Inquilab Logo Happiest Places to Work

میٹ گالا ۲۰۲۶ءمیں ایشا امبانی نے ہندوستانی روایتی فیشن کے ساتھ شرکت کی

Updated: May 05, 2026, 9:27 AM IST | Paris

ایشا امبانی نے میٹ گالا ۲۰۲۶ء میں ہندوستانی فیشن اور فن کی بھرپور نمائندگی کی۔ انہوں نے ڈیزائنرگورو گپتا کی تیار کردہ ایک خاص ساڑھی پہنی، جس میں ہاتھ سے بنائے گئے پچوائی طرز کے نقش و نگار اور ایک مجسماتی کیپ شامل تھی، جو گپتا کی پہچان ہے۔

Isha Ambani.Photo:X
ایشا امبانی۔ تصویر:ایکس

ایشا امبانی نے میٹ گالا ۲۰۲۶ء میں ہندوستانی فیشن اور فن کی بھرپور نمائندگی کی۔ انہوں نے ڈیزائنرگورو گپتا  کی تیار کردہ ایک خاص ساڑھی پہنی، جس میں ہاتھ سے بنائے گئے پچوائی طرز کے نقش و نگار اور ایک مجسماتی کیپ شامل تھی، جو گپتا کی پہچان ہے۔یہ ساڑھی سودیش کے ہنرمندوں نے خالص سونے کے دھاگوں سے تیار کی تھی، جو کہ ریلائنس ریٹیل کا ایک برانڈ ہے جو صرف کاریگروں کی مصنوعات پیش کرتا ہے۔


بلاؤز میں اصلی ہیرے جڑے ہوئے تھے، جبکہ اس کے پچھلے حصے کو نظام کے زیورات کے ذخیرے سے تعلق رکھنے والے ایک شاندار سرپیچ سے مزین کیا گیا تھا۔ایک انٹرویو میں ایشا امبانی  نے کہاکہ ’’یہ بلاؤز میری والدہ کے زیورات سے بھرا ہوا ہے۔‘‘ ڈیزائنرگورو نے انسٹاگرام پر لکھا’’اس لباس (بلاؤز) میں ۱۸۰۰؍ قیراط سے زائد ہیرے، زمرد، پولکی اور کندن جڑے ہوئے ہیں، جو اسے ایک جیتی جاگتی وراثت بنا دیتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:’’تھری ایڈیٹس‘‘ کے سیکوئل میں وکی کوشل کا داخلہ؟


ایشا امبانی کے اس شاندار لک کی تفصیلات یہیں ختم نہیں ہوتیں۔ انہوں نے اپنے ساتھ ایک کروشیے بیگ میں آم کی ایک مجسمہ بھی رکھا، جو فنکار سبودھ گپتا کا بنایا ہوا تھا۔ یہ مجسمہ نہ صرف بھارت کی ثقافت کی علامت تھا بلکہ اس سال کے تھیم فیش از آرٹ کی بہترین عکاسی بھی کرتا تھا۔ سبودھ گپتا ایک معروف ہندوستانی معاصر فنکار ہیں، جو روزمرہ اشیاء جیسے برتن اور کھانے کو بڑے فن پاروں میں تبدیل کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:بنگال: بگڑ گئے سُر تال، ممتا کا قلعہ مسمار، بی جےپی ۲۰۰؍ پار


اپنے لک میں مزید ہندوستانی رنگ شامل کرتے ہوئے، انہوں نے بالوں میں گجرا سے متاثر ایک آرٹسٹک ایکسیسری بھی استعمال کی، جسے بروکلین میں مقیم آرٹسٹ سوربھ گپتا نے کاغذ، تانبا اور پیتل سے ہاتھ سے تیار کیا تھا۔ایشانے یکم مئی کو نیو یارک میں پری میٹ گالا تقریب میں بھی ایک منفرد بینڈیج ڈریس پہن کر ہندوستان کی نمائندگی کی، جس میں 26 مختلف اقسام کی بارڈرز شامل تھیں، جو ملک کے مختلف علاقوں اور ہنر کی عکاسی کرتی تھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK