Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کا۷۰؍ فیصد غزہ پر قبضے کا حکم، یواین کا اعلان’ پوری زمین اہل فلسطین کی‘

Updated: May 30, 2026, 6:04 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنی فوج کو غزہ کے ۷۰؍ فیصد حصے پر قبضے کا حکم دیا، جبکہ اقوام متحدہ نے اس کی سرزنش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پوری فلسطینی سرزمین فلسطینیوں کے لیے ہونی چاہیے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے فوج کو غزہ کی پٹی کے۷۰؍ فیصد حصے پر قبضہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کی تازہ ترین خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی دفاعی وزیر نے فلسطینیوں کی نسلی صفائی کے منصوبوں کا اعادہ بھی کیا ہے۔ جب سامعین نے غزہ پر مکمل اسرائیلی کنٹرول کی حمایت میں نعرے لگائے تو نیتن یاہو نے کہا کہ پہلے ۷۰؍ فیصد حاصل کریں گے۔اس سے ایک دن قبل اسرائیلی دفاعی وزیر اسرائیل کاٹز نے فلسطینیوں کی غزہ سے نسلی صفائی کے منصوبے کا اعادہ کیا تھا، جسے اس نے ’’رضاکارانہ نقل مکانی‘‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی اسرائیلی جاسوس جوناتھن پولارڈ کا اسرائیل کو مصر اور ترکی پر حملے کا مشورہ

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان اکتوبر میں امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ اسرائیل غزہ پر قبضہ یا الحاق نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی کو وہاں سے جانے پر مجبور کیا جائے گا۔ اس وقت اسرائیلی افواج غزہ کے۵۳؍ فیصد حصے پر قابض تھیں، جو اب بڑھ کر۶۰؍ فیصد ہو گیا ہے۔بعد ازاںاسرائیلی قبضے کی ۷۰؍ فیصد تک توسیع غزہ کے۲۲؍ لاکھ فلسطینیوں کو صرف۱۰۹؍ مربع کلومیٹر زمین پر محدود کر دے گی۔تاہم اقوام متحدہ نے نیتن یاہو کے اس حکم کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ پوری فلسطینی سرزمین فلسطینیوں کے لیے ہونی چاہیے۔اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ ’’غزہ کا۱۰۰؍ فیصد حصہ فلسطینی عوام کے لیے ہونا چاہیے، ہم یہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم اسرائیل سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ نام نہاد’’ پیلی لکیر ‘‘سے اپنا قبضہ ختم کرے، اور یہی ہمارا موقف رہے گا۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جنسی تشدد، اقوام متحدہ نے اسرائیل کو بلیک لسٹ کردیا

واضح رہے کہ جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اسرائیل پر۳۰۰۰؍ سے زائد خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اس دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم۹۲۲؍ فلسطینی شہید ہوئے، جن میں۲۲۹؍ بچے شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اکتوبر۲۰۲۳ء سے اب تک اسرائیلی حملوں میں غزہ میں کم از کم۷۲۸۰۰؍ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔بعد ازاں حماس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں کی وجہ سے غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK