Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز بند ہونے سے ایران کو روزانہ ۵۰؍ کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان: ٹرمپ

Updated: April 22, 2026, 1:02 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اس کی بندش سے انہیں روزانہ ۵۰؍ کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

Donald Trump.Photo:INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این

 ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہاکہ ’’وہ (ایران) اسے کھلا رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ یومیہ ۵۰؍ کروڑ امریکی ڈالر کما سکیں۔‘‘  ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کہہ رہا ہے کہ وہ اسے بند کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی ساکھ بچانا  چاہتے ہیں، جب کہ امریکہ نے اس کی مکمل طور پر ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار روز قبل کچھ لوگوں نے ان سے رابطہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ ایران اس آبنائے کو فوری طور پر کھولنا چاہتا ہے۔ 
ٹرمپ نے وارننگ دیتے ہوئے کہاکہ لیکن اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ایران کے ساتھ کبھی کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا، جب تک کہ ہم ان کا بقیہ ملک اور ان کے لیڈروں کو بھی اڑا کر نہ رکھ دیں۔‘‘ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈروں اور امریکی میڈیا، خاص طور پر وال سٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز پر اپنا حملہ جاری رکھتے ہوئے،  ٹرمپ نے کہا کہ انہیں آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کو نیچا دکھانے  یا اس کی تنقید کرنے کی اجازت کبھی نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن نے جوہری مقامات کو اس حد تک مکمل تباہ کر دیا ہے کہ خون کے پیاسے ایران  ان تک پہنچنے یا کھود کر نکالنے سے قاصر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:آبنائے ہرمز کے لیے فوجی منصوبہ بندی کیلئے برطانیہ اور فرانس کی عالمی کانفرنس


انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی خلائی فورس کے پاس پچھلے جون میں حملہ کیے گئے تینوں مقامات کے ہر انچ پر کیمرے کی نگرانی ہے۔ آپریشن مڈ نائٹ ہیمر ۲۲؍ جون  ۲۰۲۵ء کو ایران کی اہم جوہری تنصیبات کے خلاف امریکی فوجی حملوں کا خفیہ نام ہے۔ ان حملوں کا بنیادی مرکز تین بنیادی جوہری انفراسٹرکچر سائٹس  فورڈو یورینیم افزودگی پلانٹ، نتنز جوہری تنصیب اور اصفہان نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینٹر تھے۔

یہ بھی پڑھئے:علی فضل۲۰۲۶ء میں متضادرول اداکرنے کے لیے پرجوش


اس آپریشن میں امریکی فضائی اور بحری طاقت کا زبردست مظاہرہ پیش کیا گیا، جس میں ۷ بی-۲؍ اسپرٹ اسٹیلتھ بمبار شامل تھے، جنہوں نے براہ راست امریکہ سے۱۸؍ گھنٹے کا مشن چلایا۔ اس میں پہلی مرتبہ جنگ میں استعمال کیے جانے والے ۳۰؍ ہزار پاؤنڈ کے بنکر بسٹر بم، ایک امریکہ آبدوز سے داغے گئے ۳۰؍ ٹومہوک میزائل اور ایرانی فضائی دفاع ہو تباہ کرنے کے لیے ایف-۳۵؍ اور ایف-۲۲؍ اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں سمیت ۱۲۵؍ سے زیادہ طیارے شامل تھے۔امریکی حکام اور سیٹیلائٹ تصاویر کے مطابق، ان سائٹس کو ’’انتہائی شدید نقصان‘‘ پہنچا۔ پینٹاگون کا اندازہ ہے کہ ان حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو تقریباً دو سال پیچھے کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK