تہران نے ٹرمپ کے اس دعوے کے بعدکہ امریکہ جنگ کے خاتمہ کے بہت قریب ہے، یہ شرائط پیش کی ہیں ۔
EPAPER
Updated: March 23, 2026, 12:00 PM IST | New Delhi
تہران نے ٹرمپ کے اس دعوے کے بعدکہ امریکہ جنگ کے خاتمہ کے بہت قریب ہے، یہ شرائط پیش کی ہیں ۔
ایران نے مشرق وسطیٰ میں اتوار کو۲۳؍ ویں دن میں داخل ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نئے قانونی اور اسٹرٹیجک فریم ورک کے حصے کے طور پر ۶؍ شرائط کا خاکہ پیش کیا ہے۔ وہ ۶؍ شرائط اس طرح ہیں :۱) آبنائے ہرمز کیلئے ایک نئے قانونی ڈھانچے کا قیام۲) جنگ کی تکرار کو روکنے کی ضمانت۳) خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی بندش۴) اسلامی جمہوریہ ایران کو معاوضے کی ادائیگی۵) تمام علاقائی محاذوں پر جنگوں کا خاتمہ اور۶) ایران کی دشمن سمجھی جانے والی میڈیا شخصیات کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور حوالگی۔
ایران کی یہ تجاویز صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سنیچر کے روز یہ دعویٰ کرنے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہیں کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کوششوں کو سمیٹنے کے مقاصد کو پورا کرنے کے `بہت قریب پہنچ رہا ہے، اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کی کارروائیوں کو سمیٹنے پر غور کر رہا ہے۔
ایران کی مہرنیوز ایجنسی نے ایک نامعلوم سینئر سیاسی اور سیکوریٹی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران، امریکہ-اسرائیل کے خلاف اپنی دفاعی جنگ میں پہلے سے تیار، کثیر مرحلے کے منصوبے پر عمل درآمد کر رہا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ حکمت عملی مہینوں پہلے تیار کی گئی تھی اور اسے ’اعلی حکمت عملی صبر ‘ کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے۔
اہلکار نے کہا کہ پورے خطے میں امریکی اور اسرائیلی فضائی دفاعی نظام اور ریڈار انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے اور تباہ کرنے کے بعد، ایران نے اب اسرائیلی ادارے کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول قائم کر لیا ہے۔
اہلکار نے کہا کہ ایران ’جارح کو سزا دینے ‘ کی اپنی پالیسی کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے جب تک کہ وہ امریکی اسرائیلی جارحیت اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ’تاریخی سبق ‘ کے طور پر پیش نہ کر دے۔ کئی علاقائی جماعتوں اور ثالثوں نے جنگ کو ختم کرنے کے مقصد سے تہران کو تجاویز پہنچائی ہیں۔ تاہم، ایران نے ایسی شرائط رکھی ہیں جنہیں کسی بھی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے پوری کرنا اور سنجیدگی سےغور کرنا ضروری ہے۔