وزیر خزانہ نے کہا: معیشت مضبوط اور مستحکم ہے، بس ۳؍ ’ایف‘ یعنی فیول(ایندھن)، فرٹیلائزر (کھاد) اور فاریکس (زرمبادلہ) پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
EPAPER
Updated: May 26, 2026, 12:42 PM IST | Mumbai
وزیر خزانہ نے کہا: معیشت مضبوط اور مستحکم ہے، بس ۳؍ ’ایف‘ یعنی فیول(ایندھن)، فرٹیلائزر (کھاد) اور فاریکس (زرمبادلہ) پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے وزیراعظم مودی کی کفایت شعاری کی اپیل کے بعد معیشت کے تعلق سے تشویش میں مبتلا ہونے جانے والے افراد پر برہمی کا اظہار کرتے ہو ئے ’’آل اِز ویل‘‘ (سب کچھ ٹھیک ہے) کا پیغام دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے مشرق وسطیٰ کےبحران کا حوالہ دیتے ہوئے ۳؍ ’ایف‘ یعنی ایندھن (فیول)، کھاد (فرٹیلائزر) اور زرمبادلہ (فاریکس) پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ممبئی میں ’’اسمال انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا‘‘ (سِڈبی) کی ۳۷؍ ویں یوم تاسیس کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ان لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو وزیر اعظم نریندر مودی کی عوامی فلاح اور ایثار سے متعلق اپیلوں کے بعد مایوس کن اور منفی بیانیہ پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان خوف پھیلانے کا متحمل نہیں ہو سکتا اور عوام میں اعتماد کا فروغ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی معیشت اب بھی مضبوط اور مستحکم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فیراری کی پہلی مکمل الیکٹرک سپر کار ’’لوس‘‘ متعارف
مرکزی وزیر مالیات نے کہا کہ ہندوستان کا پالیسی ردِعمل اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ ملکی اقتصادی ترقی برقرار رہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق ڈیزل اور پیٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی سے حکومت کو ایک لاکھ کروڑ روپے کی آمدنی کا نقصان ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے علاوہ کھاد کی قیمتیں بھی ’’ناقابلِ تصور‘‘ سطح تک پہنچ چکی ہیں جبکہ سونے کی بلند قیمتیں بیرونی محاذ پر’’کچھ چیلنجز‘‘ پیدا کر رہی ہیں۔ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ ایندھن، کھاد اور زرمبادلہ یعنی تین’ایف‘ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، اور وزیر اعظم مودی کی اپیلیں بھی اسی تناظر میں ہیں۔
انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ’’منفی سوچ رکھنے والے افراد‘‘ نے یہ تاثر دینا شروع کر دیا ہے کہ سب کچھ’’تباہ‘‘ہو رہا ہے، جو درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’عام لوگ خود جو اچھا کام کر رہے ہیں، اسے بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور ایک مایوس کن اور منفی بیانیہ تیار کیا جاتا ہے، جو قطعاًدرست نہیں ہے۔ ‘‘وزیر خزانہ نے کہا کہ ’’ہمیں اس بات کی قدر کرنی چاہیے کہ زیادہ تر چیلنجز بیرونی عوامل سے پیدا ہو رہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہندوستان کی داخلی اقتصادی صورتحال آج بھی مثبت اور مضبوط ہے۔ ‘‘وزیرِ خزانہ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایم ایس ایم ایز (چھوٹے، خرد اور متوسط درجے کے کاروبار) کی۸ء۱؍ لاکھ کروڑ روپے کی ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہیں، جس سے ان کے ورکنگ کپیٹل اور ترقی پر اثر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے سرکاری شعبے کے اداروں سے اپیل کی کہ وہ ایم ایس ایم ایز کو ادائیگی کیلئے مقررہ ۴۵؍ دن کی مدت سے تجاوز نہ کریں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کو اگر اپنے مفادات عزیز ہیں تو ہندوستان کو بھی اپنے قومی مفادات عزیز ہیں
چھوٹے کاروباروں کی پریشانیوں کا اعتراف
انہوں نے اعتراف کیا کہ ’’مغربی ایشیا کا بحران صرف سفارتی یا جغرافیائی سیاسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، کارگو کی تاخیر، مہنگی شپنگ، خام مال کی کمی، ورکنگ کیپٹل پر دباؤ اور برآمدی آرڈرز سے متعلق غیر یقینی صورتحال بھی ہو سکتا ہے۔ ‘‘ نرملا سیتا رمن نے تسلیم کیا کہ چھوٹے کاروباری یونٹس کیلئے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بحران، جو ۸۰؍ دنوں سے زیادہ عرصے سے جاری ہے، ہندوستان سمیت کئی ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔