• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدھوبالا کی سنگِ مرمر سے بنی قبر والد کے انتقال کے بعد توڑ دی گئی تھی

Updated: October 30, 2026, 8:03 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ کی ماضی کی معروف اور خوبصورت اداکارہ مدھوبالا کی زندگی سے جڑی ایک جذباتی یاد ان کی بہن مدھر بھوشن نے شیئر کی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ مدھوبالا کے انتقال کے بعد ان کے والد عطااللہ خان اپنی بیٹی کی قبر پر برسوں تک جاتے رہے، وہاں بیٹھ کر روتے تھے اور اس کی یاد میں گھنٹوں وقت گزارتے تھے۔

Madhubala.Photo:INN
مدھو بالا۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ کی ماضی کی معروف اور خوبصورت اداکارہ مدھوبالا کی زندگی سے جڑی ایک جذباتی یاد ان کی بہن مدھر بھوشن نے شیئر کی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ مدھوبالا کے انتقال کے بعد ان کے والد عطااللہ خان اپنی بیٹی کی قبر پر برسوں تک جاتے رہے، وہاں بیٹھ کر روتے تھے اور اس کی یاد میں گھنٹوں وقت گزارتے تھے۔ مدھر کے مطابق ان کے والد نے مدھوبالا کی تدفین کے وقت قبر میں اور ان کے جسم پر بڑی مقدار میں عطر بھی ڈالا تھا، جس کی خوشبو کئی مہینوں تک قبرستان میں محسوس کی جاتی رہی۔ تاہم والد کے انتقال کے بعد مدھوبالا کی قبر پر تعمیر کی گئی سنگِ مرمر کی یادگاری عمارت کو توڑ دیا گیا، جس سے خاندان کو شدید صدمہ پہنچا تھا۔
 مدھر بھوشن نے فلمی صحافی وکی لالوانی کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ ان کے والد بظاہر سخت مزاج تھے، لیکن اپنے بچوں سے بے حد محبت کرتے تھے۔ مدھوبالا کے انتقال کے بعد وہ طویل عرصے تک ان کی قبر پر جاتے رہے۔ مدھر کے مطابق والد کو اپنی زندگی میں تین مرتبہ دل کا دورہ پڑا تھا اور دماغی فالج کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ذیابیطس کے مرض میں بھی مبتلا تھے، لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود بیٹی کی قبر پر جانا نہیں چھوڑا۔مدھر نے بتایا کہ ان کے والد قبرستان پہنچ کر ایک کرسی رکھتے اور اس پر بیٹھ کر مدھوبالا کو یاد کرتے ہوئے روتے تھے۔ ان کے لیے بیٹی کی جدائی کا صدمہ ناقابلِ برداشت تھا اور وہ کئی برس تک اس غم سے باہر نہیں نکل سکے۔
 مدھر بھوشن نے ایک اور جذباتی واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مدھوبالا کی تدفین کے موقع پر ان کے والد نے قبر میں اور ان کے جسم پر بڑی مقدار میں عطر ڈالا تھا۔ ان کے مطابق عطر اتنی زیادہ مقدار میں استعمال کیا گیا تھا کہ کئی مہینوں تک پورے قبرستان میں خوشبو محسوس ہوتی رہی۔انہوں نے اس عمل کو اپنے والد کی بیٹی سے گہری محبت اور جدائی کے غم سے جوڑتے ہوئے کہا کہ انہیں آج بھی معلوم نہیں کہ اس موقع پر اس کی اجازت کیسے ملی تھی۔ مدھر کے مطابق یہ عام مسلم تدفین کے طریقے سے مختلف عمل تھا، لیکن ان کے والد نے اپنی بیٹی کی محبت میں ایسا کیا۔

یہ بھی پڑھئے:نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز سے پرسدھ کرشنا باہر

مدھر نے بتایا کہ عطااللہ خان نے مدھوبالا کی قبر کو سنگِ مرمر سے مکمل طور پر تعمیر کروایا تھا۔ قبر کے اطراف کے ساتھ اس کے درمیانی اور اوپری حصے کو بھی سنگِ مرمر سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق روایتی طور پر قبر کے درمیانی حصے کو مکمل طور پر بند نہیں کیا جاتا، لیکن ان کے والد نے بیٹی کی قبر کو خصوصی طور پر مکمل طور پر سنگِ مرمر سے بنوایا تھا۔مدھر کے مطابق والد کے انتقال کے بعد قبرستان میں موجود اس سنگِ مرمر کے ڈھانچے کو یہ کہتے ہوئے توڑ دیا گیا کہ اسے اس طرح برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ اس واقعے سے خاندان کو گہرا صدمہ پہنچا اور انہیں محسوس ہوا کہ مدھوبالا کی قبر کا کوئی نشان باقی نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب خاندان نے یہ امید ہی چھوڑ دی تھی کہ انہیں دوبارہ مدھوبالا کی قبر کا کوئی سراغ مل سکے گا تاہم بعد میں کسی شخص نے انہیں بتایا کہ قبرستان میں مدھوبالا کی قبر اب بھی موجود ہے۔ اس اطلاع کے بعد جب وہ وہاں پہنچیں تو انہیں دور سے قبر کی نشاندہی کی گئی، جہاں مدھوبالا کا نام درج تھا۔  مدھر بھوشن نے بتایا کہ اسی قبرستان میں فلمی دنیا کی کئی دیگر معروف شخصیات بھی مدفون ہیں۔ ان کے مطابق دلیپ کمار کی قبر مدھوبالا کی قبر سے تقریباً پانچ سے دس میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کے علاوہ اداکارہ پروین بابی، معروف گلوکار محمد رفیع اور موسیقار نوشاد بھی اسی قبرستان میں دفن ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:اکشے کمار اور بھومی پیڈنیکر پریادرشن کی نئی کامیڈی فلم میں دوبارہ ایک ساتھ نظر آئیں گے

 مدھوبالا کی قبر کے حوالے سے یہ معاملہ نیا نہیں ہے۔ فروری ۲۰۱۰ء میں ممبئی کے جوہو مسلم قبرستان میں کئی معروف شخصیات کی قبروں پر بنے سنگِ مرمر کے ڈھانچوں اور یادگاری نشانات کو ہٹانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ ان میں مدھوبالا، محمد رفیع، نوشاد اور ساحر لدھیانوی جیسی شخصیات کی قبریں بھی شامل تھیں۔ اس وقت قبرستان انتظامیہ کی جانب سے جگہ کی کمی اور تدفین سے متعلق مذہبی اصولوں کا حوالہ دیا گیا تھا۔ قبروں کے اوپر بنے ڈھانچے ہٹانے کے بعد زمین کو برابر کرکے نئی تدفین کے لیے جگہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ مدھر بھوشن نے اس وقت بھی اپنی بہن کی قبر پر تعمیر کیے گئے سنگِ مرمر کے یادگاری ڈھانچے کو ہٹائے جانے پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔
 واضح رہے کہ مدھوبالا کا شمار ہندوستانی سنیما کی مقبول ترین اور خوبصورت اداکاراؤں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی اداکاری اور دلکش شخصیت سے فلمی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا تھا۔ فلم ’’مغلِ اعظم‘‘ میں ان کا کردار آج بھی شائقین کے ذہنوں میں زندہ ہے۔ وہ طویل عرصے سے دل کی بیماری میں مبتلا تھیں اور ۲۳؍ فروری ۱۹۶۹ء کو محض۳۶؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ ان کے والد عطااللہ خان کا انتقال ۱۹۷۵ء میں ہوا تھا۔ مدھر بھوشن کے اس انکشاف نے ایک بار پھر مدھوبالا کی زندگی، ان کے خاندان کے جذبات اور بالی ووڈ کی اس عظیم اداکارہ سے جڑی یادوں کو تازہ کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK