Updated: November 07, 2026, 7:02 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ کی آنے والی فلم ’’پرلے‘‘ کی شوٹنگ نے ممبئی کے تاریخی آزاد میدان میں نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔ فلم کی شوٹنگ کے لیے میدان استعمال کرنے کی اجازت دیے جانے کے بعد انڈر ۱۴ اور انڈر ۱۶ کے بین المدارس کرکٹ میچوں کا شیڈول متاثر ہوا اور کئی مقابلے ملتوی کرنے پڑے۔
رنویر سنگھ۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ کی آنے والی فلم ’’پرلے‘‘ کی شوٹنگ نے ممبئی کے تاریخی آزاد میدان میں نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔ فلم کی شوٹنگ کے لیے میدان استعمال کرنے کی اجازت دیے جانے کے بعد انڈر ۱۴ ؍اور انڈر ۱۶؍ کے بین المدارس کرکٹ میچوں کا شیڈول متاثر ہوا اور کئی مقابلے ملتوی کرنے پڑے۔ اس معاملے پر ممبئی کرکٹ ایسوسی ایشن (ایم سی اے) نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے محکمۂ کھیل کے فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آزاد میدان نوجوان کرکٹ کھلاڑیوں کی تربیت اور مقابلوں کے لیے ایک اہم مرکز ہے، اسے تجارتی فلموں کی شوٹنگ کے لیے استعمال کرنے سے کھیلوں کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:حسام حسن کی معطلی کے بعد محمد صلاح کو مصر کی قومی فٹبال ٹیم کا عبوری کوچ بنانے کی تجویز
میڈیا رپورٹس کے مطابق، مہاراشٹر حکومت کے محکمۂ کھیل نے فلم ’’پرلے‘‘ کی پروڈکشن ٹیم کو آزاد میدان میں چھ گھنٹے تک شوٹنگ کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس مقصد کے لیے ممبئی کی پروڈکشن کمپنی لائٹ ریز کو میدان کی تقریباً ۵؍ ہزار مربع گز سرکاری اراضی استعمال کرنے کی منظوری دی گئی۔ اس کے عوض پروڈکشن ٹیم سے ۴۰ ؍ہزار روپے کرایہ وصول کیا گیا، جبکہ اتنی ہی رقم بطور قابلِ واپسی ضمانتی رقم جمع کرانے کی شرط بھی رکھی گئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ فلم کی شوٹنگ کے لیے میدان کے ایک حصے میں بڑے سیٹ تیار کیے گئے اور مصنوعی گھاس بھی بچھائی گئی۔ اس انتظام کے باعث وہاں پہلے سے طے شدہ انڈر ۱۴؍ اور انڈر ۱۶؍ کے کرکٹ مقابلے منعقد نہیں ہوسکے اور ممبئی کرکٹ ایسوسی ایشن کو انہیں ملتوی کرنا پڑا۔
ممبئی کرکٹ ایسوسی ایشن نے اس فیصلے پر اپنی ناراضگی درج کرانے کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر آف اسپورٹس کو خط لکھا ہے۔ ایسوسی ایشن کے ایپیکس کونسل کے رکن ندیم میمن نے کہا کہ آزاد میدان کوئی فلمی شوٹنگ کا مقام نہیں بلکہ ایک کرکٹ گراؤنڈ ہے، جہاں نوجوان کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں اور مستقبل میں اعلیٰ سطح پر ملک کی نمائندگی کرنے کی تیاری کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، میدان میں جاری ٹورنامنٹس پہلے سے طے شدہ تھے، لیکن فلم کی شوٹنگ کے سبب ان کے انعقاد میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر تجارتی سرگرمیوں کے لیے کرکٹ گراؤنڈ استعمال کیا جائے اور اس سے کھیلوں کے مقابلے متاثر ہوں تو اس نقصان کی ذمہ داری کون لے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ محکمۂ کھیل کو نوجوان کھلاڑیوں اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو ترجیح دینی چاہیے، نہ کہ کرکٹ کے میدانوں کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:اُرمیلا ماتونڈکر نے کلاسیکی گیت ’میرے پیا گئے رنگون‘ پر پرفارمنس دیا
رپورٹس کے مطابق، محکمۂ کھیل کی جانب سے شوٹنگ کی اجازت دیتے وقت پروڈکشن ٹیم پر متعدد پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔ ٹیم کو کرکٹ پچ پر گاڑیاں لانے، کھانا پکانے، زمین کی کھدائی کرنے یا ایسی کوئی سرگرمی انجام دینے سے منع کیا گیا تھا جس سے میدان کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔ اس کے علاوہ پولیس، ٹریفک محکمہ اور برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سے ضروری اجازت نامے حاصل کرنے کے ساتھ ممبئی کرکٹ ایسوسی ایشن کا عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) بھی پیش کرنا تھا۔ پروڈکشن ٹیم سے ۱۰۰؍ روپے کے اسٹامپ پیپر پر تحریری یقین دہانی جمع کرانے کی شرط بھی رکھی گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق، اجازت نامے پر محکمۂ کھیل کے انڈر سکریٹری اشوک دامایوار نے ۳۰ ؍اکتوبر کو دستخط کیے تھے، جبکہ اسے ممبئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسپورٹس اینڈ یوتھ سروسیز کے دفتر سے ۲؍نومبر کو آگے بھیجا گیا تھا۔ اس معاملے پر محکمۂ کھیل کے ڈپٹی ڈائریکٹر نوَناتھ فرتاڑے نے وضاحت کی ہے کہ حکومت کی قرارداد کے تحت محکمہ آزاد میدان کو سال میں زیادہ سے زیادہ ۳۰ ؍دن تک غیر کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے مختص کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، میدان میں موجود دیگر عارضی قبضوں اور دفاتر کو ہٹانے کے سلسلے میں بھی متعلقہ حکام کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹیسلا سائبرٹرک کی پیداوار کم کرکے سائبرکیب کی تیاری بڑھائے گی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر ہنسل مہتا نے شوٹنگ کے دفاع میں کہا ہے کہ پروڈکشن ٹیم نے فلم بندی سے قبل متعلقہ مجاز اداروں سے تمام ضروری اجازت نامے حاصل کیے تھے۔ انہوں نے ممبئی میں فلموں کی شوٹنگ کے لیے درپیش انتظامی مشکلات پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ بیوروکریٹک رکاوٹوں کے باعث شہر میں فلم سازی مشکل ہوتی جارہی ہے۔ اس طرح معاملہ صرف فلم کی شوٹنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ سرکاری کھیل کے میدانوں کے استعمال اور فلم سازوں کو دی جانے والی اجازتوں کے طریقۂ کار پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے۔