اس ٹی ۲۰؍ورلڈ کپ میں ہندوستانی افتتاحی جوڑی کا اوسط صرف۶ء۸۰؍ہے،ہندوستان کے علاوہ کسی دوسری ٹیم کا اوسط اکائی ہندسے میں نہیں ہے، عمان کی اوپننگ جوڑی کا اوسط۱۰؍ ہے، آئرلینڈ کی اوپننگ جوڑی کا اوسط۱۴ء۳۳؍ اور یو اے ای کا۱۵ء۵۰؍ ہے، نیوزی لینڈ کی افتتاحی جوڑی کا اوسط۸۴؍ ہے۔
ہندوستانی بلےباز۔ تصویر:آئی این این
عمان، نمیبیا اور کنیڈا نے ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ میں اپنی مہمات بغیر جیت کے ختم کر دیں۔ دوسری جانب ہندوستان نے گروپ مرحلے میں اپنے تمام میچ جیتے۔ اس کے باوجود جب اوپننگ پارٹنرشپ کی بات آتی ہے تو ٹیم انڈیا اس ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں سب سے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیم ہے۔ ایشان کشن نے یقیناً اچھی بلے بازی کی ہے لیکن افتتاحی جوڑی نے ہندوستانی ٹیم کو مایوس کیا ہے۔
ہندوستانی افتتاحی جوڑی کا اوسط صرف ۶ء۸
اس ٹی ۲۰؍ورلڈ کپ میں ہندوستانی افتتاحی جوڑی کا اوسط صرف۶ء۸۰؍ہے۔ ہندوستان کا پہلا وکٹ پہلے میچ میں۸؍، دوسرے میں ۲۵؍، تیسرے میں ایک، چوتھے میں صفر اور پانچویں میں صفر کے اسکور پر گری۔ اس کا مطلب ہے کہ پانچ میچوں میں اوپننگ جوڑی نے صرف۳۴؍رن کی شراکت داری کی ہے۔ ہندوستان کے علاوہ کسی دوسری ٹیم کا اوسط اکائی ہندسے میں نہیں ہے۔ عمان کی اوپننگ جوڑی کا اوسط ۱۰؍ ہے۔ آئرلینڈ کی اوپننگ جوڑی کا اوسط۱۴ء۳۳؍ اور یو اے ای کا۱۵ء۵۰؍ ہے۔ نیوزی لینڈ کی اوپننگ جوڑی کا اوسط۸۴؍ ہے۔
ہندوستان کے اوپنرز چار بارصفرپر آؤٹ ہوئے
ہندوستان نےاس ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں اب تک پانچ میچ کھیلے ہیں۔ ان میں سے چار میچوں میں کم از کم ایک اوپنر اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہا۔ ابھیشیک شرما ۳؍ میچوں میں صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ ایک میچ میں ایشان کشن کھاتہ نہیں کھول سکے۔ نمیبیا کے خلاف میچ میں ایشان اور سنجو سیمسن نے اننگز کا آغاز کیا تھا اور۲۵؍رن کی شراکت داری کی تھی۔ ہر میچ میں ہندوستان نے ابتدائی ۲؍ اوورزمیں اپنا پہلا وکٹ گنواہی دیا ہے ۔
تلک ورما اور ابھیشیک شرما بھی آؤٹ آف فارم
ہندوستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تلک ورما بھی آؤٹ آف فارم ہیں۔ وہ مسلسل اسکور کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ پانچ میچوں میں تلک نے۲۱؍ کے اوسط سے۱۰۷؍ رن بنائے ہیں۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ صرف۱۱۹؍ ہے۔ اس ورلڈ کپ سے پہلے ٹی ۲۰؍ انٹرنیشنل کرکٹ میں تلک کا اوسط۴۹؍ سے زیادہ تھا۔ تاہم اب یہ۴۵؍ سے نیچے چلا گیا ہے۔اس کے علاوہ ابھیشیک شرما بھی خراب فارم سے گزر رہے ہیں۔اس عالمی کپ کے گروپ ا سٹیج میںلگاتار میںتین مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے کے بعدابھیشیک نے جنوبی افریقہ کے خلاف اپنا کھاتہ ضرورکھیلالیکن بڑی اننگ کھیلنے میں ناکام رہے ہیں۔سپر۸؍ کے مقابلے میںوہ صرف ۱۵؍ رن بناکر آؤٹ ہوگئے ۔علاوہ ازیں پاکستان کے خلاف شاندار بلے بازی کرنے والے ایشان کشن جنوبی افریقہ کے خلاف صفر پرآؤٹ ہوئے ۔
اب ایک میچ بھی ہارنے پر ٹیم انڈیا باہر ہوسکتی ہے
جنوبی افریقہ سے۷۶؍ رن کے بڑے فرق سے ملی شرمناک شکست نے ٹیم انڈیا کے سیمی فائنل کے امکانات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ فی الحال پہلے میچ کے بعد اگر پوائنٹس ٹیبل پر نظر ڈالی جائے تو ہندوستان کی پوزیشن پاکستان سے بھی بدتر ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ بارش سے دھلنے کی وجہ سے پاکستان کےکھاتے میں ایک پوائنٹ ہے جب کہ ٹیم انڈیا کا پوائنٹس ٹیبل خالی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:یوگی کے سنگاپور دورے پر اکھلیش کاطنز، وہاں کے ’واٹر مینجمنٹ ‘ کا مطالعہ کرنے کا مشور ہ دیا
ایسے میں ایک اور شکست سے اس کی راہیں مسدودہوسکتی ہیں ۔ اتوار(۲۲؍ فروری) کو احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں ہندوستان ۱۸۸؍رن کے ہدف کے جواب میں صرف۱۱۱؍رن بنا سکا تھا ۔ اس شکست سےٹیم انڈیا کی سیمی فائنل کی امیدوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ سوریہ کمار یادو کی ٹیم کو آخری چار میں جگہ بنانے کے لیے اب اپنے بقیہ۲؍ میچ زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف بڑے فرق سے جیتنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: راہل اور دیپک کی ملاقات، محبت کے فروغ کا عزم
ہندوستان کے لیے اب آگے راہ کیسی ؟
ہندوستانی ٹیم اپنا دوسرا سپر۸؍میچ جمعرات(۲۶؍ فروری) کو زمبابوے کے خلاف چنئی کے ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم میں کھیلے گی۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ اتوار (یکم مارچ) کو کولکاتا کے ایڈن گارڈن میں ہوگا۔ اگرہندوستان اپنے بقیہ دو میچوں میں سے کوئی بھی ہارتا ہے، تو اس کا سفر سپر۸؍ مرحلے پر ختم ہو جائے گا، کیونکہ جنوبی افریقہ کے خلاف شکست کے بعد ٹیم انڈیا کا نیٹ رن ریٹ منفی میں چلاگیا ہے۔ٹیم انڈیا کے لیے، سیمی فائنل میں پہنچنا اب نہ صرف ان کی اپنی کوششوں پر بلکہ گروپ ایک میں موجود دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی منحصر ہوگا۔ جنوبی افریقہ کے لیے سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے بقیہ دونوں میچ جیت لے اور ہندوستان کو بھی اپنے بقیہ دونوں میچوں کو جیتنا ہے۔