Updated: May 04, 2026, 10:00 PM IST
| Gaza
ماہرین کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کے باوجود تباہی کے بعد تعمیر نو کا عمل شدید رکاوٹوں کا شکار ہے، جہاں لوگ ملبے سے ہی اپنے گھر اور بنیادی ڈھانچے بحال کرنے پر مجبور ہیں۔ اسرائیلی پابندیوں اور سیاسی تعطل کے باعث اربوں ڈالر کی ضرورت کے باوجود بڑے پیمانے پر بحالی کا کام تاحال شروع نہیں ہو سکا۔
ایک خاتون ملبے کے پاس سے گزر رہی ہے۔ تصویر: آئی این این
غزہ میں فلسطینی وہی کچھ دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو باقی بچا ہے ملبے سے کنکریٹ نکالنا، تباہ شدہ گھروں کی مرمت کرنا اور فالتو سامان سے عارضی اسکول قائم کرنا جبکہ ایک نازک جنگ بندی کے تقریباً سات ماہ بعد بھی بڑے پیمانے پر تعمیر نو تقریباً رکی ہوئی ہے۔ تباہی کی شدت کے باوجود، تعمیر نو کی کوششیں بڑی حد تک منجمد ہیں۔ ماہرین کے مطابق اسرائیلی پابندیاں اور سیاسی تنازعات اس کی بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایک نئی بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق، آئندہ دس برسوں میں غزہ کی بحالی کیلئے۴ء۷۱؍ ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
یورپی یونین، اقوام متحدہ اور عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ غزہ ریپڈ ڈیمیج اینڈ نیڈز اسسمنٹ (RDNA) کے مطابق، ابتدائی۱۸؍ ماہ میں ہی۳ء۲۶؍ ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی تاکہ بنیادی خدمات بحال کی جا سکیں، اہم انفراسٹرکچر کی مرمت ہو اور معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق، بنیادی ڈھانچے کو۲ء۳۵؍ ارب ڈالر کا نقصان پہنچا، جبکہ معاشی اور سماجی نقصانات۷ء۲۲؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ رہائش، صحت، تعلیم، تجارت اور زراعت سب سے زیادہ متاثرہ شعبے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: شادی سے ۱۰؍ دن قبل فلسطینی دلہن پر اسرائیلی اسنائپر نے گولی چلادی
محاصرہ تعمیر نو میں رکاوٹ
۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء سے اسرائیل کی جنگ نے غزہ کو بری طرح تباہ کر دیا ہے، جہاں پورے کے پورے علاقے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ جنگ بندی کے باوجود، اقوام متحدہ کے مشیر مامون بَیساسو کے مطابق اسرائیل اب بھی سیمنٹ، سریا اور دیگر ضروری تعمیراتی سامان کی آمد کو محدود کر رہا ہے، جس کے باعث لوگ ملبے کو دوبارہ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام (UNDP) ملبے کو ری سائیکل کر کے تعمیراتی مواد حاصل کر رہا ہے، جو صرف مرمت کیلئے استعمال ہو رہا ہے، نئی تعمیر کیلئے نہیں۔ غزہ بھر میں عارضی اسکول لوہے کی چادروں اور لکڑی سے بنائے گئے ہیں، جبکہ کچھ جامعات نے جزوی طور پر تدریس دوبارہ شروع کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینیوں نے اسرائیلی قبضے کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر ’’جارحیت‘‘ سے خبردار کیا
رہائشی بحران میں اضافہ
سیکڑوں ہزار افراد اب بھی بے گھر ہیں، اور رہائش سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، اکتوبر۲۰۲۳ء سے اکتوبر۲۰۲۵ء کے درمیان غزہ کے کم از کم۹۲؍ فیصد مکانات تباہ یا متاثر ہوئے۔ ۹۰؍ فیصد سے زیادہ آبادی بے گھر ہو چکی ہے، جبکہ۸۶؍ فیصد علاقہ یا تو نقل مکانی کے زونز میں شامل ہے یا فوجی علاقوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مامون بَیساسو کے مطابق:’’زیادہ تر لوگ خیموں میں رہ رہے ہیں، جو انتہائی خراب حالت میں ہیں۔ ‘‘اقوام متحدہ نے کچھ پری فیبریکیٹڈ گھروں (کارواں) فراہم کئےہیں، جو خیموں سے بہتر ہیں، مگر۴۰؍ ہزارکی ضرورت کے مقابلے میں صرف ۲؍ ہزار سے۳؍ ہزار ہی پہنچ سکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینی صحافتی یونین کی رپورٹ: ۲۰۲۶ء میں ۳۰۰؍ اسرائیلی خلاف ورزیاں، جنگ میں ۲۶۲؍ صحافی شہید ہوئے
سیاسی تعطل بڑی رکاوٹ
ماہرین کے مطابق سیاسی مسائل بھی تعمیر نو میں تاخیر کا سبب ہیں۔ کارنیگی ادارے کی زہا حسن کے مطابق، غزہ عالمی توجہ سے ہٹ چکا ہے، خاص طور پر ایران جنگ کے بعد۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے انتظام کیلئے بنائی گئی کمیٹی (NCAG) اسرائیل کی اجازت نہ ملنے کے باعث مؤثر طریقے سے کام نہیں کر پا رہی۔ رفح کراسنگ پر پابندیاں، طبی انخلا میں کمی، اور فوجی انخلا نہ ہونا بھی اہم مسائل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کے ملبے تلے ۸؍ ہزار لاشیں، جبکہ ایک فیصد سے بھی کم ملبہ ہٹایا جاسکا: رپورٹ
غزہ امداد پر پابندیوں میں نرمی، ٹرمپ کے ایلچی کی اسرائیلی حکام سے اہم ملاقات متوقع
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس برائے غزہ کے مرکزی ایلچی نکولے ملادینوف سینئر اسرائیلی حکام سے فلسطینی علاقے کی صورتحال پر بات چیت کرنے والے ہیں۔ دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، ان مذاکرات کے دوران ملادینوف اسرائیل سے مطالبہ کریں گے کہ وہ محصور غزہ کی پٹی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سامان کی آمد پر عائد پابندیاں نرم کرے اور وہاں اپنی فوجی کارروائیاں محدود کرے۔ ان کا اسرائیل کا یہ دورہ مصر میں حماس کے ساتھ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے پر عمل درآمد سے متعلق بات چیت کے بعد ہو رہا ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ملادینوف کی حماس کے ساتھ اسلحہ چھوڑنے کے معاملے پر بات چیت ناکام رہی۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کا فیفا سےکھلاڑیوں کےخلاف مبینہ خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو نکالنے کا مطالبہ
دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، حماس نے اس بات پر زور دیا کہ اس کے ہتھیاروں کا معاملہ صرف ایک ایسے فریم ورک کے تحت ہی حل کیا جا سکتا ہے جو بالآخر فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہو۔ حماس نے ملادینوف کے ساتھ ہونے والی بات چیت یا اسرائیلی میڈیا کی خبروں پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ بتا دیں کہ ۲۹؍ ستمبر۲۰۲۵ء کو ٹرمپ نے غزہ میں اسرائیل کی دو سالہ جنگ کے خاتمے کیلئے تین مرحلوں پر مشتمل ایک منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں جنگ بندی، جزوی انخلا، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور امدادی ٹرکوں کی آمد شامل تھی۔ اگرچہ معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت حماس نے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا، لیکن اسرائیل نے مکمل طور پر جنگ بندی کی پاسداری نہیں کی اور حملے جاری رکھے، جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے بعد سے اب تک۸۳۰؍ سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً۲؍ ہزار ۳۵۰؍زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بارسلونا:۵۰۰؍ مظاہرین کا گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنان کی رہائی کا مطالبہ
تل ابیب نے معاہدے کے تحت طے شدہ مقدار میں انسانی ہمدردی کی امداد کو غزہ میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں دی، جہاں تقریباً۲۴؍ لاکھ فلسطینی، جن میں ۱۵؍ لاکھ بے گھر افراد شامل ہیں، شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ سے اسرائیلی افواج کا وسیع انخلا، تعمیر نو اور مختلف گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا آغاز شامل ہے، تاہم ان میں سے کوئی بھی ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ واضح رہے کہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ۷۲؍ ہزار ۶۰۰؍ سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، جاں بحق جبکہ ایک لاکھ ۷۲؍ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔