Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرینہ کپور کی دپیکا پڈوکون کو حمایت، فلمی صنعت میں کام کے اوقات پر بحث

Updated: March 07, 2026, 7:32 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ میں کام کے اوقات کے مسئلے پر جاری بحث کے دوران کرینہ کپور خان نے دپیکا پڈوکون کی حمایت کی ہے۔ کرینہ کا کہنا ہے کہ اداکاروں کو کسی بھی فلم یا پروجیکٹ کے آغاز سے پہلے پروڈیوسرز کے ساتھ اپنے کام کے اوقات پر کھل کر بات کرنے کا حق ہونا چاہیے، خاص طور پر ان اداکاراؤں کے لیے جو ماں بھی ہیں۔ ان کے مطابق فلمی صنعت میں بہتر منصوبہ بندی اور لچکدار نظام کی ضرورت ہے تاکہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور خاندانی زندگی کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے۔

Kareena Kapoor and Deepika Padukone. Photo: INN
کرینہ کپور اور دپیکا پڈوکون ۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ میں حالیہ دنوں میں کام کے اوقات کے مسئلے پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جس میں کئی اداکاروں اور اداکاراؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اسی سلسلے میں کرینہ کپور خان نے بھی اپنی رائے دیتے ہوئے دپیکا پڈوکون کے موقف کی حمایت کی ہے۔ کرینہ نے دی ہالی ووڈ رپورٹر انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اداکاروں کو اپنے پیشہ ورانہ وعدوں کو سوچ سمجھ کر ترتیب دینا چاہیے، خاص طور پر ایسے اداکاروں کو جو والدین بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ فلم ’’دی بکنگھم مرڈرس‘‘کی شوٹنگ کر رہی تھیں تو انہوں نے پہلے ہی پروڈیوسرز کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ کام کے بعد انہیں اپنے بچوں کے پاس واپس جانا ہوگا۔
کرینہ کے مطابق فلمی صنعت میں کام کرنے والے بہت سے اداکار اپنے خاندان کی ذمہ داریوں کے باعث اپنے شریک حیات کی مدد پر انحصار کرتے ہیں۔ بعض اوقات انہیں اپنے شیڈول کو تبدیل کرنا پڑتا ہے یا کچھ پروجیکٹس کو مسترد بھی کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگر آپ شادی شدہ ہیں اور آپ کے بچے ہیں، اور ایک عورت کے طور پر اگر آپ اتنا وقت نہیں دے سکتیں تو آپ کو یہ کہنے کا حق ہونا چاہیے کہ میں صرف اتنے گھنٹے کام کر سکتی ہوں۔ میرے خیال میں فلم شروع ہونے سے پہلے اس طرح بات کرنا بالکل درست ہے۔ آپ کو ایماندار ہونا چاہیے۔‘‘ 
انہوں نے مزید کہا کہ فلم سازی کے دوران بعض اوقات غیر متوقع حالات بھی پیدا ہو جاتے ہیں، اس لیے پروڈیوسرز اور اداکاروں کے درمیان لچک اور کھلے پن کا ہونا ضروری ہے۔ کرینہ کے مطابق، ’’یقیناً کچھ دن ایسے بھی ہو سکتے ہیں جب حالات منصوبے کے مطابق نہ چلیں۔ اس لیے لچک ضروری ہے، ورنہ کام کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘ 
اسی انٹرویو میں جنوبی ہند کی اداکارہ کلیانی پریہ درشن نے بھی فلمی صنعت میں کام کے اوقات کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ ملیالم سنیما میں پہلے فلمی سیٹ پر شفٹیں بعض اوقات ۱۶؍ گھنٹے تک طویل ہوتی تھیں، تاہم اب انہیں کم کر کے تقریباً ۱۲؍ گھنٹے کر دیا گیا ہے۔ کلیانی کا کہنا تھا کہ فلم سازی ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں ایک ہی دن میں متعدد تکنیکی اور تخلیقی پہلوؤں کو مکمل کرنا پڑتا ہے، اس لیے اسے مکمل طور پر مختصر اوقات تک محدود کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔
اسی بحث میں اننیا پانڈے نے بھی دپیکا پڈوکون کے مؤقف کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ دپیکا نے ماں بننے سے پہلے کبھی اس طرح کے مطالبات نہیں کیے تھے اور وہ ہمیشہ پیشہ ورانہ طور پر مکمل ذمہ داری کے ساتھ کام کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے دپیکا کے ساتھ کام کیا ہے اور ماں بننے سے پہلے انہوں نے کبھی اس طرح کی کوئی شرط نہیں رکھی۔ وہ ورکشاپس میں آتی تھیں اور بغیر کسی شکایت کے کام کرتی تھیں۔ اب وہ ایک ماں ہیں اور انہیں اپنے بچے کے ابتدائی برسوں میں اس کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پروڈیوسرز کے ساتھ بات چیت کے ذریعے کام اور ذاتی زندگی کے درمیان توازن تلاش کرنا ممکن ہے۔
واضح رہے کہ یہ بحث اس وقت شروع ہوئی تھی جب مئی ۲۰۲۵ء میں دپیکا، سندیپ ریڈی وانگا کی ’’اسپرٹ‘‘ سے الگ ہو گئی تھیںجس میں پربھاس مرکزی کردار میں ہیں۔ رپورٹس کے مطابق دپیکا نے اس فلم کے لیے ۸؍ گھنٹے کی شفٹ کی شرط رکھی تھی جس پر ہدایت کار اور پروڈکشن ٹیم متفق نہیں ہوئے۔ بعد ازاں اس کردار کے لیے ترپتی ڈمری کو منتخب کیا گیا۔ اسی دوران ستمبر میں فلم ’’کالکی ۲‘‘ کے فلمسازوں نے بھی اعلان کیا کہ دپیکا اس کے سیکوئل کا حصہ نہیں ہوں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK