۱۰؍ دن بعد بھی اختتام کا باضابطہ اعلان نہ ہونے پر چہ میگوئیاں، کانگریس نے پوچھا: کیا امیت شاہ اب بھی دوتہائی اکثریت کی تلاش میں ہیں؟
EPAPER
Updated: August 24, 2026, 10:29 AM IST | Agency | New Delhi
۱۰؍ دن بعد بھی اختتام کا باضابطہ اعلان نہ ہونے پر چہ میگوئیاں، کانگریس نے پوچھا: کیا امیت شاہ اب بھی دوتہائی اکثریت کی تلاش میں ہیں؟
پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہوئے ۱۰؍ دن گزر چکے ہیں مگر اب تک حکومت نے اجلاس کے خاتمے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا جس سے یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ کہیں حکومت حد بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل منظور کرانے کیلئے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے پر غور تو نہیں کر رہی ہے۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے اس پر مودی حکومت سے سوال بھی کیا ہے کہ کیا امیت شاہ اب بھی دوتہائی اکثریت کی تلاش میں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ریلوے کی چادر اوڑھے کچھ افراد بازار میں گھومتے نظر آئے، ویڈیو وائرل
لوک سبھا اور راجیہ سبھا کو۱۳؍ ا گست کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ عام طور پر اجلاس کے غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہونے کے چند دنوں بعد اس کے باضابطہ ختم ہونے کا اعلان ( پروروگ)کر دیا جاتا ہے لیکن اتوار کی صبح تک اس سلسلے میں کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ۔ مثال کے طور پر بجٹ اجلاس۱۸؍ اپریل کو ختم ہوا تھا اور ۲؍ دن بعد اسے پروروگ کر دیا گیا تھا۔آئین کے تحت پارلیمنٹ کا اجلاس حکومت کی سفارش پر صدر جمہوریہ طلب کرتے ہیں اور ان ہی کی طرف سے اس کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے۔ ۱۰؍دنوں کی تاخیر نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے۔ سرکار پہلے ہی یہ اشارہ دے چکی ہے کہ وہ ۲۰۲۹ء کے لوک سبھا انتخابات سے قبل پارلیمانی حد بندی بل کو منظور کرواناچاہتی ہے۔ پارلیمنٹ کی سیٹوں میںخواتین کیلئے ۳۳؍ فیصد ریزرویشن جسے پارلیمنٹ کی منظوری مل چکی ہے، کے نفاذ کو حکومت نے پارلیمانی حد بندی سے مشروط کر دیا ہے۔ بجٹ اجلاس کے دوران اس بل کو منظور کرانے کی ایک کوشش دوتہائی اکثریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہوچکی ہے۔ اپوزیشن کی حکومت والی جنوبی ریاستوں نے خدشات ظاہر کئے ہیں کہ آبادی کی بنیاد پر ہونے والی حد بندی سے لوک سبھا میں ان کی نمائندگی کم ہو سکتی ہے۔
ان خدشات کو دور کرنے کیلئے حکومت ایک ایسے فارمولے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں لوک سبھا کی نشستوں میں یکساں طور پر۵۰؍ فیصد کا اضافہ کیا جائے تاہم وہ اب تک جنوب کی ریاستوں کو مطمئن نہیں کرسکی ۔کانگریس نے اجلاس کے خاتمے کے باضابطہ اعلان نہ ہونے پر سوال اٹھایا اور الزام لگایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ حد بندی سے متعلق بل منظور کرانے کے لیے درکار تعداد اب بھی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ لوک سبھا کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کیے جانے اور اسے ’’پروروگ‘‘ کئے جانے کے درمیان عام طور پر۲؍ سے ۴؍دن کا وقفہ ہوتا ہے، اگرچہ ایسی مثالیں بھی ہیں جب دونوں کارروائیاں ایک ہی دن ہوئیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’موجودہ لوک سبھا اجلاس کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کیے ہوئے۱۰؍ دن گزر چکے ہیں، لیکن اب بھی اس کے پروروگ کئے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔‘‘ رمیش نے تسلیم کیا کہ۲۰۱۵ء میں یہ وقفہ۲۸؍دن اور۲۰۲۱ءمیں۲۰؍ دن رہا تھا لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ’’ایسی خطرناک چالیں‘‘ نہیں چلی جا رہی تھیں۔ اس بیچ لوک سبھا کے سابق سیکریٹری جنرل پی ڈی ٹی آچاری نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ اس بارے میں کوئی واضح اصول نہیں ہے کہ ایوان کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کئے جانے کے بعد کب اس کے باضابطہ خاتمے کا اعلان ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک معمول کا عمل ہے جو’’پروروگ‘‘کہلاتا ہے۔ صدر جمہوریہ وزراء کی کونسل کے مشورے پر ایوان کو پروروگ کرتے ہیں۔ عام طور پر اس میں چند دن لگتے ہیں، تاہم اس کے لیے کوئی مقررہ مدت نہیں ہے۔آچاری نے کہا کہ ایسی مثال بھی موجود ہے جب اگلا اجلاس شروع ہونے تک ایوان کو پروروگ نہیں کیا گیا اور اسے گزشتہ اجلاس کا تسلسل تصور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ہم حکومت کو پوری نسل کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دیں گے: سی جے پی
قیاس آرائیوں کو تقویت کیوں ملی؟
ا س ضمن میں قیاس آرائیاں اس وقت سے جاری ہیں جب تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے نے۲۱؍ اگست کو مہابلی پورم میںجنوبی زونل کونسل کے اجلاس میں حد بندی سے متعلق اپنے موقف میں مبینہ طور پر نرمی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت یقین دہانی کرائے کہ آبادی کو مستحکم کرنے کی وجہ سے کسی ریاست کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کم نہیں ہوگی۔ یہ ۱۲؍ اگست کی تمل ناڈو اسمبلی کی قرار داد کے مقابلے میں نرم موقف تصور کیاگیا۔
خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں
ایسی قیاس آرائیاں بھی کی گئی تھیں کہ حکومت یوم آزادی کے بعد آئینی ترمیمی بل منظور کرانے کی کوشش کر سکتی ہے اوراس کیلئے ۳؍دنوں کا خصوصی اجلاس طلب کیا جا سکتا ہے۔ تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ وجے کے موقف میں تبدیلی نے اس کو تقویت دیا جو پہلے کھلی مخالفت کررہے تھے مگر بعد میں یقین دہانی کا مطالبہ کرنے لگے جبکہ ڈی کے شیوکمار نے ۲۵؍ سال تک پارلیمانی حد بندی روک دینے کی مانگ کی۔