Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان جی آنند جی نے کامیاب موسیقاروں کے درمیان اپنی جگہ بنائی

Updated: December 29, 2019, 3:15 PM IST | Anees Amrohvi

دو بھائیوں کی اس موسیقار جوڑی نے تقریباً دو سو پچاس سے زائد فلموں کیلئے موسیقی ترتیب دی جن میں سے کامیاب فلموں کی تعداد خاصی ہے۔ ان میں ۱۷؍فلموں نے گولڈن اور ۳۹؍فلموں نے سلور جبلی منائی۔ ۱۹۶۵ء میں فلم ’ہمالیہ کی گود میں‘ کیلئے کلیان جی آنند جی کو سنے میوزک ڈائریکٹر ایورڈ سے نوازا گیا اور ۱۹۶۸ء میں فلم ’سرسوتی چندر‘ کی بہترین موسیقی اور نغموں کیلئے انہیں پہلا نیشنل ایوارڈ دیا گیا۔حکومت ہند نے۱۹۹۲ء میں کلیان جی آنند جی کی جوڑی کوپدم شری ایوارڈ سے نوازا۔

کلیان جی آنند جی۔
کلیان جی آنند جی۔

چندسال قبل ہندوستانی سنیما نے اپنی عمر کے سو سال مکمل کئے ہیں۔ ۳؍مئی ۱۹۱۳ء کو جب دادا صاحب پھالکے نے مکمل طور پر ہندوستان میں بنائی گئی پہلی فیچر فلم نمائش کیلئے بمبئی کے کارونیشن تھیٹر میں پیش کی تو ہمارے سماج میں ایک بڑے انقلاب نے دستک دی۔ آج سو برس مکمل ہونے پر ہم اس انقلاب کو بخوبی محسوس کر سکتے ہیں۔ آج ہندوستان میں دُنیا بھر میں سب سے زیادہ فلمیں بنتی ہیں اور ہندوستان غیرملکی فلموں کا بھی ایک بڑا بازار ثابت ہو رہا ہے۔
 ہندوستانی سنیما کیلئے دُنیا میں دوسرا بڑا انقلاب اُس وقت آیا جب ۱۹۳۱ء میں ہندوستانی سنیما کو بولنا آگیا اور فلمساز و ہدایتکار اردیشر ایرانی نے ہندوستان کی پہلی متکلم فیچر فلم ’عالم آراء‘ نمائش کیلئے پیش کی۔ آواز کو سلولائیڈ پر منتقل کرنے کا تجربہ کامیاب ہو چکا تھا اور اب ہندوستانی فلموں میں نہ صرف کرداروں کی آوازوں کو فلمی شائقین تک پہنچانے کا عمل شروع ہو چکا تھا بلکہ عوام کی دلچسپی بڑھانے اور فلم کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ مبذول کرانے کیلئے بیک گرائونڈ موسیقی کا سہارا بھی لیا جانے لگا اور مختلف قسم کی آوازوں کو منظر کے مطابق استعمال کرکے اس کو زیادہ پُراثر بنانے کا کام بھی شروع ہو گیا۔
 اس کے ساتھ ہی ہندوستانی مزاج کے مطابق موسیقی کے ساتھ شاعری کو شامل کرکے فلمی نغمہ نگاری کا رواج بھی زور پکڑتا چلا گیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ایک فلم میں نو دس گانوں سے لے کر چودہ پندرہ گانے تک ہوا کرتے تھے، جو کبھی کبھی فلم کی کامیابی کی ضمانت بھی بن جایاکرتے تھے۔ فلم ’رتن‘ میں نوشاد کی موسیقی سے ترتیب دیئے ہوئے گانوںکی وجہ سے یہ فلم خوب چلی اور فلمساز کو زبردست مالی فائدہ ہوا تھا۔
 گزشتہ صدی کی چھٹی، ساتویں اور آٹھویں دہائی کے لگ بھگ آخری دَور تک ہماری فلموں میں بہترین نغمے لکھے گئے اور بے مثال موسیقی ترتیب دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ لگ بھگ تیس برسوں پر محیط اِس عرصے کو فلمی دُنیا کا سنہرا دَور کہا جاتا ہے۔ فلمی موسیقی کے اس سنہری دَور میں ایک سے بڑھ کر ایک بہترین موسیقار ہوئے ہیں۔ حسن لال بھگت رام، نوشاد علی، غلام محمد، کھیم چند پرکاش، سلیل چودھری، روی، روشن، سی رام چندر، ایس ڈی برمن، او پی نیر، انل بسواس، پنکج ملک، لکشمی کانت پیارے لال، شنکر جے کشن اور آر ڈی برمن جیسے موسیقاروں نے ہر لحاظ سے بہترین اور مقبول دھنوں سے ہماری فلموںکو سجایا ہے۔
  ایسے ہی بہترین موسیقاروں میں ایک مقبول موسیقار جوڑی کلیان جی آنند جی کی بھی رہی ہے۔ جس طرح ہمارے سماج میں’ایک جان دو قالب‘ کا محاورہ مشہور ہے، ٹھیک اُسی طرح یہ دو بھائیوںکی ایک ٹیم تھی جو ایک ہی نام سے مشہور تھی۔ کلیان جی آنند جی نےایسے وقت میں اپنے آپ کو ثابت کرکے دکھایا جب فلمی دنیا میں کئی بہترین اور مقبول موسیقار موجود تھے۔کلیان جی ۳۰؍ جون ۱۹۲۸ء کو پیدا ہوئےجبکہ آنند جی کی ۵؍ سال بعد ۲؍ مارچ ۱۹۳۳ء کو اس دنیا میں آمد ہوئی۔
 ۱۹۵۴ء میں ہیمنت کمار کی موسیقی والی فلم ’ناگن‘ بن رہی تھی۔ بھارت بھوشن اور مدھوبالا پر فلمائے جانے والے ایک گانے کیلئے کلیان جی نے ہیمنت کمار کی ہدایت میں کلے وائیلن پر بین بجائی تھی۔ یہیں سے کلیان جی ویر جی شاہ کی پہچان بنی اور ان کی بجائی یہ بین آج ساٹھ برس ہونے کو ہیں، اتنی ہی مقبول ہے۔ یہ گانا لتا منگیشکر کی آواز میں ریکارڈ ہوا تھا ’’تن ڈولے میرا من ڈولے‘‘ گانے پر بجائی گئی بین آج بھی میل کا پتھر بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ اس سے قبل ۱۹۵۳ء میں کلیان جی نے فلم ’ناگ پنچمی‘ کے موسیقار چترگپت کی ہدایت میں الیکٹرانک ساز پر بین بجائی تھی مگر اُس کا خاص نوٹس نہیں لیا گیا تھا۔
 ۱۹۵۸ء میں فلمساز سبھاش دیسائی نے فلم ’سمراٹ چندر گپت‘ کیلئے کلیان جی ویر جی شاہ کو مکمل طور پر فلم کی موسیقی ترتیب دینے کیلئے ذمہ داری سونپ دی۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد کلیان جی نے اپنے بھائی آنند جی کو بھی اپنے ساتھ شامل کرکے کلیان جی آنند جی کے نام سے اپنیجوڑی بنائی اور کامیابی کے راستے پر آگے بڑھتے چلے گئے۔
 کلیان جی اور آنند جی صوبہ گجرات کے ’کچھ‘ کے رہنے والے ایک کاروباری شخص ویرجی شاہ کے بیٹے تھے۔ ویر جی شاہ نے اپنا کاروبار ’کچھ‘ سے بمبئی منتقل کر لیا تھا اور اپنی فیملی کے ساتھ یہ دونوں بھائی بھی بمبئی آگئے تھے۔ کلیان جی کو بچپن ہی سے موسیقی سے خاص لگائو تھا لہٰذا انہوں نے ایک ٹیچر سے موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی اور ایک خاص الیکٹرانک ساز کلے وائلن بجانے میں مہارت حاصل کر لی۔
 کلیان جی نے اپنے بھائی آنند جی کے ساتھ ایک میوزیکل آرکیسٹرا بنایا اور بمبئی اور اس کے اطراف میں کئی میوزیکل شو کئے جو بہت مقبول ہوئے۔ فلم ’سمراٹ چندگپت‘ کا نغمہ ’چاہے رہو دُور، چاہے رہو پاس‘ بہت مقبول ہوا، جو محمد رفیع اور لتا منگیشکر کی آواز میں تھا اور بھارت بھوشن اور نروپا رائے پر فلمایا گیا تھا۔کلیان جی آنند جی نے تقریباً دو سو پچاس سے زائد فلموں کیلئے موسیقی ترتیب دی جن میں سے ۱۷؍فلموں نے گولڈن اور ۳۹؍فلموں نے سلور جبلی منائی۔ کلیان جی آنند جی کی کامیابی میں ان کی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اپنے کام سے ایمانداری، لگن اور محنت کو زیادہ دخل رہا ہے۔ انہوں نے اخلاقی قدروں کی ہمیشہ دل سے عزت کی اور بہت سے سماجی، فلاحی کاموںمیں پیش پیش رہے۔ کلیان جی آنند جی نے ہمیشہ نئے نئے لوگوں کو سراہا اور ان کی ہر طرح سے مدد کی۔ منہر اُدھاس، کمار شانو، الکا یاگنک، سادھنا سرگم، سپنامکرجی،اُدت نارائن اورسُنیدھی چوہان جیسے کئی مقبول گلوکاروں کو متعارف کرانے میں کلیان جی آنند جی نے پہل کی۔ اسی طرح قمر جلال آبادی، آنند بخشی، گلشن باورا، انجان، ورما ملک اور ایم جی حشمت جیسے فلمی نغمہ نگاروں کو کلیان جی آنند جی نے ہمیشہ سراہا اور بھرپور مدد کی۔ کلیان جی آنند جی کی موسیقی کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے کلاسیکل موسیقی کی بنیاد پر آسان اور میلوڈی سے بھرپور نئی نئی مدھر طرزیں ہندوستانی سنیما کو دیں۔ کلیان جی آنند جی کے کامیاب فلمی نغموںکی ایک طویل فہرست ہے جو اُن کی فنکارانہ صلاحیتوں کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ ۱۹۶۰ء میں ریلیز ہونے والی اُن کی موسیقی سے سجی فلم ’چھلیا‘ کے کئی گانے بے حد مقبول ہوئے۔ ۱۹۶۴ء میں فلم ’جی چاہتا ہے‘ کا نغمہ ’ہم چھوڑ چلے ہیں محفل کو‘ بے حد مقبول ہوا۔
 ۱۹۶۵ء کے بعد تو کلیان جی آنند جی کی شہرت اور مقبول کا گراف اونچا ہوتا ہی چلا گیا۔ ۱۹۵۷ء میں فلم ’اُپکار‘ کے نغمے اور فلم’راز‘ کا گانا ’اکیلے ہیں چلے آئو کہاں ہو‘ بہت مقبول ہوا۔ ۱۹۶۸ء میں فلم’سہاگ رات، حسینہ مان جائے گی اورسرسوتی چندر‘ کے گانے اتنے مقبول ہوئے کہ اب بھی یاد کئے جاتے ہیں۔ ۱۹۷۰ء میں ’پورب اور پچھم، ہولی آئی رے، سچا جھوٹا، جانی میرا نام اور گیت کے نغمے کافی مقبول رہے۔ اسی طرح ۱۹۷۲ء میں فلم ’وکٹوریہ نمبر ۲۰۳، گھر گھر کی کہانی اور گوپی‘ کے گانوں نے کافی دھوم مچائی۔ ۱۹۷۲ء میں فیروز خان کی فلم ’اپرادھ‘ کے کئی گانے مشہور ہوئے اور۱۹۷۳ء میں فلم’بلیک میل، کہانی قسمت کی، سمجھوتا اورزنجیر‘ فلم کے گانے مقبول ہوئے۔ اسی برس فلم’کورا کاغذ‘ آئی اور اس فلم کی موسیقی کیلئے کلیان جی آنند جی کو فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس فلم کا ایک نغمہ ’میرا جیون کورا کاغذ کورا ہی رہ گیا‘ ۱۹۷۴ء میں ریڈیو سے نشر ہونے والے ’بناکا گیت مالا‘ پروگرام میں ٹاپ پر رہا۔ ۱۹۷۴ اور ۱۹۷۵ء میں کلیان جی آنند جی کی موسیقی سے سجی کئی فلمیں کامیاب ہوئیں۔ ان میں ’ہاتھ کی صفائی، رفو چکر اوردھرماتما‘ جیسی فلمیں خاص طور پر یادگار فلمیں ہیں۔ اگلے برس ۱۹۷۶ء میں فلم ’بیراگ‘ کے گانے کافی مقبول ہوئے۔ امیتابھ بچن کی کئی فلموں کے نغمے کلیان جی آنند جی کی موسیقی سے سجے ہوئے ہیں۔ ۱۹۷۸ء میں فلم ’ڈان، لاوارث اور مقدر کا سکندر‘ بے حد مقبول ہوئے اور اس کے بعد’قربانی،پروفیسر پیارے لال، حادثہ، اپرادھ اورتری دیو‘ جیسی کئی فلموں کی موسیقی کو عوام و خواص نے بے حد پسند کیا اور ان فلموں کے نغمے کافی مقبول ہوئے۔ ۱۹۸۵ء کے بعد فلمی نغموں کا معیار لگاتار گرتا رہا اور فلموں کا مزاج بھی بدلتا رہا لہٰذا کلیان جی آنند جی اس گراوٹ سے کافی بددل ہوئے اور انہوںنے اپنی توجہ نئے نسل کو موسیقی کی تعلیم دینے اور کچھ اپنی البم وغیرہ تیار کرنے میں لگا دی۔اس کی وجہ سے فلموں سے ان کا واسطہ کم ہوتا چلا گیا۔
 ۱۹۶۵ء میں فلم ’ہمالیہ کی گود میں‘ کیلئے کلیان جی آنند جی کو سنے میوزک ڈائریکٹر ایورڈ سے نوازا گیا اور ۱۹۶۸ء میں فلم ’سرسوتی چندر‘ کی بہترین موسیقی اور نغموں کیلئے انہیں پہلا نیشنل ایوارڈ دیا گیا۔۱۹۹۲ء میں کلیان جی آنند جی کو پدم شری ایوارڈ سے حکومت ہند نے نوازا۔
 عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہر فلمساز یا ہدایتکار کا اپنا پسندیدہ موسیقار ہوتا ہے۔ کلیان جی آنند جی کے حصے میں جو ہدایتکار آئے اُن میں وجے بھٹ، من موہن دیسائی، سبھاش گھئی، پرکاش مہرہ، منوج کمار، گووند سیریا، فیروز خان اور چندر باروٹ جیسے لوگ تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ کئی کامیاب ہدایتکاروںکی پہلی فلم کے موسیقار کلیان جی آنند جی ہی تھے۔ جیسے من موہن دیسائی کی فلم ’چھلیا‘ (۱۹۶۰ء)، منوج کمار کی فلم ’اُپکار‘ (۱۹۶۷ء)، پرکاش مہرہ کی فلم ’حسینہ مان جائے گی‘ (۱۹۶۸ء)، نریندر بیدی کی فلم ’بندھن‘ (۱۹۶۹ء)، ارجن ہنگورانی کی فلم ’دل بھی تیرا ہم بھی تیرے‘ (۱۹۶۰ء)، فیروز خاں کی فلم ’اپرادھ‘ (۱۹۷۲ء)، انل گا نگولی کی ’کورا کاغذ‘ (۱۹۷۴ء)، گووند سیریا کی ’سرسوتی چندر‘ (۱۹۶۸ء)، سبھاش گھئی کی ’کالی چرن‘ (۱۹۷۶ء)، آئی ایس جوہر کی ’جوہر محمود اِن گوا‘ (۱۹۶۵ء)، چندر باروٹ کی ’ڈان‘ (۱۹۷۸ء)، راجیو رائے کی فلم ’یدھ‘ (۱۹۸۵ء) اور سمی گریوال کی فلم ’رُخصت‘ (۱۹۸۸ء) کے نام قابل ذکر ہیں۔
 موسیقار جوڑی کے بڑے بھائی یعنی کلیان جی کی۲۴؍ اگست ۲۰۰۰ء کو ۷۲؍ سال کی عمر میںانتقال ہوگیا۔ ان کے بیٹے ویجو شاہ بھی ایک اچھے موسیقار ہیں۔اپنی عمر کی ۸۶؍بہاریں دیکھ چکے آنند جی فی الحال فلموں سے وابستہ نہیں ہیں لیکن ان کی موسیقی سی سجی فلمیں آج بھی اسی طرح پُربہار ہیں، جس طرح تین چار دہائی قبل تھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK