Updated: March 24, 2026, 5:28 PM IST
| Gaza
مرکزی غزہ کے المغازی کیمپ میں پیش آنے والا ایک افسوسناک واقعہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں مبینہ طور پر اسرائیلی فوج نے ایک کمسن بچے کو اس کے والد کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا۔ میڈیکل رپورٹس کے مطابق بچے کے پیروں کو سگریٹ سے جلایا گیا ہے اور ناخن گاڑ کر پیر کو زخمی کیا گیا ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔
فلسطین ٹی وی نے فلسطینی صحافی اسامہ الکحلوت کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوجی نے ایک باپ سے بیان لینے کیلئے اس کے ایک سال کے بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ٹی وی میں جس بچے کی تصاویر نشر ہوئیں جس کی شناخت کریم کےنام سےہوئی ہے، اس بچے کو اسرئیلی فوج نے مرکزی غزہ میں المغازی کیمپ کے قریب حراست میں لیا تھا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ بچے کے والد اسامہ ابو ناصر اپنے گھوڑے جسے وہ آمدنی کیلئے استعمال کرتے تھے، کی موت کی وجہ سے صدمے کاشکار تھے۔
جب وہ اپنے بچے کو سامان دلانے لے جا رہے تھے عین اسی وقت وہ اپنے گھر کے پاس گولیوں کی زد میں آ گئے۔ انھیں اسرائیلی فوجیوں نے اپنے ۱۸؍ مہینے کے بچے کو زمین پر چھوڑنے کیلئے مجبور کیا اور قریبی اسرائیلی چوکی پر تفتیش کیلئے لے جایا گیا۔ میڈیکل رپورٹ سے تصدیق ہوئی کہ فوجیوں نے بچے پر اسامہ ابو ناصر کے سامنے تشدد کیا گیا، اس کے پیروں کو سگریٹ سے جلایا گیا اور پیر میں ناخن گاڑے گئے۔ رپورٹ کے مطابق بچے کے پیر سگریٹ سے جلنے اور ناخن گاڑنے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین کی سربراہ کا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر زور
بچے کو تقریباً ۱۰؍ گھنٹے بعد المغازی کی کمیٹی آف ریڈ کراس کے ذریعے خاندان کے حوالے کیا گیا جب کہ اس کے والد کو اب تک حراست میں رکھا گیا ہے۔ خاندان نے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ والد کی رہائی کیلئے مداخلت کریں تاکہ وہ طبی علاج جاری رکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’ایران سے یکجہتی ہی آبنائے ہرمز سے گزرنے کا راستہ ہے‘
جنگ بندی کی خلاف ورزیاں
اسرائیل اکتوبر ۲۰۲۵ء سے اب تک جنگ بندی کی ۱۰۰؍ سے زائد خلاف ورزیاں کر چکا ہے، جن میں تقریباً ۶۸۰؍ فلسطینی ہلاک اور ایک ہزار ۸۱۳؍ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ واضح ہو کہ اسرائیل نے اکتوبر ۲۰۲۳؍ میں جاری نسل کشی میں ۷۲؍ ہزار سے زائد فلسطینیوں کا قتل اور ایک لاکھ ۷۱۰۰۰؍ فلسطینیوں کو زخمی کیا ہے، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔ اسرائیل نے علاقے کے بیشتر حصے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے اور پوری آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔