تہران سمیت کئی شہروں میں مظاہرے ،حملے کے ۴۰؍ دن مکمل ہونے اور جنگ بندی کا اعلان ہونے کے بعد سیکڑوں افراد نے ایرانی پرچم کے ساتھ مارچ کیا
EPAPER
Updated: April 08, 2026, 11:18 PM IST | Tehran
تہران سمیت کئی شہروں میں مظاہرے ،حملے کے ۴۰؍ دن مکمل ہونے اور جنگ بندی کا اعلان ہونے کے بعد سیکڑوں افراد نے ایرانی پرچم کے ساتھ مارچ کیا
ایران کے دارالحکومت سمیت متعدد شہروں میں ہزاروں افراد نے جنوبی شہر میناب کے اسکول پر ہونے والے مہلک حملے کے چالیس دن مکمل ہونے پربڑے اجتماعات میں شرکت کی اور اس حملے میں شہید ہونے والی ۱۶۵؍ طالبات کو نم آنکھوں سے خراج عقیدت پیش کیا۔ واضح رہے کہ اس خونیں حملے میں ۱۶۸؍ افراد جاں بحق ہوئے تھے جن میں سے ۱۶۵؍ طالبات تھیں اور ان میں سے بھی ۱۱۰؍ بچیاں تھیں۔ یہ حملہ ۲۸؍فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے پہلے ہی دن پیش آیا تھا۔ اس پر پوری دنیا کی جانب سے مذمت کی گئی تھی اور امریکہ اور اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔
اس سلسلے میںتہران میںمنعقد ہونے والی تعزیتی تقریب میں تقریباً ۲۰؍ ہزار افراد نے شرکت کی۔ یہ تمام عام شہری تھے جنہوں نے ایرانی پرچم اٹھارکھے تھے جو نعرے بلند کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والی بچیوں کی تصاویر اٹھا کر انصاف کا مطالبہ کررہے تھے۔ تقریب میں خواتین، مردوں اور بچوں کی بڑی تعداد شریک تھی، جنہوں نے اس واقعے کو ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ قرار دیا۔ایک ایرانی خاتون کو مظاہرے کے دوران ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تصویر کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے بھی دیکھا گیا ۔
ایران کے دیگر شہروں میں بھی اسی طرح کے مظاہرے ہوئے اور امریکی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس حملے کے خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق اس خصوصی مظاہرے میںپورے ملک میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی ۔ میناب میں ہونے والے مظاہروں میں بچیوں کی تصاویر پر پھول چڑھائے گئے جبکہ ایک منٹ کا خاموش احتجاج بھی کیا گیا اور اس کے بعد امریکہ اور اسرائیل مخالف نعرے لگائے گئے۔ یہاں کے مقامی انتظامیہ نے احتجاج کو بحسن و خوبی منعقد کرنے کے لئے بہت سے انتظامات کئے تھے ۔ میناب میں توقع تھی کہ بڑا احتجاج ہو گا ۔ اسی لئے مقامی انتظامیہ نے تمام تیاریاں کی تھیں اور مظاہرہ کو پرامن بنائے رکھنے میں اہم رول ادا کیا۔