اداکارہ کرتیکا کامرا کا کہنا ہے کہمیں ابھی اس مقام تک نہیں پہنچی ہوں کہ اسکرپٹ پڑھ کر یہ طے کرلوں کہ مجھے یہ فلم یا شو کرنا ہےیا نہیں؟ میں اپنے کردار کو نبھانے سے پہلے بہت زیادہ ہوم ورک کرتی ہوں،اس کے بعد ہی شوٹنگ کیلئے جاتی ہوں۔
EPAPER
Updated: October 29, 2023, 10:42 AM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
اداکارہ کرتیکا کامرا کا کہنا ہے کہمیں ابھی اس مقام تک نہیں پہنچی ہوں کہ اسکرپٹ پڑھ کر یہ طے کرلوں کہ مجھے یہ فلم یا شو کرنا ہےیا نہیں؟ میں اپنے کردار کو نبھانے سے پہلے بہت زیادہ ہوم ورک کرتی ہوں،اس کے بعد ہی شوٹنگ کیلئے جاتی ہوں۔
اترپردیش کے بریلی شہرمیں پیدا ہونے والی اور مدھیہ پردیش میں پرورش پانے والی اداکارہ کرتیکا کامرا نے ٹی وی شوز سے اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا۔۲۰۱۶ء میں انہوں نے فلموں کا رخ کیا اور اسی سال انہوں نے ویب شوز میں بھی کام شروع کیا۔ چند ہفتے قبل ہی ان کا ویب شو ’بمبئی میری جان ‘ منظر عام پرآیا ہے جس میں ان کے کردار حبیبہ کیلئے ان کی کافی پزیرائی ہوئی ہے۔ ان کا اگلا پروجیکٹ بھی تیار ہے جس میں وہ ایک پولیس افسر کے روپ میں نظر آنے والی ہیں ۔کرتیکا نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ٹی وی شوز میں اچھے رول ملنے کی وجہ سے ان کی تعلیم پوری نہیں ہوسکی۔۲۰۰۷ء میں وہ ٹی وی شو ’یہاں کے ہم سکندر‘ سے شو بز انڈسٹری میں داخل ہو ئی تھیں ، اس کے بعد انہیں یکے بعد دیگرے شوز ملتے گئے اورمسلسل مصروف رہیں ۔ ۲۵؍ اکتوبر کو ان کی سالگرہ تھی جسے انہوں نے نہایت خاموشی سے منایا۔ انقلاب نےان سے بات چیت کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
’برتھ ڈے‘ کی کچھ خاص یادیں ہوں تو بتائیں ؟
ج: مجھے بچپن کے جنم دن کے وہ لمحات بہت یاد آتے ہیں جب میری والدہ اس کی تیاری کیا کرتی تھیں ۔ ہم متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ،ایسے میں ہمارے والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ بچے کا جنم دن اچھے سے منائیں۔ میری والدہ کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اس دن کو یادگاربنا دیں ، اس کیلئے وہ خود ہی کیک تیار کرتی تھیں ، چاکلیٹ اور سموسے بھی تیار کرلیا کرتی تھیں۔ ایک مڈل کلاس فیملی کی دیگر ضروریات بھی ہوتی ہیں ،ایسے میں میری والدہ ہر چیز کا خیال رکھتے ہوئےمیرے برتھ ڈے کی تیاری کیا کرتی تھیں۔ماں کے ذریعہ کی ہوئی تیاری کے وہ دن مجھے بہت یاد آتے ہیں۔
کریئر یا زندگی میں آپ کوئی ہدف طے کرتی ہیں ؟
ج: کورونا سے قبل میں ڈسپلن کی زیادہ پابند نہیں تھی۔ میں روز صبح جلدی اٹھ کر ایک جیسا کام کرنے والی لڑکی نہیں ہوں بلکہ جو ملا کھالیا، جو ملا پہن لیا ،میرا رہن سہن ایسا ہی کچھ تھا۔ لیکن کورونا کے بعد سے میں اپنی صحت کا بہت خیال رکھ رہی ہوں اور ڈسپلن پر عمل کرتی ہوں ۔ کورونا نے مجھے ڈسپلن میں رہنا سکھادیا ہے۔ میرے کریئر اور زندگی کا ایک ہی ہدف ہے کہ ایک کام کے بعد دوسرے کام کیلئے تیار رہئے۔ یہ نہیں کہ ایک کام کیا اور اسی کو مسلسل کئے جارہے ہیں ۔ میں کچھ سوچتی ہوں تو اسے پورا کرنے کے بعد دوسری خواہش کرتی ہوں جوکہ پچھلی والی سے قدرے مختلف ہوتی ہے۔
کیا آپ نے اس برتھ ڈے پر کوئی نیا عزم کیاہے؟
ج: جیسا کہ میں نےابھی بتایاکہ میں ڈسپلن پر زیادہ توجہ نہیں دیتی تھی البتہ کورونا کے بعد سے مجھ میں تھوڑی تبدیلی آئی ہےلیکن رات کے وقت دیرتک جاگنے کی ایک ایسی عادت ہے جو چھوٹ نہیں رہی ہے۔ یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے اور میں چاہتی ہوں کہ یہ عادت بھی جلد ختم ہو جائے۔ اس کیلئے میں رات میں جلد سوجانے کی کوشش کروں گی۔ بہرحال اسی عادت کو چھوڑنے کا عزم کیا ہے۔
آپ کا اگلا پروجیکٹ کیاہے اورکب تک آئے گا؟
ج: میرا گلاپروجیکٹ ۱۱/۱۱؍نامی ایک فلم ہے جس کی شوٹنگ مکمل ہوگئی ہے۔ میں نے اپنی طرف سےشوٹنگ مکمل کردی ہے جس پر پوسٹ ایڈٹنگ کا کام جاری ہے۔ پروڈکشن ہاؤس وی ایف ایکس پر بھی کام کررہاہے۔ میں بھی اس کا انتظار بے صبری سے کررہی ہوں ۔ امید ہے کہ یہ جلدہی ریلیزکردی جائےگی۔
کیا اب بھی آپ کے سیکھنے کا عمل جاری ہے ؟
ج: جی ہاں ، یہ عمل تو زندگی بھر جاری رہنا چاہئے کیونکہ ہم اس دور میں جی رہے ہیں جس میں روزانہ نئے نئے انقلاب آرہے ہیں۔اسلئے ہمیں خود بھی اپ گریڈ ہونا پڑتا ہے۔ میں خود کو بہتر کرنے کیلئے مسلسل سوچتی رہتی ہوں اور مختلف چیزوں پر تجربہ بھی کرتی رہتی ہوں ۔میں ابھی اس مقام تک نہیں پہنچی ہوں کہ جہاں اسکرپٹ پڑھ کر یہ طے کروں کہ مجھے یہ فلم یا شو کرنا ہےیا نہیں۔ میں اپنے کردار کو نبھانے سے پہلے بہت زیادہ ہوم ورک کرتی ہوں ،اس کے بعد ہی شوٹنگ کیلئے جاتی ہوں ۔
’بمبئی میری جان‘ کا تجربہ کیسا رہا؟
ج: ویب شو کا تجربہ بہت ہی اچھا رہا۔ شروعات میں جب اس کی شوٹنگ شروع ہوئی تو سبھی لوگ میرے لئے انجان تھے اور میں بھی اپنے کام پر توجہ دیتی رہی، دن گزرنے کے ساتھ ہی سبھی کے ساتھ اچھے روابط بنے اور شوٹنگ کے آخری دن میں سبھی کے تعلق سے بہت جذباتی ہوگئی تھی۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ بمبئی میری جان گا دوسرا حصہ بھی بنے گا اور ہم سبھی ایک ساتھ کام کریں گے۔
پہلے گینگسٹر اور اس کے بعد پولیس کا رول ، کس طرح کے تجربات کا احسا س ہوتاہے؟
ج: بمبئی میری جان میں حبیبہ کا جو کردار تھا وہ بہت طاقتور تھاکیونکہ اسے زندہ رہنے کیلئے اپنے دشمنوں کو مارنا تھا۔ حبیبہ اپنی نجی زندگی کے بارے میں ہی زیادہ سوچتی تھی اور اس کی سبھی ذمہ داریاں بھی ذاتی ہوتی تھیں ۔ دوسری طرف فلم ۱۱/۱۱؍میں ، میں پولیس کا کردارنبھا رہی ہوں ، میں اس کے بارے میں زیادہ نہیں بتا سکتی لیکن اتنا کہہ سکتی ہوں کہ یونیفارم پہننے کے بعد پولیس کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ اسے صرف اپنے بارے میں نہیں سوچنا ہوتا بلکہ پورے سماج کے بارے میں سوچنا ہوتاہے۔ یونیفارم پہننے کے بعد میں خود کو طاقتور سمجھ رہی تھی لیکن یہ طاقت صرف یونیفارم کی تھی۔
کیا آپ اپنے علاوہ دیگرفنکاروں کے بھی شوز اور ان کی فلمیں دیکھتی ہیں ؟
ج: مجھے فلمیں اور ویب شوز دیکھنا پسند ہے۔ میں اپنے اہم پروگرام بھی ان کیلئے منسوخ کرتی ہوں کیونکہ مجھےان سے سیکھنے کاموقع ملتاہے۔ سب سے پہلے تو میں اپنے شوز ہی دیکھنا پسند کرتی ہوں ، اس کے بعد مغربی ممالک کے شوز اور فلمیں دیکھتی ہوں جن کے نام یہاں نہیں لے سکتی۔ اس کے بعد ہندی ویب شوز آتے ہیں ۔ میں نے حال ہی میں ویب شوکہرام دیکھا ہے۔ اس کے بعد جبلی ویب سیریز دیکھی ہے۔ مجھے یہ بہت اچھی لگی تھی کیونکہ اس میں فلم انڈسٹری کے ماضی کے بارے میں بتایا گیاہے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر ویب شوز بھی دیکھے ہیں ۔ اسی طرح اپنے پسندیدہ اداکار شاہ رخ خان کی دونوں فلمیں پٹھان اور جوان دیکھی ہیں اور اب ’ڈنکی ‘ کا انتظار ہے۔ میں فلمیں بہت دیکھتی ہوں ۔
بمبئی میری جان کے دوسرے حصے پر کب کام شروع ہوگا؟
ج: بمبئی میری جان کا پہلا حصہ حال ہی میں ختم ہوا ہے اور اس کے دوسرے حصے پر کام شروع کرنے میں وقت لگے گا کیونکہ کسی بھی شو یا فلم کو بنانے کیلئے وقت لگتاہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آج اعلان کیا اور اگلے دو دن کے بعد اس کی شوٹنگ شروع ہوگئی۔ پہلے اسکرپٹ پر کام ہوگا، کہانی میں تبدیلی لائی جائے گی، ہم سبھی کے کرداروں کو نئے سانچے میں ڈھالاجائے گا۔ان سبھی چیزوں کو سوچنے اور لکھنے کیلئے وقت لگتاہے۔ ہم بھی امید کررہے ہیں کہ یہ شو جلد ہوگا۔