Inquilab Logo Happiest Places to Work

تمل ناڈو میں ’وجے‘کی جیت

Updated: May 05, 2026, 9:49 AM IST | Agency | Chennai

تمل ناڈو: پہلی مرتبہ انتخابی میدان میں اُتری فلم اداکار وجے تھلاپتی کی پارٹی ۱۰۷؍ سیٹوں پر کامیاب،ڈی ایم کے کو۶۰؍ اور’ آل انڈیا انا ڈی ایم کے ‘ کو ۴۷؍سیٹیں ملیں، کانگریس ۵؍سیٹوں پر سمٹی۔

Tamil Nadu Superstar Vijay Thalapathy Among His Supporters.Photo:INN
اپنے حامیوں میں تمل ناڈو کے سُپر اسٹار وجے تھلاپتی-تصویر:آئی این این
پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج میں سب سے زیادہ چونکا دینے والا نتیجہ تمل ناڈو سے برآمد ہوا ہے۔ یہاں پر دو سال قبل تشکیل دی گئی فلم اداکار وجے تھلا پتی کی پارٹی ’ٹی وی کے‘ نے شاندار جیت حاصل کرتے ہوئے پہلے ہی الیکشن میں اکثریت کے قریب پہنچ گئی ہے۔۲۳۴؍ رکنی اسمبلی میں اسے ۱۰۷؍ سیٹیں مل گئی ہیں جبکہ اس کی حریف جماعتیں ’ڈی ایم کے‘ اور’ آل انڈیا انا ڈی ایم‘ کے بالترتیب ۶۰؍ اور ۴۷؍سیٹوں پر کامیاب ہوئی ہیں۔ تمل ناڈو میں کانگریس محض ۵؍ سیٹوں پر سمٹ کرر ہ گئی ہے جبکہ مسلم لیگ کو ۲؍ سیٹیں ملی ہیں۔ ریاست میں حکومت سازی کیلئے کم از کم ۱۱۸؍ سیٹیں درکار ہیں جن سے وجے کی پارٹی ۱۱؍ سیٹیں دور ہیں۔ وجے کے والد چندرشیکھر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وجے کانگریس کے ساتھ اتحاد کرسکتے ہیں۔     
وجے تھلاپتی نے اپنی فلموں کی طرح بھرپور ایکشن کے ساتھ اپنے پہلے ہی انتخابی میدان میں دراوڑی سیاست کے مضبوط قلعے کو توڑ دیا۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جس کی توقع فی الحال کسی کو نہیں تھی۔ اس طرح انہوں نے خود کو ایک متبادل کے طور پر ثابت کیا جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا۔ انہوں نے تن تنہا اپنی پارٹی کو شاندار کامیابی دلائی۔ انہوں نے نہ صرف حکمراں ڈی ایم کے کو شکست دی بلکہ اے آئی اے ڈی ایم کے کو تیسرے نمبر پر دھکیل دیا۔وجے کی زبردست عوامی مقبولیت نے نصف صدی سے زائد عرصے سے قائم دراوڑی دو قطبی سیاست کو توڑ دیا۔ اس انتخاب میں وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن کو کولاتھور حلقے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ان کے کئی کابینی ساتھی بھی اپنی نشستیں ہار گئے۔ اسٹالن کو ان کے قریبی حریف اور سابق ’ڈی ایم کے‘ ایم ایل اے وی ایس بابو (ٹی وی کے) نےتقریباً ۹؍ہزار  ووٹوں کے فرق سے شکست دی، جو اُن کی چار انتخابات میں پہلی شکست ہے۔ 
 
 
وجے نے چنئی کے پرمبور اور تریچی ایسٹ دونوں ہی حلقوں سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ان نتائج کے ساتھ ہی تمل ناڈو نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یہاں فلم اور سیاست کا گہرا تعلق ہے۔ وجے نے اپنی مقبولیت کو ایک مضبوط سیاسی طاقت میں بدل دیا ہے جو اب مستقل حیثیت اختیار کر چکی ہے۔وہ خود کو ایک دراوڑی متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں، نہ کہ قوم پرست، کیونکہ۱۹۶۷ء کے بعد ہی سے قومی جماعتیں یہاں مضبوط متبادل پیش کرنے میں ناکام رہی ہیں، جب سی این انّا دورئی کی قیادت میں ڈی ایم کے نے کانگریس کو اقتدار سے ہٹایا تھا۔ 
 
 
 
۲۲؍ جون۱۹۷۴ء کو ایک بین مذاہب خاندان میں پیدا ہونے والے وجے نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنے والد ایس اے چندر شیکھر کی فلموں سے کیا۔گزشتہ دہائی میں کئی بلاک بسٹر فلموں کے ذریعے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور ان کے مداحوں کا ایک منظم نیٹ ورک وجود میں آیا جو سماجی خدمات اور سوشل میڈیا پر سرگرم ہے۔ اگرچہ وہ خود گریجویشن مکمل نہیں کر پائے، لیکن وہ تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنےوالے طلبہ کو اعزاز دینے کیلئے تقریبات منعقد کرتے رہے، جس سے ان کی عوامی ساکھ مزید مضبوط ہوئی۔ سیاست میں آنے سے پہلے بھی انہوں نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور جی ایس ٹی کے خلاف اپنی فلم ’سرکار‘ میں آواز اٹھائی تھی۔۲۰۲۱ءکے بلدیاتی انتخابات میں ان کے مداحوں نے حصہ لیا تھا جن میں سے کچھ کامیاب بھی ہوئے تھے۔’ٹی وی کے‘ کے قیام کے وقت وجے نے واضح کیا تھا کہ وہ اپنے عروج پر موجود فلمی کریئر کو چھوڑ کر سیاست میں آ رہے ہیں اور’جنا نایگن‘ ان کی آخری فلم ہوگی۔۵۱؍ سال کی عمر میں وہ اب وزیر اعلیٰ بننے کی راہ پر گامزن ہیں، اگرچہ سب سے کم عمر وزیر اعلیٰ بننے کا ریکارڈ جے للتا کے پاس ہے، جو۴۳؍ سال کی عمر میں اس منصب پر فائز ہوئی تھیں۔اپنے سیاسی بیانیے کے مطابق اب ان کا مقابلہ براہ راست ٹی وی کے اور ڈی ایم کے کے درمیان ہے جبکہ بی جے پی کو انہوں نے  اپنانظریاتی حریف قرار دیا ہے۔وہ اکثر سیکولرزم کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK