کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ۲۰۲۸ءکے اسمبلی انتخابات نہ لڑنے اور انتخابی سیاست سے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے موجودہ سیاست کو بدعنوان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیاست میں سرگرم رہیں گے، مگر آئندہ کوئی انتخاب نہیں لڑیں گے۔
EPAPER
Updated: July 27, 2026, 5:06 PM IST | Bengaluru
کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ۲۰۲۸ءکے اسمبلی انتخابات نہ لڑنے اور انتخابی سیاست سے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے موجودہ سیاست کو بدعنوان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیاست میں سرگرم رہیں گے، مگر آئندہ کوئی انتخاب نہیں لڑیں گے۔
کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ انتخابی سیاست سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ کانگریس کے سینئرلیڈر نے کہا کہ وہ۲۰۲۸ءکے اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے کیونکہ ان کے بقول ’’سیاست کا میدان بدعنوانی سے آلودہ ہو چکا ہے۔ ‘‘ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ وہ سیاست میں سرگرم رہیں گے۔ ۷۸؍ سالہ سدارامیا کرناٹک کے طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔ انہوں نے دو مختلف ادوار میں مجموعی طور پر آٹھ برس سے زیادہ عرصہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کی پہلی مدت۲۰۱۳ء سے ۲۰۱۸ءتک رہی، جبکہ دوسری مدت مئی۲۰۲۳ءمیں شروع ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: بہار احتجاج: پولیس کریک ڈاؤن، ۴۰۰؍ سے زائد مظاہرین گرفتار
جون۲۰۲۶ءمیں انہوں نے کانگریس قیادت کی ہدایت پر ۲۸؍مئی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا تاکہ نئے وزیر اعلیٰ کیلئے راستہ ہموار کیا جا سکے۔ ان کی جگہ ۳؍ جون کو کانگریس کےلیڈر ڈی کے شیوکمار نے وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالا۔
اتوار کو ضلع منڈیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ ان کے حلقۂ انتخاب ورونا کے عوام انہیں آئندہ اسمبلی انتخابات لڑنے پر زور دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’لیکن میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ آئندہ کسی بھی انتخاب میں حصہ نہیں لوں گا۔ پہلے جب میں انتخابات لڑتا تھا تو حلقے کے عوام خود چندہ جمع کرکے ہمیں کامیاب بناتے تھے، مگر اب حالات ایسے نہیں رہے۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ جب اگلے اسمبلی انتخابات ہوں گے تو ان کی عمر۸۰؍ برس ہوگی اور اب ان کی صحت بھی پہلے جیسی مضبوط نہیں رہی۔ کرناٹک اسمبلی کے اگلے انتخابات مئی۲۰۲۸ء میں متوقع ہیں۔ سدارامیا نے مزید کہا، ’’اب وقت ایسا آ گیا ہے کہ اگر کوئی انتخابات لڑنا چاہے تو اسے ووٹروں کو پیسہ دینا پڑتا ہے۔ آج کی سیاست مکمل طور پر بدعنوان ہو چکی ہے۔ دیانت دار سیاست کیلئے کوئی جگہ باقی نہیں رہی، اسی لئے میں نے مستقبل میں انتخابات نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: مودی سرکار کو اَب لاٹھی چارج پر جوابدہی کا سامنا
وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد سدارامیا کو کانگریس ورکنگ کمیٹی، جو پارٹی کی اعلیٰ ترین انتظامی باڈی ہے، کا رکن بنایا گیا تھا۔ ادھر، اطلاعات کے مطابق سدارامیا، وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور کرناٹک کانگریس کے صدر بی کے ہری پرساد پیر کو دہلی روانہ ہونے والے تھے، جہاں کانگریس کی اعلیٰ قیادت سے ممکنہ ملاقات میں ریاستی کابینہ میں توسیع کیلئے امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دی جائے گی۔