حکومت مہاراشٹر کے محکمہ ثقافتی امور کی جانب سے حال ہی میں متعارف کروائی گئی ’کلاونت‘ اسکیم میں اردو شعراء کو شامل کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔
ودھان بھون۔ تصویر:آئی این این
حکومت مہاراشٹر کے محکمہ ثقافتی امور کی جانب سے حال ہی میں متعارف کروائی گئی ’کلاونت‘ اسکیم میں اردو شعراء کو شامل کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ اسی سلسلے میں رکن اسمبلی رئیس قاسم شیخ کی قیادت میں اردو دانوں کے ایک وفد نے ودھان بھون میں وزیر برائے ثقافتی امور ایڈوکیٹ اشیش شیلار سے ملاقات کرکے اردو شعراء اور ادباء کو بھی اس اسکیم کا حصہ بنانے کی درخواست پیش کی۔
یہ ملاقات اردو کارواں کی جانب سے رکن اسمبلی رئیس قاسم شیخ کو پیش کی گئی درخواست کے بعد منعقد ہوئی۔ وفد میں معروف شاعر عرفان جعفری، عبید اعظم اعظمی، ڈاکٹر قمر صدیقی اور اردو کارواں کے صدر فرید احمد خان شامل تھے۔ وفد نے وزیر کو بتایا کہ اردو شعراء اور ادباء مہاراشٹر کی تہذیبی، ثقافتی اور ادبی روایت کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے ریاست کی مشترکہ تہذیب، ثقافت اور ادبی ورثے کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں، اس لئے انہیں بھی ’کلاونت‘ اسکیم کے دائرۂ کار میں شامل کیا جانا چا ہئےتاکہ وہ حکومت کی مالی معاونت، سرپرستی اور دیگر سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
وفد نے اس بات پر زور دیا کہ مہاراشٹر میں اردو زبان نہ صرف ایک ادبی زبان ہے بلکہ اس کے ثقافتی اثرات بھی نہایت گہرے ہیں۔ اردو شعراء اور ادباء نے ریاست کی گنگا جمنی تہذیب کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لہٰذا ان کی خدمات کو سرکاری سطح پر تسلیم کرتے ہوئے انہیں بھی دیگر فنکاروں کی طرح اس اسکیم سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا جانا چا ہئے۔
وفد کی نمائندگی پر مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر برائے ثقافتی امور اشیش شیلار نے یقین دہانی کروائی کہ اردو شعراء کو ’کلاونت‘ اسکیم میں شامل کرنے کیلئے ضروری سرکاری کارروائی کی جائے گی تاکہ وہ بھی اس اسکیم کے تحت دستیاب فوائد حاصل کر سکیں۔ اس موقع پر رکن اسمبلی رئیس قاسم شیخ نے وزیر اشیش شیلار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حکومت جلد اس سلسلے میں عملی فیصلہ کرے گی، جس کے نتیجے میں اردو زبان و ادب سے وابستہ شعراء اور ادباء کو بھی دیگر فنکاروں کی طرح سرکاری سرپرستی، مالی تعاون اور حوصلہ افزائی حاصل ہوگی۔امید کی جا رہی ہے کہ حکومت اردو والوںکے اس مطالبے کو پورا کرے گی۔