Inquilab Logo Happiest Places to Work

عرب خطے میں ۲۴؍ اگست سے موسم کی تبدیلی کا آغاز، سہیل ستارہ نمودار ہوگا

Updated: August 17, 2026, 9:57 PM IST | Dubai

سہیل ستارے کی۲۴؍ اگست کو نمود عرب خطے میں موسم کی تبدیلی اور شدید گرمی کے زور ٹوٹنے کی روایتی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین فلکیات کے مطابق اس کے ظہور کے بعد درجۂ حرارت میں بتدریج کمی، نمی اور صبح کی دھند کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

The appearance of the Sohail star in Arabia heralds the end of the hot season and the beginning of the mild season. Photo: INN
عرب میں سہیل ستارہ کی نمود گرم موسم کے اختتام اور معتدل موسم کے آغاز کی نوید ہے۔ تصویر: آئی این این

متحدہ عرب امارات اور وسطی جزیرۂ عرب میں ۲۴؍اگست کو سہیل ستارے کی موسمی نمود پہلی بار نظر آئے گی، جو روایتی طور پر شدید گرمی کی بتدریج شدت میں کمی اور نسبتاً معتدل موسم کی جانب منتقلی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ امارات فلکیاتی سوسائٹی کے چیئرمین اور عرب یونین برائے فلکیات و خلائی علوم کے رکن ابراہیم الجروان نے کہا کہ عام طور پر ۲۰؍اگست کے بعد درجۂ حرارت میں بتدریج کمی شروع ہوجاتی ہے۔ تاہم، ستمبر کے اختتام تک گرم موسم برقرار رہتا ہے، جس کے ساتھ زیادہ نمی اور صبح کے وقت دھند بھی پیدا ہوتی ہے۔ 
الجروان نے کہا کہ عرب روایت میں سہیل کے نمودار ہونے کو طویل عرصے سے موسمی تبدیلیوں سے منسلک کیا جاتا رہا ہے۔ کسان آئندہ زرعی موسم کی تیاری شروع کردیتے ہیں، جبکہ سمندر کے درجۂ حرارت میں بتدریج کمی کے ساتھ مچھلیاں ساحل کے قریب آجاتی ہیں۔ یہ دور ’الصُفریہ‘ کے آغاز کی بھی علامت ہے، جسے روایتی طور پر نسبتاً معتدل موسموں میں پہلا موسم سمجھا جاتا ہے اور اس دوران مفید بارشوں کی توقع کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کی پارٹی کےانتخابی اشتہار میں ممدانی، اردگان کو خامنہ ای، حزب اللہ سربراہ کےساتھ دکھایاگیا

سہیل، جسے سائنسی طور پر ’کینوپس‘ (Canopus) کہا جاتا ہے، سیریئس کے بعد رات کے آسمان کا دوسرا سب سے روشن ستارہ ہے۔ ۲۴؍ اگست سے اسے جزیرۂ عرب کے وسطی علاقوں میں طلوعِ فجر سے کچھ دیر پہلے جنوب مشرقی افق کے اوپر دیکھا جاسکتا ہے۔ الجروان نے بتایا کہ یہ ستارہ سورج طلوع ہونے سے تقریباً۳۰؍ منٹ پہلے جنوب مشرقی افق کے قریب نظر آتا ہے۔ اس کی نمود مئی کے اوائل میں جنوب مغربی افق کے نیچے غائب ہونے کے تقریباً ساڑھے تین ماہ بعد ہوتی ہے۔ چونکہ کینوپس آسمان میں بہت جنوب کی جانب واقع ہے، اس لئے خطِ عرض۳۸؍ ڈگری کے شمال میں واقع بہت سے علاقوں سے اسے دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم، جزیرۂ عرب میں اس کی سالانہ نمود کو صدیوں سے موسمی تبدیلیوں کی ایک اہم فلکیاتی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ ستارہ پہلے جنوبی علاقوں میں نظر آتا ہے اور اس کے بعد مزید شمالی علاقوں میں دکھائی دینے لگتا ہے۔ بتا دیں کہ کینوپس زمین سے تقریباً۳۱۰؍ نوری سال کے فاصلے پر ہے، یعنی آج جو روشنی ہمیں دکھائی دیتی ہے، اس نے تقریباً۳۱۰؍ سال پہلے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK