Updated: July 27, 2026, 5:32 PM IST
| New Delhi
سی آر پی ایف کی اندرونی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ۲۰؍ جولائی کو دہلی میں CJP کے ’’چلو سنسد‘‘ مارچ کے دوران ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کے ایک اہلکار نے پیلٹ گن سے سات راؤنڈ فائر کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم پانچ مظاہرین زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق اہلکار نے اپنی کارروائی کی پیشگی اطلاع نہ دی اور نہ ہی بعد میں اس کی رپورٹ درج کرائی، جس کے بعد محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
آر اے ایف کے جوان طلبہ کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے، دوسری تصویر میں راہل گاندھی پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے نوجوان کو دکھاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
دہلی میں ۲۰؍ جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے نکالے گئے ’’چلو سنسد‘‘ مارچ کے دوران مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے متعلق سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) کی ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کے ایک اہلکار نے احتجاج کے دوران پیلٹ گن سے سات راؤنڈ فائر کیے، جن میں سے پانچ پیلٹ مظاہرین کو لگے اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مذکورہ اہلکار نے نہ تو اپنے کمانڈنگ افسر سے فائرنگ کی اجازت لی اور نہ ہی واقعے کے بعد قواعد کے مطابق اسلحے کے استعمال کی رپورٹ جمع کرائی۔ سی آر پی ایف نے اس عمل کو معیاری طریقۂ کار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے محکمانہ تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ اہلکار کے خلاف مزید کارروائی بھی زیر غور ہے۔
یہ بھی پڑھئے: احتجاج ہونے سے لاٹھی چارج جائز نہیں ہو جاتا؛ سپریم کورٹ
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ پیلٹ گن کے استعمال سے کم از کم تین زخمیوں کو اسپتال میں علاج فراہم کرنا پڑا، جبکہ مجموعی طور پر پانچ مظاہرین کو پیلٹ لگنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ بعض زخمیوں کے چہرے اور آنکھوں کے قریب شدید زخم آئے، جن میں سے ایک شخص کی سرجری بھی کی گئی تھی۔ یہ انکشاف اس لیے بھی اہم ہے کہ واقعے کے فوراً بعد دہلی پولیس نے احتجاج کے دوران پیلٹ گن استعمال کیے جانے کی خبروں کو ’’گمراہ کن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دہلی پولیس کے پاس ایسی ہتھیار موجود ہی نہیں ہیں۔ تاہم تازہ تحقیقات میں واضح کیا گیا کہ فائرنگ دہلی پولیس نے نہیں بلکہ CRPF کی ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کے ایک اہلکار نے کی تھی، جو اس روز ہجوم پر قابو پانے کی ذمہ داری انجام دے رہا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی حکومتیں فوری طور پر گرفتار مظاہرین کو رہا کریں: سی جے پی کا مطالبہ
واقعے کے بعد سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل نے اعلان کیا ہے کہ پوری کارروائی کا ’’پروفیشنل پوسٹ ایونٹ اسیسمنٹ‘‘ کیا جائے گا تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ طاقت کے استعمال کے فیصلے کس بنیاد پر کیے گئے، کیا قواعد کی پابندی کی گئی اور مستقبل میں ایسے واقعات سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت مزید حساس ہو گیا جب سپریم کورٹ نے حالیہ سماعت کے دوران ریمارک دیا کہ ’’صرف احتجاج ہونے کی وجہ سے لاٹھی چارج یا طاقت کا استعمال جائز نہیں ہو جاتا۔‘‘ عدالت نے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی، مظاہرین کی شکایات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات سے متعلق درخواستوں پر تفصیلی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’من کی بات‘ میں وزیر اعظم کی پانی کے تحفظ کی خصوصی اپیل
ادھر اپوزیشن جماعتوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے تحقیقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اہلکار نے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف شفاف کارروائی کی جائے۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی کسی فرد کی ذمہ داری کا باضابطہ تعین کیا جائے گا۔