Updated: May 24, 2026, 8:01 PM IST
| Washington
امریکی مرکزی کمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی ناکہ بندی کے دوران اب تک ۱۰۰؍ بحری جہازوں کا رخ موڑا گیا، سینٹ کام نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ اس کارووائی میں امریکی مسلح افواج کی مختلف شاخوں کے۱۵؍ ہزار سے زیادہ اہلکاروں، جن میں فوجی، ملاح، میرینز اور فضائیہ کے اہلکار شامل ہیں۔
امریکی بحریہ۔ تصویر: ایکس
ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کے جاری رہنے کے ساتھ ہی امریکی مرکزی کمان ’’سینٹ کام ‘‘نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے محاصرے کے آغاز سے اب تک ۱۰۰؍تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا ہے۔ سینٹ کام نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران امریکی مسلح افواج کی مختلف شاخوں کے۱۵؍ ہزار سے زائد اہلکاروں، جن میں فوجی، ملاح، میرینز اور فضائیہ کے اہلکار شامل ہیں، نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔اس کے علاوہ چار دیگر بحری جہازوں کو روکا اور انسانی امداد سے لادے ہوئے۲۶؍ بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت بھی دی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کھلنے کے دعوے کو ایرانی میڈیا نے ’’حقیقت سے دور‘‘ قرار دیا
۲۰۰؍سے زیادہ طیارے اور جنگی جہازکی تعیناتی
دریں اثناء امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ہماری مسلح افواج کے اہلکار غیر معمولی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس مشن کو پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دینے میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والی کسی بھی تجارتی سرگرمی کو روک دیا ہے جس نے ایران پر شدید معاشی دباؤ ڈالا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق اس مشن میں۲۰۰؍ سے زیادہ امریکی طیارے اور جنگی بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں طیارہ بردار بحری جہاز ’’ابراہام لنکن‘‘، ’’جارج ایچ ڈبلیو بش‘‘ کاحملہ آور بیڑہ اور ’’ٹریپولی ایمفیبیئس کے علاوہ متعدد گائیڈیڈ میزائل شکن جہاز شامل ہیں۔
واضح رہے کہ یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیر کو اپنے ملک کی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کے معاشی نتائج کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے پاس تیل برآمد کرنے اور پیٹرول درآمد کرنے کے لیے ڈالر حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے طاقت کا استعمال تنازع کو بڑھا دے گا‘‘
یاد رہے کہ ۱۳؍ اپریل سے واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں پر ایک سخت بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے جس کے تحت تجارتی بحری جہازوں کو وہاں سے نکلنے یا داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ محاصرہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا۔ دوسری طرف ایران نے جوہری معاملے پر کسی بھی مذاکرات سے پہلے اپنی بندرگاہوں سے محاصرہ ختم کرنےکی شرط رکھی ہے۔بعد ازاں ایران نے۲۸؍فروری سے تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔