی ہوں۔
یہ بھی پڑھئے:قندھار واریئرز نے محمد عامر کو ایک لاکھ ڈالر میں خرید لیا
سندھو کے حالیہ شیڈول سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی فٹنس کو لے کر کافی محتاط ہیں۔ مسلسل کئی ٹورنامنٹ کھیلنے کے بعد انہوں نے ورلڈ ٹور فائنلس کو مدنظر رکھتے ہوئے کوریا اوپن اور اس کے بعد جاپان میں ہونے والے ٹورنامنٹس میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ سابق عالمی چیمپئن سندھو نے کہاکہ ’’طویل دورے کے بعد مجھے لگا کہ کوریا اوپن اور اس کے بعد ہونے والے ٹورنامنٹس میں نہیں کھیلنا چاہیے کیونکہ میرے لیے واپس آکر آرام کرنا بھی ضروری تھا۔ اپنے جسم کا خیال رکھنا اور پھر اگلے ٹورنامنٹس کے لیے دوبارہ فٹ ہونا اہم ہے۔ اب میں اتنی کم عمر نہیں رہی، لیکن آپ جانتے ہی ہیں کہ ۳۱؍ اب۲۱؍ جیسا ہے۔ اس لیے مجھے اپنے جسم کا خیال رکھنا ہوگا۔ امید ہے کہ میں ورلڈ ٹور فائنلس میں ضرور پہنچوں گی اور میری پوری توجہ اسی پر ہوگی۔
ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک مسابقتی بیڈمنٹن کھیلنے کے تجربے نے سندھو کے لیے جیت کے معنی بھی بدل دیے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اب کامیابی زیادہ اطمینان بخش محسوس ہوتی ہے، کیونکہ وہ جیت سے جڑے دباؤ، غلطیوں اور ضروری تبدیلیوں کو بہتر طور پر سمجھنے لگی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہاں، اب جیت کا احساس پہلے سے کہیں زیادہ خوشگوار ہوتا ہے، کیونکہ آپ سمجھتے ہیں کہ کامیابی حاصل کرنا کتنا مشکل ہے۔ آپ جان پاتے ہیں کہ آپ کے ذہن میں کیا چل رہا ہے اور آپ سے کہاں غلطی ہوئی۔ پہلے ۲۱؍ سال کی عمر میں آپ مایوس اور پریشان ہوجاتے تھے اور سمجھ نہیں پاتے تھے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے، لیکن اب آپ حالات کو سمجھنے لگتے ہیں۔ اس لیے اب جیت کا احساس کہیں زیادہ خوشگوار ہوتا ہے۔ اس وقت سب کچھ نیا تھا، لیکن میچ اور ٹورنامنٹ جیتنے کا جوش آج بھی ویسا ہی ہے۔ میرے خیال میں میری توانائی اور جذبہ اب بھی وہی ہے۔ کامیابی حاصل کرنا اور دوبارہ بہترین فارم میں واپس آنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ یہ بہت خوشگوار احساس ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رنبیر کپور کی بیٹی راہا بھی فلم’ ’رامائن‘‘ کا حصہ بنیں گی
انہوں نے مزید کہاکہ جب آپ میں کھیل کے لیے جذبہ ہوتا ہے اور آپ اسے کھیلنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو چیزیں خود بخود صحیح سمت میں آگے بڑھتی ہیں۔ اپنے جسم کا خیال رکھنا اور سمجھداری سے درست فیصلے کرنا بہت ضروری ہے۔ اب آپ ۲۰؍ سال کے نہیں ہیں کہ مسلسل ایک کے بعد ایک ٹورنامنٹ کھیلتے رہیں۔ آپ جس بھی ٹورنامنٹ میں حصہ لیں، اس میں اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کھیلیں۔ اس کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر مکمل فٹ ہونا ضروری ہے۔ سندھو نے اپنی فٹنس کا جائزہ لینے اور یہ طے کرنے میں مدد کے لیے اپنی معاون ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا کہ کب کھیلنا ہے، کب ٹریننگ کرنی ہے اور کب آرام کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ظاہر ہے کہ میں طویل عرصے سے یہ کھیل کھیل رہی ہوں اور میرے پاس کافی تجربہ ہے۔ حال ہی میں میں نے ایک نئی ٹیم بنائی ہے، جس میں میرے اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ وین لومبارڈ، میری فزیوتھراپسٹ شریاسی (سنجے)، ہیرا (منڈلورو) اور یقیناً میرے کوچ ایروانسیہ (آدی پراتما) شامل ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کھیل کے حوالے سے تمام فیصلے سمجھداری سے کیے جائیں۔