ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا کہ ہتھیار ڈالنے کا معمولی سا رجحان بھی امریکہ کو حوصلہ دے گا،انہوں نے کہا کہ ایسی پوزیشن ’صرف مغرور دشمن کو مزید زیادتیوں اور مزید جنگوں اور جسارت کی تلاش کی ترغیب دے گی۔
EPAPER
Updated: November 04, 2026, 9:08 PM IST | Tehran
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا کہ ہتھیار ڈالنے کا معمولی سا رجحان بھی امریکہ کو حوصلہ دے گا،انہوں نے کہا کہ ایسی پوزیشن ’صرف مغرور دشمن کو مزید زیادتیوں اور مزید جنگوں اور جسارت کی تلاش کی ترغیب دے گی۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بدھ کو خبردار کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تناؤ کو حل کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے درمیان ہتھیار ڈالنے کا معمولی سا اشارہ بھی امریکہ کو حوصلہ دے گا۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی طرف سے جاری کردہ بیان میں خامنہ ای نے کہا کہ ایسی پوزیشن صرف مغرور دشمن کو مزید زیادتیوں اور مزید جنگوں اور جسارت کی تلاش کی ترغیب دے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر جارحیت دہرائی گئی تو ایک نیا تنازع بہت وسیع جہتیں اختیار کر لے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا اعتراف، ایران جنگ نے ریپبلکنز کو انتخابی نقصان پہنچایا، قالیباف کا ردعمل
واضح رہے کہ یہ تبصرہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد سپریم لیڈر کے پہلے ریمارکس تھے، جن میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھو دیا ہے۔یہ فروری کے آخر میں ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں کے بعد تناؤ برقرار رہنے کے باعث واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کی سفارتی کوششوں کے درمیان بھی سامنے آیا۔
یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ اور ایران کے سپریم لیڈر سمیت ۴۰؍ سے زائد فوجی اور سیاسی لیڈروں کو قتل کردیا تھا۔ جس کے جواب میں ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اورامریکی اثاثوں کو ڈرون اور میزائل سے نشانہ بنایا، اس کے علاوہ اسرائیل پر براہ راست میزائل سے حملے شروع کردئے۔ بعد ازاں اپریل میں دونوں ممالک پاکستان اور ترکی کی ثالثی میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے ۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی وسط مدتی انتخابات: کانگریس کے دونوں ایوانوں پر ڈیموکریٹس کا قبضہ
امریکہ اور ایران نے جون میں آبنائے ہرمز میں نیویگیشن کی آزادی پر مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے، لیکن آبنائے میں سیکورٹی کے بارے میں اختلافات کی وجہ سے اس پر عمل درآمد رک گیا، اور کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ حالیہ دنوں میں پس پردہ مفاہمت کی کوششیں جاری ہیں، اور اس کی ناکامی کی صورت میں ایران پر امریکی حملے کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ چونکہ ایران نے بھی فوری اور شدید ردعمل کی دھمکی دی ہے۔