بالی ووڈ میں کمار گورو کا نام ایک ایسے اداکار کے طور پر شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے ۸۰ءکی دہائی میں’لور بوائے‘کے طور پر شائقین کے درمیان اپنی شناخت بنائی۔ کمار گورو لکھنؤمیں۱۱؍جولائی ۱۹۵۶ءکوپیدا ہوئے۔
کمار گورو۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ میں کمار گورو کا نام ایک ایسے اداکار کے طور پر شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے ۸۰ءکی دہائی میں’لور بوائے‘کے طور پر شائقین کے درمیان اپنی شناخت بنائی۔ کمار گورو لکھنؤمیں۱۱؍جولائی ۱۹۵۶ءکوپیدا ہوئے۔ان کے والدراجندر کمار اپنے وقت کے ایک سپر اسٹاررہ چکے ہیں۔ان کی پہلی فلم ’لو اسٹوری‘ نےانہیں مقبول بنایا اور وہ ایک چاکلیٹی اداکار کے طور پر ابھرے۔ منوج تلی عرف کمار گورو، بچپن سے ہی اپنے والد راجندر کمار کی طرح اداکار بننا چاہتے تھے۔انہوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز ۱۹۸۱ءمیں اپنے والد کی بنائی گئی فلم ’لواسٹوری ‘سے کیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد کمار گورو نے تیری قسم،اسٹار،لورس اور رومانس جیسی فلموں میں کام کیا۔ تیری قسم کے علاوہ تمام فلمیں باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئیں ۔۱۹۸۵ءمیں کمار گورو کی ایک اور سپر ہٹ فلم ’نام‘ ریلیز ہوئی لیکن اس فلم کی کامیابی کا کریڈٹ سنجے دت کے حصے میں آیا۔۱۹۹۱ءمیں آئی فلم اندرجیت میں کمار گورو کو امیتابھ بچن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جس میں ان کا کردار کسی حد تک پسند کیا گیا۔اپنے فلمی کریئر میں کمار گورو نے تقریباً ۱۶؍فلموں میںکام کیا۔جن میں ہم ہیں لا جواب، آل راؤنڈر، ڈائیوورس، ایک سے بھلے دو، جانم، بیگانہ، البیلا، آج، گونج، جرأت ، ہائے میری جان اور پھول شامل ہیں۔
۲۰۰۲ءمیں ریلیز ہوئی فلم کانٹے کمار گورو کے کریئر کی آخری ہٹ فلم ثابت ہوئی ۔ انہوں نے ۲۰۰۴ءمیں روہت جگیسر کی ایک امریکی فلم ’گینی ۱۹۳۸ء‘ میں بھی کام کیا جسےایوارڈ سے نوازہ گیا تھا۔
کمار گورو کی شادی معروف اداکارسنیل دت کی بیٹی سے ہوئی ہے۔اس طرح کمار گورو سنجے دت کے بہنوئی ہیں، جن کا فلمی کریئر انتہائی دلچسپ رہا ہے۔کمار گورو نے۱۹۸۶ءمیں فلم ’نام‘ کے ساتھ اپنےکریئر کو آگے بڑھانے کے لئے ایک بار پھر کوشش کی اگرچہ اس فلم نے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی تھی ، لیکن اس فلم میں صرف سنجے دت کی اداکاری کی تعریف کی گئی تھی۔۱۹۹۳ءمیں ریلیز ہونے والی فلم ’پھول‘ کا ذکر خصوصی طور پر کیا جاتا ہےجس میںان کے والد اور سسر دونوں نے ایک ساتھ کام کیا تھا۔
باکس آفس پرمسلسل ناکامی نے کمارگورو کو۹۰؍ کی دہائی میں اداکاری سے طویل وقفہ لینےپر مجبور کردیا۔ وہ دیپا مہتا کی ۱۹۹۸ء میں بننے والی فلم پرتھوی میں ایک کردار کے لئے بالی ووڈ میں دوبارہ داخل ہوئے۔ ان کی اگلی فلم ’کانٹے‘ ۲۰۰۰ءمیں آئی تھی ، جس میں انہوںنے امیتابھ بچن اور سنجے دت جیسے اداکاروں کے ساتھ ایک دلچسپ کردار ادا کیا تھا۔ اگرچہ ، کمار گورو بالی ووڈ میں کوئی خاص جگہ نہیں بنا سکے ، لیکن ان کی یاد آج بھی’۸۰ء کی دہائی کے چاکلیٹ بوائے‘کی حیثیت سے لوگوں کے ذہنوں پر ہے۔
کمارگورو آج کل فلموںسے دور ہیں۔ کمار گورو نے وقت کے ساتھ ساتھ اداکاری سے دوری اختیارکرلی۔ انہوں نے ٹیلی ویژن اور کچھ فلموں میں ڈبنگ آرٹسٹ کے طور پر بھی کام کیا (جیسے ہالی ووڈ فلم ’انسیپشن‘میں لیونارڈو ڈی کیپریو کے کردار کے لیے ہندی آواز)۔ آج کل وہ فلمی دنیا سے دور اپنے خاندانی کاروبار (ٹریول اور کنسٹرکشن بزنس) پر توجہ دے رہے ہیں اور ممبئی میں اپنی فیملی کے ساتھ ایک پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔