• Wed, 14 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایرانی کرنسی بری طرح کریش، ریال صفر ڈالر کے برابر ہو گیا

Updated: January 14, 2026, 5:43 PM IST | Tehran

ایران میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، ایسے میں ایرانی ریال کی قدر بری طرح گرگئی ہے اور ریال تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ایرانی ریال کی قدر صفر ڈالر کے برابر ہو گئی ہے۔

Iran Rial.Photo:INN
ایران ریال۔ تصویر:آئی این این

ایران میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، ایسے میں ایرانی ریال کی قدر بری طرح گرگئی ہے اور ریال تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔  میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی ریال کی قدر صفر ڈالر کے برابر ہو گئی ہے جب کہ یورو کے مقابلے میں بھی ایرانی ریال کی قیمت صفر ہو گئی ہے۔
ایران اس وقت شدید معاشی بحران کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ ایک بڑے دھچکے کے طور پر ایرانی کرنسی ریال نے یورپ میں عملی طور پر اپنی قدر گنوا دی ہے اور یورو کے مقابلے میں اس کی قیمت صفر ہو چکی ہے۔ 
قدر ختم ہونے کے باعث ایرانی ریال کو اب یورپی ممالک میں تبدیل (ایکسچینج) نہیں کیا جا سکتا، جس سے ایران عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ ہو گیا ہے۔ ملک کے اندر صورتِ حال انتہائی خراب ہو چکی ہے، جہاں عام شہری بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں۔ ۱۹۷۹ءکے ایرانی انقلاب کے وقت ڈالر کی تجارت تقریباً ۷۰؍ ریال تھی۔ چار دہائیوں سے زیادہ کے بعد اب شرح مبادلہ ۴ء۱؍ملین سے بھی زیادہ ہو چکا ہے، یعنی ریال اپنی قدر تقریباً ۲۰؍ہزار گنا کم کرچکا ہے۔ 
اس سنگین معاشی انہدام نے پورے ایران میں وسیع پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا ہے، جہاں مظاہرین اب کھلے عام نظامِ حکومت میں تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ یہ احتجاج ۲۸؍ دسمبر کو شروع ہوئے، جن کی ابتدا تاجروں اور کاروباری افراد نے کی، جو تیزی سے کمزور ہوتی معیشت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ریال کی قدر میں شدید گراوٹ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ 
ایرانی کرنسی کی یہ گراوٹ غیر معمولی ہے، ہندوستانی  روپے کے مقابلے میں ریال کی قدر اب صرف۹۱۰۰۰۰ء۰؍ پیسے رہ گئی ہے، جب کہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں یہ تقریباً۰۰۰۰۰۱۰ء۰ سینٹ تک گرچکی ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ یورو کے مقابلے میں ریال کی قدر صفر ہو گئی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب یورپی یونین کے تمام ۲۷؍ممالک میں ریال نہ تو قابلِ قبول ہے اور نہ ہی قابلِ تبادلہ۔ 
اگرچہ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ریال  مکمل طور پر تباہ  ہو چکا ہے، تاہم ماہرین وضاحت کرتے ہیں کہ جب تک کوئی ملک فعال ہے، اس کی کرنسی حقیقتاً صفر نہیں ہو سکتی۔ موجودہ صورت حال دراصل قوتِ خرید میں شدید کمی، غیر معمولی قدر میں گراوٹ اور ممکنہ طور پر کرنسی کی ازسرِ نو قدر بندی (ری ڈینومینیشن) کی عکاس ہے۔ 
اکتوبر۲۰۲۵ء میں ایرانی پارلیمان نے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت ریال سے چار صفر ختم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے لیے دو سالہ تیاری اور تین سالہ منتقلی کا عرصہ مقرر کیا گیا ہے اور اس دوران پرانے اور نئے نوٹ بیک وقت گردش میں رہیں گے۔  تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام کاغذی سطح پر کرنسی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے ایک عارضی ری سیٹ  ہے، تاہم یہ بنیادی معاشی مسائل جیسے کہ مہنگائی، کمزور اقتصادی نمو اور غیر ملکی کرنسی تک محدود رسائی کا حل نہیں ہے۔ 
امریکی اور بین الاقوامی پابندیاں: برآمدات، خصوصاً تیل سے حاصل ہونے والے ڈالر تک رسائی محدود ہونے کے باعث ریال پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’کشمیر فائلز‘‘ بنائیں، ٹیکس معاف کرائیں: ’’اکیس‘‘ کی اداکارہ سہاسنی مولے ٹرولز پر برہم

شدید مہنگائی: دسمبر ۲۰۲۵ء میں صارفین کی قیمتوں میں۵ء۴۲؍ فی صد اضافہ ہوا، جس کے باعث شہری نقد رقم رکھنے کی بجائے غیر ملکی کرنسی، سونا یا ضروری اشیا خریدنے پر مجبور ہو گئے۔ 
کمزور معاشی نمو:۲۰۲۵ء میں ایران کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی )  میں ۷ء۱؍ فی صد کمی ہوئی، جب کہ ۲۰۲۶ء میں مزید سکڑاؤ کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جس سے سرکاری آمدنی اور مالی استحکام متاثر ہوا ہے۔ 
پالیسی میں تبدیلیاں: حالیہ اصلاحات کے تحت درآمد کنندگان کو کھلی منڈی کی شرح پر غیر ملکی کرنسی خریدنے کا پابند بنایا گیا، جس سے اچانک ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا۔ 

یہ بھی پڑھئے:نئی نسل بمقابلہ جوکووچ: کیا جوکووچ اپنا ریکارڈ ساز ۲۵؍واں گرینڈ سلیم جیت پائیں گے؟

سیاسی بے چینی: مذہبی قیادت اور معاشی بدانتظامی کے خلاف جاری احتجاج نے ایک اضافی  رسک پریمیم  پیدا کر دی ہے، جس سے کرنسی کی قدر میں گراوٹ مزید تیز ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK