مجروح سلطانپوری فلمی دنیا کے حوالے سےشناخت نہیں چاہتے تھے

Updated: May 24, 2021, 2:16 PM IST | Agency | Mumbai

ادب میں اپنی شعری صلاحیتوں اور فلمی دنیا میں اپنی نغمہ نگاری کی وجہ سے علاحدہ شناخت قائم کرنے والے مجروح سلطان پوری بھی آج ہمارےدرمیان نہیں ہیں۔اردو غزل کا یہ البیلا شاعر ۲۴؍ مئی۲۰۰۰ءکو اس جہان فانی سے کوچ کر گیا۔

Majrooh Sultanpuri. Picture:INN
مجروح سلطانپوری۔تصویر :آئی این این

 ادب میں اپنی شعری صلاحیتوں اور فلمی دنیا میں اپنی نغمہ نگاری کی وجہ سے علاحدہ شناخت قائم کرنے والے مجروح سلطان پوری بھی آج ہمارےدرمیان نہیں ہیں۔اردو غزل کا یہ البیلا شاعر ۲۴؍ مئی۲۰۰۰ءکو اس جہان فانی سے کوچ کر گیا۔اک دن بک جائے گا ماٹی کے مول، کتنا نازک ہے دل یہ نہ جانا ، ہائے ہائے یہ ظالم  زمانہ، جب دل ہی ٹوٹ گیا ، ہم جی کے کیا کریں گے، ہمیں تم سے پیار کتنا، جیسےمعروف نغموں کے خالق مجروح سلطان پوری یکم اکتوبر۱۹۱۹ء کو اتر پردیش کے ضلع سلطان پور میں پیدا ہوئے۔اصل نام اسرارالحسن خان تھا۔والد پیشہ سے  سب انسپکٹر تھے۔ انھیں اعلیٰ تعلیم دینا چاہتے تھے لیکن مجروح نے ساتویں جماعت مکمل کرنے کے بعد عربی و فارسی کی تعلیم کے لیے سات سالہ کورس میں داخلہ کرا دیا۔ اردو ، فارسی اور عربی میں مجروح نے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ درس نظامی کا کورس مکمل کرنے کے بعد عالم بنے، جس کے بعد لکھنؤ کے تکمیل الطب کالج سے یونانی طریقہ علاج میں تعلیم حاصل کی اورحکیم بن گئے۔اپنا دواخانہ چلا یا،جہاں وہ مریضوں کو حکیمانہ نسخوں سے صحت یاب کرتے تھے ۔حکیمی دواخانہ کے ساتھ ساتھ سلطان پور میں مشاعروں میں بھی حصہ لیتے تھے ۔شعر و شاعری کا شوق تھا۔ پھر ایک وقت آیا کہ حکمت کو چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے شعر و شاعری سے رشتہ جوڑ لیا ۔ ایک مرتبہ سلطان پورمیں مشاعرے میں غزل پڑھی جسے سامعین نےبے حد سراہا۔ اِس طرح، مجروح نے حکمت چھوڑ کر شاعری کے ذریعے معاشرے کی نبض پہ ہاتھ رکھنے کاسوچا۔پھر لفظوں سے لوگوں کا علاج کرنے لگے۔
 ایسےوقت میں جگر مراد آبادی سےملاقات اور ان کی صحبت نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا۔ کم عمری سے ہی مشاعروں میں شرکت کرنے کے عادی مجروح اب بیرون ریاست مشاعروں میں بھی شرکت کرنے لگے تھے۔شعر و شاعری اور فلموں میں نغمہ نگاری کے دوران انھوںنے اپنا تخلص مجروح رکھا اور پھر مجروح سلطان پوری کےنام سے ہی معروف ہو گئے۔ مجروح اردو غزل کےمنفرد شاعر تھے، لیکن اُن کی غزلیات کی تعداد ۷۰؍سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ اُن کا شمار ترقی پسند شعرا میں ہوتا ہے۔
 مجروح اردو غزل کے منفرد شاعر تھے۔ اُن کا شمار ترقی پسند شعرا میں کیا جاتا ہے۔ جگر مرادآبادی کو مجروح اپنا استاد مانتےتھے۔ مجروح نے اپنا پہلا فلمی گیت ’غم دئیے مستقل‘ ۱۹۴۵ءمیںفلم شاہجہاں کے لیے تحریر کیا تھا۔ اسی نغمے نے مجروح کو فلمی نغمہ نگاروں کی پہلی صف میںلا کھڑا کیا۔ جن کی ہر طرف دھوم مچ گئی ان کا یہ گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتا ہے۔ پھر مجروح کا یہ فلمی سفر۵؍ دہائیوں تک چلتا رہا۔ البتہ مجروح کو یہ پسند نہیں تھا کہ ان کی شاعری کو فلم یا فلمی دنیا کے حوالے سے جانا جائے۔
 ان کے فلمی گیتوں میںخیالات کی نازکی سے بخوبی اندازا لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسے تخلیق کار کے قلم سےوجود میں آئے ہیں جوغزلیہ شاعری کا گہرا ادراک رکھتاہے اورجس نے تمام رموز سامنے رکھ کر اپنے تجربات اشعار کے قالب میں ڈھالے ہیں۔ مجروح نے ۵۰؍سال فلمی دنیا کو دیئے۔ انھوں نے ۳۰۰؍ سےبھی زائد فلموں میں ہزاروں گیت لکھے۔ ان کے سیکڑوں نغمے آج بھی ان کے شیدائیوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔
 ۱۹۴۵ءکی بات ہے جب مجروح نے ممبئی کے ایک مشاعرے میں شرکت کی تھی۔یہ وہ دور تھا جب ان کی شاعری ادبی حلقوں میں اپنا پرچم لہرا رہی تھی۔ ممبئی کا اس مشاعرے نے مجروح کی زندگی کا رخ ہی موڑدیا۔ مذکورہ مشاعرے میں فلم انڈسٹری کے مشہور پروڈیوسراے آر کاردار بھی شریک تھے جنھیں ان کی شاعری نے اپنا دلدادہ بنا لیا۔ کاردار نے فوراً مجروح کے پاس نغمہ نگاری کی پیشکش کی۔ حالانکہ اس وقت انھوں نے منع کر دیا لیکن جب جگر مراد آبادی نے مجروح کو سمجھایا تو وہ راضی ہو گئے۔ پھر کاردار نے موسیقار نوشاد سےمجروح کی ملاقات کرائی۔یہ وہ موقع تھا جب دو بڑی شخصیتوں کا’ملن‘ ہو رہا تھا۔ نوشاد نے فوراً ایک ساز (دھن) پیش کیا اور نغمہ لکھنے کی فرمائش کی۔ گویا مجروح کا پہلا فلمی نغمہ منظر وجود پر آیا۔ وہ نغمہ تھا:
جب اس نے گیسو بکھرائے بادل آیا جھوم کے
 مست امنگیں لہرائی ہے رنگیں مکھڑا چوم کے
 نوشاد کو یہ نغمہ بہت پسند آیا اور انھوں نے فلم ’تاج محل‘ میں نغمہ نگاری کی ذمہ داری مجروح کے سپرد کر دی۔ اس فلم کےنغموں کی پسندیدگی کا یہ عالم تھا کہ سبھی کی زبان پر صرف مجروح کا ہی نام تھا۔ اس کے بعد ان کےپاس نغمہ نگاری کیلئے کئی پیشکش آئے اور یہی موقع تھاجب وہ بالی ووڈ کے ہو کر رہ گئے۔ حالانکہ ایسا کہنا درست نہیں ہوگا کہ انھوں نے فلموں میں نغمہ نگاری کی اور ادب سےکنارہ کش ہو گئے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کم و بیش ۷۰؍ غزلیں لکھی ہیںجب کہ فلمی نغموں کی تعداد تقریباً ۴؍ ہزار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK