مہاراشٹر کے اپوزیشن لیڈرو ںکےمغربی بنگال اسمبلی الیکشن کے نتائج پر تاثرات ،ایس آئی آر کے ذریعہ ووٹروں کے نام حذف کرنے کو بی جے پی کی سازش قرار دیا۔
کولکاتا میں بی جےپی کے کارکن جشن مناتے ہوئے۔ تصویر:پی ٹی آئی
مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی یکطرفہ فتح پر مہاراشٹر میں اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ لیڈروں کی اکثریت کا کہنا ہےکہ بی جے پی نے مغربی بنگال کے انتخاب کو جیتنے کیلئے اپنا سب کچھ لگا دیا تھا یہاں تک کہ سرکاری ایجنسیوں کو بھی ان کی حمایتی پارٹیوں کے طرح استعمال کیا ۔ ان لیڈروں نے مغربی بنگال کے الیکشن سے عین قبل تقریباً ۹۰؍ لاکھ ووٹروں کے نام ووٹنگ لسٹ سے نکالنے کو بھی الیکشن جیتنے کی بی جے پی کی سازش قرار دیا اورالیکشن کمیشن پر شکایت پر کوئی شنوائی نہ کرنے پر الیکشن کمیشن کو بھی بی جے پی کی حمایتی پارٹی کہا۔درج ذیل میں مختلف اپوزیشن پارٹی کے لیڈروں کے تاثرات پیش کئے جارہے ہیں۔
مغربی بنگال میں مودی حکومت نے من مانی کی لیکن کیرالہ کے عوام کانگریس کے ساتھ
مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی ( ایم پی سی سی) کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ۵؍ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی )نےسام، دام ، دنڈ، بھید کی پالیسی کا استعمال کیا۔ مغربی بنگال میں مودی حکومت نے الیکشن کمیشن کی مدد سے تمام حدود، روایات اور اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ لیکن جنوبی ہند کے عوام نے بی جے پی کے زہریلے، بدعنوان،ملک کو توڑنے والے نظریے اور نریندر مودی کی قیادت کو مسترد کر دیا ہے۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج پر کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ مغربی بنگال میں مودی حکومت نے این آئی اے، سی آر پی ایف اور انکاؤنٹر کے ماہر افسروں کو مغربی بنگال بھیج کر جبر کا استعمال کیا۔ مغربی بنگال میں ایک بار پھر بی جے پی نے غلط کام کرکے کامیابی حاصل کی ہےلیکن بی جے پی کی یہ زہریلی طاقت اور مودی کی قیادت جنوبی ہندوستان میں کام نہیں آئی۔ انہوںنے مزید کہا کہ ’’کیرالہ میں کانگریس پارٹی کی جیت جمہوریت اور آئین کی وجہ سے ہوئی ہے اور کیرالہ کے لوگوں نے کانگریس کے نظریہ اور راہل گاندھی کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کا نظریہ ملک کا نجات دہندہ ہے اور کیرالہ کی جیت نے ملک بھر کے کانگریس کارکنوں میں زبردست جوش و خروش پیدا کیا ہے، یہ توانائی آنے والے وقت میں کانگریس کو تقویت دے گی، ہرش وردھن سپکل نے اپنے یقین کا اظہار کیا۔
سرکاری طاقت کے غلط استعمال سے بی جے پی اقتدار میں آئی
اس سلسلے میں این سی پی ( شرد) کے قومی ترجمان نسیم صدیقی سے رابطہ قائم کرنے پر انہوںنے بتایاکہ ’’مرکزی حکومت نے الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر سی آر پی ایف، بی ایس ایف جیسی پیرا ملٹری فورس اور اتر پردیش پولیس کے افسران کو مغربی بنگال میں بھیج کر سرکاری طاقت کا غلط استعمال کیاہے اور ممتا بنر جی کو ہرانے میں پوری طاقت جھونک دی۔ای وی ایم پر تو پہلے ہی سے شبہات کااظہار کیا جارہا ہے۔ان ہی دھاندلیوں اور گڑبڑیوں کا نتیجہ ہے کہ ممتا بنرجی کی سیکولر سرکار دوبارہ نہیں آ سکی۔‘‘ انہوںنے مزید کہا کہ’’ بی جے پی کی من مانی اور اس کے ہندوتوا نے مغربی کے بنگا ل کے سیکولر ووٹر کو بھی متاثر کیا ہے اور اب لگ رہا ہے کہ وہاں کا شہری بھی ہندتوا وادی ہو گیا ہے۔ یہ افسوسناک ہے۔ ‘‘ دیگر ریاستوں کے نتائج کے تعلق سے نسیم صدیقی نے کہا کہ’’ آسام اور کیرالہ میں بی جے پی کو بہت زیادہ امیدیں نہیں تھی ۔ البتہ کیرالہ میں حکومت بدلی اور وہاں کانگریس کی حکومت تشکیل پا رہی ہے ۔‘‘
’’الیکشن کمیشن بی جے پی کی دوست پارٹی‘‘
مغربی بنگال الیکشن کے نتائج پر شیو سینا ( ادھو) کے ترجمان رکن پارلیمان سنجے راؤت نے شدید تنقید کی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ’’مغربی بنگال نے جس طرح مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن نے پیرا ملیٹری فورس کو وہاں کے لا اینڈ آرڈر کی ذمہ داری دی اسی وجہ سے وہاں پر بی جے پی اور ترنمل کانگریس پارٹی کے درمیان کانٹے کی ٹکر بن گئی تھی ورنہ بی جے پی کا مغربی بنگال کا زیادہ اثر نہیں تھا۔ممتا بنرجی کو شکست دینے کیلئے الیکشن کمیشن اور بی جے پی:(مودی اور شاہ) نے الیکشن سے قبل تقریباً ۹۰؍ لاکھ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکال دیئے تھے۔جب ایک ساتھ ۹۰؍ لاکھ ووٹروں کے نام نکال دیئے جاتے ہیں تو اس کا اثر الیکشن پر یقینی طور پر ہوتا ہے۔‘‘
مغربی بنگال نے بھی مودی کی قیادت کو قبول کیا
نائب وزیر اعلیٰ اور این سی پی ( اجیت) کی قومی صدر سونیترا اجیت پوار نے مغربی بنگال الیکشن کے نتائج پر منترالیہ میں ذرائع ابلا غ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’’ مغربی بنگال میں اطمینان بخش طریقے سے این ڈی اے کو ووٹ ملے ہیں اور نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے ملک میں آگے بڑھ رہی ہے اوران نتائج نے ان کی قیادت پر ایک اور مہر لگا دی ہے۔‘‘