Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنتر منتر احتجاج: فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز بھی انسان دوستی کی علامت بن گئے

Updated: July 23, 2026, 12:14 PM IST | New Delhi

دہلی کے جنتر منتر میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران جہاں ملک اور بیرونِ ملک سے لوگ آن لائن کھانا بھیج کر مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں، وہیں سویگی اور زومیٹو کے ڈیلیوری رائیڈرز بھی اس منفرد سلسلے کا اہم حصہ بن گئے ہیں۔ رائیڈرز کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد کی جانب سے بھیجے گئے کھانے کے پیکٹ ضرورت مندوں تک پہنچاتے ہوئے انہیں محض اپنی ملازمت نہیں بلکہ ایک انسانی خدمت انجام دینے کا احساس ہوا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

دہلی کے جنتر منتر میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران صرف مظاہرین ہی نہیں بلکہ آن لائن فوڈ ڈیلیوری کرنے والے رائیڈرز بھی اس تحریک کی ایک غیر متوقع مگر اہم کڑی بن گئے ہیں۔ روزانہ درجنوں رائیڈرز ٹریفک، پولیس کی ناکہ بندیوں اور بندشوں کے باوجود احتجاجی مقام تک کھانے کے پیکٹ پہنچا رہے ہیں، جنہیں ملک اور بیرونِ ملک میں موجود ایسے افراد نے آرڈر کیا ہے جو خود احتجاج میں شریک نہیں ہو سکتے لیکن مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کرنا چاہتے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جنتر منتر کے قریب جن پتھ پر گزشتہ چند دنوں سے سویگی اور زومیٹو کے درجنوں ڈیلیوری پارٹنرز مسلسل آتے رہے۔ ان کے ذریعے برگر، پیزا، چھولے بھٹورے، مکمل کھانے، ٹاکوز، ٹھنڈے مشروبات اور دیگر اشیائے خور و نوش احتجاجی مقام تک پہنچائی گئیں۔ کئی مرتبہ یہ کھانا صرف مظاہرین ہی نہیں بلکہ وہاں موجود رضاکاروں اور ضرورت مند افراد میں بھی تقسیم کیا گیا۔ 

سویگی کے ۳۸؍ سالہ ڈیلیوری پارٹنر ویرندر نے بتایا کہ وہ گزشتہ تین روز سے مسلسل اس مقام پر آرڈر پہنچا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حیدرآباد میں موجود ایک گاہک نے انہیں پیغام بھیجا کہ ’’بیٹا، اسی آرڈر میں سے اپنا دوپہر کا کھانا بھی کھا لینا اور اپنا خیال رکھنا۔‘‘ ویرندر نے بتایا کہ انہیں امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک سے بھی ایسے آرڈرز موصول ہوئے جن میں صرف کھانا ہی نہیں بلکہ مظاہرین اور ڈیلیوری پارٹنرز کیلئے حوصلہ افزا پیغامات بھی درج تھے۔ اسی طرح ۲۰؍ سالہ ڈیلیوری پارٹنر روشن نے بتایا کہ جب انہیں پہلی مرتبہ جنتر منتر کیلئے آرڈر ملا تو انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہاں جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ تاہم جب وہ موقع پر پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ کھانا کسی مخصوص شخص کیلئے نہیں بلکہ جسے ضرورت ہو اسے دینا ہے۔ روشن کے الفاظ میں ’’مجھے احتجاج کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں، لیکن یہ کام کرنا مجھے درست لگا۔‘‘ 

رپورٹ کے مطابق متعدد آرڈرز میں گاہکوں نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی بلکہ صرف اتنی ہدایت دی کہ کھانا ’’جو بھوکا ہو اسے دے دیا جائے۔‘‘ اس منفرد طرزِ تعاون نے ڈیلیوری رائیڈرز کو بھی محض سامان پہنچانے والے کارکنوں کے بجائے انسان دوستی اور سماجی یکجہتی کے پیغام رساں بنا دیا۔ احتجاج کے دوران آن لائن کھانے اور ضروری سامان کی اتنی بڑی تعداد پہنچنے لگی کہ بعض اوقات منتظمین کو سوشل میڈیا پر اپیل کرنا پڑی کہ فی الحال مزید کھانا نہ بھیجا جائے تاکہ کسی قسم کا ضیاع نہ ہو۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ ڈجیٹل پلیٹ فارمز نے دور بیٹھے افراد کو بھی زمینی سطح پر جاری سماجی تحریکوں سے جوڑنے کا ایک نیا ذریعہ فراہم کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK