• Wed, 04 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

منوج باجپائی کی ’’گھوس خور پنڈت‘‘ عنوان کے سبب تنازع کا شکار

Updated: February 04, 2026, 7:32 PM IST | Mumbai

نیٹ فلکس نے ۳؍ فروری کو کئی نئی پروجیکٹس کا اعلان کیا، جس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ۲۰۲۶ء نیٹ فلکس پر آنے والی فلموں اور شوز کے لحاظ سے ایک بڑا سال ہوگا۔ اس موقع پر ٹریلرز اور پہلی جھلکیاں بھی جاری کی گئیں، جن میں منوج باجپائی کی فلم گھوس خور پنڈت بھی شامل ہے۔

Manoj Bajpayee.Photo:PTI
منوج پاجپائی۔ تصویر:پی ٹی آئی

نیٹ فلکس نے ۳؍ فروری کو کئی نئی پروجیکٹس کا اعلان کیا، جس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ۲۰۲۶ء نیٹ فلکس پر آنے والی فلموں اور شوز کے لحاظ سے ایک بڑا سال ہوگا۔ اس موقع پر ٹریلرز اور پہلی جھلکیاں بھی جاری کی گئیں، جن میں منوج باجپائی کی فلم گھوس خور   پنڈت بھی شامل ہے۔جہاں ہم عادی ہیں کہ منوج باجپائی کو ایک نیک جاسوس کے طور پر دیکھیں جو ملک کی حفاظت کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو، وہیں آنے والی نیٹ فلکس فلم میں وہ ایک بالکل مختلف کردار میں نظر آئیں گے، یعنی ایک کرپٹ پولیس افسر کے طور پر۔ تاہم، فلم پہلے ہی تنازع کا شکار ہو چکی ہے۔
 گھوس خو ر تنازع میں   
دو دہائیوں تک پولیس فورس میں ہونے کے باوجود، انسپکٹر اجے دکشت ، جو دہلی میں پنڈت کے نام سے بھی بدنام ہیں، کبھی ترقی نہیں  پاتے اور مسلسل سینئر انسپکٹر کی پوزیشن پر واپس چلے جاتے ہیں، ان کے خراب ریکارڈ کی وجہ سے۔ فلم  گھوس خور پنڈت  کا مرکزی خیال کافی دلچسپ لگتا ہے، لیکن اصل توجہ کا مرکز اس کا عنوان ہے۔
 لوگ اتنے زیادہ پریشان ہیں کہ وہ امید کر رہے ہیں کہ فلم کے ریلیز ہونے سے پہلے عنوان بدل دیا جائے۔ ان کا خیال ہے کہ فلم کا عنوان کسی مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنا رہا ہے اور براہ راست کچھ کہے بغیر ہی ایک غلط تصویر پیش کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:طلب اور رسد کے فرق کی وجہ سے خام تیل کی قیمت ۷۰؍ ڈالر فی بیرل سے نیچے رہ سکتی ہے

لوگ فلم سے ناراض نہیں بلکہ عنوان سے ہیں 
کسی کو فلم کے اصل پلاٹ سے مسئلہ نہیں ہے، بلکہ توجہ صرف عنوان نے کھینچی ہے۔ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ فلم کو محض  گھوس خور یا اسی طرز کا کوئی نام کیوں نہیں دیا گیا۔ اس کے بجائے، ایک ایسا لفظ استعمال کیا گیا جو کسی مخصوص کمیونٹی کو نیچا دکھانے والا ہے۔ لوگ اس صورتحال کی منافقت کی نشاندہی کر رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ عنوان تبدیل ہو جائے، تاکہ فلم کو ریلیز ہونے سے پہلے بائیکاٹ نہ کیا جائے۔

’’دی گریٹ انڈین کپل شرما شو‘‘ سیزن ۴؍ کی ویورشپ ۴۷؍ فیصد کم

فلم کا مرکزی خیال دوسرا موقع اور اجے   دکشت کی خود کو سدھارنے کی کہانی پر مرکوز ہے، بجائے اس کے کہ وہ اپنی خراب شہرت کے سائے میں جییں۔ فلم کی ہدایت کاری ریتیش شاہ نے کی ہے اور یہ نیرج پانڈے کے زیرِ پیشکش ہے۔ منوج باجپائی کے ساتھ نُشرت بھروچا، ثاقب سلیم، کیکو شاردا، دویا دتہ، اکشے اوبیرائےاور شر دھا داس بھی شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK