اس دن اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ کر میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ ا لہ دین کی طرح جیب سے اپنا چراغ یعنی اسمارٹ فون نکالا۔ جدید چراغ رگڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لئے اسے انگلی سے دھیرے دھیرے سہلانا شروع کیا۔
EPAPER
Updated: May 04, 2026, 9:55 PM IST | Mohammad Asadullah | Mumbai
اس دن اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ کر میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ ا لہ دین کی طرح جیب سے اپنا چراغ یعنی اسمارٹ فون نکالا۔ جدید چراغ رگڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لئے اسے انگلی سے دھیرے دھیرے سہلانا شروع کیا۔
کیا زمانہ تھا، لوگ باگ سفر پرجاتے، برسوں مفقود الخبر رہتے، کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔ اب ٹرین میں چڑھتے ہی سامان ٹھکانے لگے نہ لگے، گھر والوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ آ پ اپنے ٹھکانے پہنچ گئے ہیں، یہ ایسا ہی ہے جیسے ماہِ رمضان میں مسجد سے اعلان ہوجا نے کے بعد فوراً افطاری کرنا۔ ان دنوں ہر ایک کے منہ میں زبان اور جیب میں موبائیل ہے۔ اس لئے بات کرنا لازمی ہے۔ بات کر نے جیسی کوئی بات تو ہو۔ بیمار پرسی کے لئے کم از کم ایک عدد مریض در کار ہے۔ خیریت دریافت کر نے کے لئے ناسازگارحالات کا وجود بھی ضروری ہے۔
ذرا سوچئے دنیا کے حالات اگر واقعی ساز گار ہوتے تو کس قدر مشکل پیش آ تی کہ آ خرکس کی خیریت دریافت کریں اور کیوں ؟ (یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے کہ آ پ کیسے ہیں ، بخیر تو ہیں ؟ )، کوئی موضوع ہی نہیں، کیا بات کریں ؟ اسی لئے اب ملک کے حالات مفادِ عامہ کی خاطر، عمداً بگاڑ د ئیے گئے ہیں تاکہ لو گ ایک دوسرے کی خیریت پوچھتے رہیں، کیونکہ یہ’ شے لطیف‘ ان دنوں پل پل دگر گوں ہوتی رہتی ہے۔
اس دن اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ کر میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ ا لہ دین کی طرح جیب سے اپنا چراغ یعنی اسمارٹ فون نکالا۔ جدید چراغ رگڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لئے اسے انگلی سے دھیرے دھیرے سہلانا شروع کیا۔ اسکرین پر جناتی روشنی کے نمودار ہوتے ہی حکم دیا کہ ہزار کوس پر بیٹھی ہماری بیگم سے، جسے شب و روز ہماری خیریت نیک مطلوب ہے، رابطہ قائم کیا جائے تاکہ اسے ہمارے دہلی بعافیت پہنچے کی اطلاع دی جا سکے۔ اس جناتی آ لے نے ٹکا سا جواب دیا : ’آ پ نیٹ ورک کی خرابی کے سبب بات نہیں کرسکتے البتہ کوئی میسیج بھیجا جا سکتا ہے۔ تب اس موبائیل فون کو دیکھ کر دلی ہی کے ایک شاعر کا مصرع زبان پر آ گیا ’’بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی‘‘۔
یہ بھی پڑھئے: آئینوں کے اُس پار
مجھے بے اختیار مہا بھارت اور جنگ عظیم( اول و دوم )سے لے کر آزادی کی لڑائی میں شریک ہونے وا لے وہ تما م بد نصیب سپاہی یاد آ ئے جو بے وقت یعنی انٹر نیٹ اور موبائیل کے فقدان کے زمانے میں، اپنے وطنِ عزیز پر نچھاور ہوئے۔ وہ اپنی پل پل کی خبر گھر والوں کو کیا دیتے، ان میں سے بیشتر کی سر فروشی کی اطلاع بھی وقت پر ان کے پیاروں تک نہ پہنچ پائی۔ بے چارے اپنے جنگی کارناموں کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پرپیش کرنے سے قاصر رہے۔ آج ترسیل و ابلاغ کے اس سنہرے دور میں عام آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ دن بھر گھر میں بیٹھا، مکھیاں مارنے کی اپنی کارگزاری بھی، سیلفی لیکر پہلی فرصت میں وائر ل کرتا ہے۔ بہر حال میں نے بیگم کے نام میسیج لکھا :’ خدا کا شکر ہے، پہنچ گیا ہوں ، اب دلّی دور نہیں ۔ یہاں نیٹ ورک ٹھیک نہیں ، باقی سب خیرت ہے۔ ٹیلی ویژن اشتہار کے کسی سلوگن کی طرح یہ جملہ ذہن کے اسکرین پرابھر ابھر کرٹھمکنے لگا۔ خیال آ یا کہ اس نئے شہر کا کیا ذکر، پورے ملک کا یہی حال ہے۔
ملک میں دولت کی فراوانی ہے، ہر طرف علم کا دور دور ہ ہے۔ خوشحالی پھوٹی پڑ رہی ہے۔ صاحبِ اقتدار، ملازمین، تاجرپیشہ، کسان مزدور، شاداں و فرحاں ترقی کی شاہراہ پر کشاں کشاں آ گے بڑھتے چلے جا رہے ہیں ۔ امن و امان کا یہ عالم ہے، ایک خاتون، حسین، ماہ جبین، حسبِ منشا، بس، ٹرین، جہاز میں سوار ہو کر کنیا کماری سے سری نگر تک چلی جائے، کوئی آ نکھ اٹھا کر دیکھنے والا نہیں ( سب اپنے اپنے موبائل کے اسکرین پر آنکھیں گڑائے بیٹھے ہیں ) اخبار، ریڈیو اورٹی وی کے رپورٹر بے چارے رات دن، ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں ، سیاسی، سماجی، معاشی ہر قسم کی خبریں ندارد۔ آ ہِ سحر گاہی کے سواکچھ ہاتھ نہیں آ تا۔ تنگ آ کر بابری مسجد، تین طلاق، دیش بھکتی اور آتنک واد جیسے خالص تہذیبی موضوعات پرعلمی مباحثے منعقد کرواکر اپنا کام چلاتے ہیں ۔
اقبالؔ ہمارا پسندیدہ شاعر ہے۔ اس کے کم از کم ایک مصرعے کو سبھی نے اپنی گرہ میں باندھ رکھا ہے۔ مصرع کیا ہے ایک آفاقی سچائی ہے، ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘۔ اس کی صداقت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ کسی ملک نے آ ج تک اس پر اپنا اعتراض یا احتجاج درج نہیں کروایا۔ آ پ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں ، دیگر ممالک کو کیا پتہ اقبال ؔکیا کہہ گئے !آج ساری دنیا میں اردو مشاعروں کی دھوم ہے۔ اقبال کے شعر نے ہمارے اس یقین کوپختہ کر دیا کہ بھارت مہان ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی ہمارے چاند جیسے ملک میں داغ دکھانے کی کو شش کرے تو ہمیں اپنی صفائی پیش کر نی چاہئے۔ ہمارے ہاں صفائی کی کوئی کمی نہیں، پورے ملک میں مہم جاری ہے۔ خود ہمیں بھی مثبت نکتہ نظر سے کا م لینا چاہئے۔
ایک الزام یہ بھی ہےکہ بھارت میں جہالت زیادہ ہے۔ تہذیب کے اس مرکز میں جسے کبھی ایران و مصر و روما کے مٹ جانے کے باوجود اپنی بقا پر ناز تھا، آ ج یہاں جہالت و بد تہذیبی کی کمی نہیں ۔ لوگوں میں جینے کا ڈھنگ نہیں، پان کھا کھاکر زمین وطن کو لالہ زار بنا دیتے ہیں ، جو صاحبان پان نہیں کھاتے سرِ راہ تھوک کر یہ شوق پورا کر لیتے ہیں۔ اس موقع پر معترضین یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ’ تھوکنا برائے تھوکنا ‘نہیں ، ’تھوکنا برائے اظہارِ خیال ‘ہے۔ یہ تمام لوگ، دراصل اس نظام پر تھوکتے ہیں جس کی کوئی کل سیدھی نہیں ، وہ اس نظام ِ تعلیم پرتھوکتے ہیں جو تعلیم یافتہ بے روز گار پیدا کرتا ہے۔ یہ عوام کی خیر پسندی اور برائیوں سے نفرت کا اظہار ہے اور اس حقیقت کا بھی مظہر ہے کہ ہمارے ملک میں اظہارکی مکمل آزادی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ادیب کے تخلیقی کارنامے سماج میں پائی جانے والی حقیقتوں کا عکس ہوتے ہیں
اکثر لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ بھارت میں رشوت ستانی کا دور دورہ ہے۔ لینے والے کے لئے منفعت بخش اور دینے والے کیلئے کارگر، راحت بخش اور ذود اثر۔ رشوت خوری کا یہ عمل نہ صرف ایک عام رسم ہے بلکہ دفاتر کا دستور بھی ہے جس کے لین دین کا ہر جگہ موقع نکل آ تا ہے۔ رشوت ستانی کی اس رسم کو آ پ انصاف کی نظرسے دیکھیں تو اس کے اجرا کرنے والے کی شان میں آ پ کے منہ سے بے اختیا ر چند کلمات نکل آئیں گے۔ جہاں قانون جگہ جگہ اپنی ٹانگ اڑاتا ہے اور جس جگہ اس کی ٹانگ پہنچ نہیں پاتی وہاں معمولی معمولی کاموں کیلئے سرکاری کارندے، لوگوں کو ستانے کے نئے نئے بہانے ڈھونڈتے ہیں اور آ پ کو ایسی بے بسی کی کیفیت میں مبتلا کر دیتے ہیں جہاں کو ئی یار و مدد گار نہ ہوتو وہاں رشوت ہی سے کام نکلتاہے، بلکہ رشوت لیتے ہوئے پکڑے گئے تب بھی چھوٹنے کے لیے رشوت ہی دینی پڑتی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں رشوت ایک نعمت سے کم نہیں ۔
ہمارے تعلیمی ادارے تنقید کے نشانے پر ہیں کہ ان میں دولت کی ریل پیل ہے۔ ایک مشہور مقولہ ہے :علم بڑی دولت ہے۔ یہ بات اب تک محض خیالی پلائو تھی۔ مدرسہ، مکتب اور دانش گاہوں میں اب تک دولت کے نام پر کچھ نہیں تھا۔ (فی زمانہ علم کے نام پربھی کچھ نہیں ہے) ہمارے زمانے نے دولت نامی ’خیالی پلائو ‘کو صحیح معنوں میں ’حقیقی بریانی‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب وہاں علم بھلے ہی نظر نہ آ ئے، آ پ تعلیمی اداروں میں دولت کو پانی کی طرح بہتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ وہی حقیقی بریانی ہے جس میں جاندار علم کی بوٹیاں ہیں ، تعلیمی قدروں کے مسالہ جات پڑے ہیں ، عقل کا دہی شامل ہے اور اس میں تہذیب کے چاولوں کو ابال کر دَم دیا گیا ہے۔
یہاں یہ سوال آ پ کے ذہن ِ رسا میں آ سکتا ہے کہ اگر تعلیم گاہوں میں صرف دولت ہے تو علم کہاں گیا ؟جواب یہ ہے کہ ہمارا ملک اب بھی علم کا گہوارہ ہے۔ علم کی ساری ریل پیل اب ہماری ٹیوشن کلاسیس میں منتقل ہو گئی ہے۔ جدید’دروناچاریہ ‘ اپنے شاگرد ِ رشید، ’ماڈرن ایک لویّہ‘ سے ٹیوشن فیس وصول کرتا ہے، تب اسے علم سے آ راستہ کرتاہے۔ سچ ہی تو ہے۔ ’درونا چاریہ ‘نے ’ایک لویہ ‘سے گرو دکشنا کے طور پر انگوٹھا مانگا تھا۔ انگوٹھا جہالت کی علامت ہے، گویا استاد شاگرد سے اس کی جہالت لے کر اسے علم دیتا ہے۔ چنانچہ علم اب ٹیوشن کلاس میں بکتا ہے، اکثرتعلیمی اداروں میں تو فقط جوتیوں میں دال بٹتی ہے۔
ابھی ابھی تک ہمارے ملک میں خواتین کی پسماندگی کی شکایت عام تھی۔ موجودہ زمانے میں نہ صرف شرح پیدائش بلکہ تعلیم کے معاملے میں بھی خواتین نے مردوں کو اس قدر پیچھے چھوڑ دیا ہے کہ اب ’ تحریک ِ مرداں ‘چلانے کی ضرورت ہے۔ لیڈیز فرسٹ کا نعرہ اب لیڈیز فاسٹ کے نعرے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود بعض لوگ ہمارے ملک کو بد نام کرنے کی خاطر یہ شور مچاتے ہیں کہ یہاں خواتین محفوظ نہیں ۔ قدیم زمانے میں اس ملک کی خواتین اپنے شوہر اورسسرال کی عزت و ناموس پر ستی ہوجایا کرتی تھیں، موجودہ زمانے میں اپنے والدین اور مائیکے کی غربت پر اپنی ساسوں کے ہاتھوں نچھاور ہو جاتی ہیں ۔ خواتین کا ایسا زبردست کرداردنیا میں اور کہاں؟
شیکسپیئر نے کہا تھا: ’عاشق کا المیہ یہ ہے کہ اسے محبوبہ کے رخسار کے خوبصورت تل کے لئے محبوبہ کے پورے وجود کو برداشت کر نا پڑتا ہے۔ ‘ اگر باالفرض ِ محال ہمارے ملک میں چند خرابیاں ہیں بھی تو ان کی حیثیت بہر حال ایک تل جیسی ہیں ۔ کیا ہم اپنے محبوب وطن کے لئے اس تل کو برداشت نہیں کر سکتے ( تل کا تاڑ بنانا کیا ضروری ہے )۔ بس ایک تل ہی تو ہے، باقی تو سب خیریت ہے !