جنوبی ہندوستانی سنیما کے لیجنڈ اداکار، ہدایکار اور فلمساز کمل ہاسن نے ہالی ووڈ کے معروف ہدایتکار کرسٹوفر نولن کی نئی فلم ’’دی اوڈیسی (The Odyssey) کی زبردست تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلم آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک یادگار شاہکار ثابت ہوگی۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 10:11 PM IST | Chennai
جنوبی ہندوستانی سنیما کے لیجنڈ اداکار، ہدایکار اور فلمساز کمل ہاسن نے ہالی ووڈ کے معروف ہدایتکار کرسٹوفر نولن کی نئی فلم ’’دی اوڈیسی (The Odyssey) کی زبردست تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلم آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک یادگار شاہکار ثابت ہوگی۔
جنوبی ہندوستانی سنیما کے لیجنڈ اداکار، ہدایکار اور فلمساز کمل ہاسن نے ہالی ووڈ کے معروف ہدایتکار کرسٹوفر نولن کی نئی فلم ’’دی اوڈیسی (The Odyssey) کی زبردست تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلم آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک یادگار شاہکار ثابت ہوگی۔ جمعرات کو کمل ہاسن نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ’’دی اوڈیسی‘‘ کا پوسٹر شیئر کرتے ہوئے ایک مختصر مگر متاثر کن پیغام لکھا’’ہومر نے خواب دیکھا، نولن نے اسے حقیقت بنا دیا، اور میں نے تالیاں بجائیں۔‘‘کمل ہاسن کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر مداحوں کی توجہ حاصل کر لی۔
ہومر کے خواب کو نولن نے پردۂ سیمیں پر زندہ کیا
کمل ہاسن کا اشارہ قدیم یونانی شاعر ہومر کی جانب تھا، جنہوں نے ہزاروں برس قبل شہرۂ آفاق رزمیہ ’’اوڈیسی‘‘ تخلیق کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہومر نے صرف اس عظیم داستان کا تصور پیش کیا تھا جبکہ کرسٹوفر نولن نے اسے جدید سنیما کی طاقت سے حقیقت کا روپ دے دیا۔
یہ بھی پڑھئے:۷۰۰؍ناکام آڈیشن، بڑھتے قرض، مگر بیوی نے حوصلہ ٹوٹنے نہیں دیا:شارب ہاشمی
’’یہ فلم نسلوں تک یاد رکھی جائے گی‘‘
اپنی پوسٹ میں کمل ہاسن نے مزید لکھا کہ’’یہ فلم صرف آج کے لیے نہیں، بلکہ آنے والی نسلیں بھی اسے یاد رکھیں گی۔ میری سب سے گزارش ہے کہ اس فلم کو ضرور سنیما گھروں میں جا کر دیکھیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ جلد ہندوستانی ناظرین کے لیے اس فلم کے حوالے سے ایک خصوصی پیغام جاری کریں گے۔ کمل ہاسن کے مطابق فلم کا پری ویو سب سے پہلے سینسر بورڈ نے دیکھا اور اسے منظوری بھی دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کامن ویلتھ گیمز: دلیپ گاویت کا تاریخی طلائی تمغہ، مرلی سری شنکر کو چاندی کا تمغہ ملا
’’دی اوڈیسی‘‘ کس کہانی پر مبنی ہے؟
’’دی اوڈیسی‘‘ قدیم یونانی شاعر ہومر کے مشہور رزمیہ پر مبنی ہے۔ فلم میں ٹروجن جنگ کے بعد ہیرو اوڈیسیئس کی اپنے وطن واپسی کے طویل اور خطرناک سفر کو دکھایا گیا ہے، جہاں اسے بے شمار آزمائشوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ کرسٹوفر نولن اس نوعیت کی ایک عظیم اساطیری داستان کو بڑے پردے پر پیش کر رہے ہیں۔ فلم کے کئی اہم مناظر جدید آئی میکس (IMAX) کیمروں سے فلمائے گئے ہیں، جس سے اس کے بصری معیار کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔