• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نصیرالدین شاہ کے یونیورسٹی تنازع پر منوج منتشر کا ردعمل

Updated: February 08, 2026, 7:03 PM IST | Mumbai

نصیرالدین شاہ کو ایک یونیورسٹی میں اردو پر لیکچر دینے کی دعوت دی گئی تھی، لیکن پروگرام سے ایک رات پہلے ان کی دعوت منسوخ کر دی گئی، جس سے اداکار مایوس ہو گئے۔ انہوں نے اسے توہین آمیز قرار دیتے ہوئے اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ اس تنازع پرنغمہ نگار منوج منتشر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیاں آزاد ادارے ہوتے ہیں۔ انہوں نے نصیرالدین شاہ کو عظیم فنکار قرار دیتے ہوئے احترام کا اظہار کیا، لیکن ساتھ ہی’نئے بھارت‘ کی سوچ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آج کا بھارت زیادہ بہتر لگتا ہے۔

Manoj Muntashir.Photo:INN
منوج منتشر۔تصویر:آئی این این

اداکار نصیرالدین شاہ اور  نغمہ نگار اور مصنف منوج منتشر کے بیانات نے ایک بار پھر فن، اظہارِ رائے اور اداروں کے کردار پر بحث  چھیڑ دی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت خبروں میں آیا، جب نصیرالدین شاہ کو ایک یونیورسٹی کی طرف سے اردو زبان پر طلبہ کو لیکچر دینے کی دعوت ملی تھی۔ یہ پروگرام یکم  فروری کو ہونا تھا اور شاہ اس کے لیے خاصے پرجوش بھی تھے کیونکہ وہ اسے طلبہ سے براہِ راست بات چیت کا ایک اہم موقع سمجھ رہے تھے۔
 یہ جوش زیادہ دیر نہ چل سکا۔ ۳۱؍جنوری کی رات نصیرالدین شاہ کو ایک ای میل موصول ہوا، جس میں انہیں بتایا گیا کہ ان کی دعوت منسوخ کردی  گئی ہے اور اب انہیں یونیورسٹی کے اس پروگرام میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں۔ اچانک آئے اس فیصلے سے شاہ دکھی ہو گئے۔ انہوں نے بڑے افسوس کے ساتھ ایک نوٹ لکھا اور اپنی ناراضگی ظاہر کی۔ شاہ کا کہنا تھا کہ بغیر کسی واضح وجہ کے آخری لمحے پر دعوت منسوخ کرنا نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ توہین آمیز بھی محسوس ہوتا ہے۔
منوج منتشر کا ردعمل
اس پورے تنازع پر نغمہ نگار اور مصنف منوج منتشر کی رائے سامنے آئی ہے۔ ایک پروگرام میں خبر رساں ایجنسی  سے بات چیت کرتے ہوئے منوج منتشر نے کہا کہ یونیورسٹیزآزاد ادارے ہوتے ہیں اور ان کا اپنا انتظام ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں حال ہی میں معلوم ہوا کہ یونیورسٹیز حکومت کے زیرِ انتظام بھی ہو سکتی ہیں، جو ان کے لیے بھی نئی بات ہے۔ منتشر نے واضح کیا کہ وہ نہیں جانتے کہ اس یونیورسٹی میں واقعی کیا ہوا، لیکن انہوں نے نصیرالدین شاہ کی فن اور شخصیت کی کھل کر تعریف کی۔

یہ بھی پڑھئے:قسمت، محنت اور موقع جب ایک ساتھ آ جائیں تو ہیرو راتوں رات جنم لیتے ہیں

منوج کو پسند ہے نیا بھارت 
منوج منتشر نے کہا کہ ’’نصیرالدین شاہ ایک عظیم فنکار ہیں، بہترین اداکار ہیں اور ہم سب ان کا بہت احترام کرتے ہیں۔  تاہم، انہوں نے شاہ کے ایک پرانے بیان پر بھی اپنی رائے دی۔ منتشر نے کہا کہ انہوں نے نصیرالدین شاہ کا وہ بیان پڑھا تھا جس میں اداکار نے کہا تھا کہ جس ہندوستان  میں وہ بڑے ہوئے، وہ آج کے ہندوستان  کے برابر نہیں ہے۔ اس پر منتشر نے کہا کہ شاید شاہ اپنے نظرئیے سے درست ہوں۔

یہ بھی پڑھئے:فلم ’’بھوت بنگلہ ‘‘طے شدہ تاریخ سے ایک ماہ پہلے ریلیز ہوگی

منتشر کے مطابق آج کا بھارت ایک نیا، بہتر اور مضبوط بھارت ہے، جسے وہ زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بن گیا۔ ایک طرف نصیرالدین شاہ اظہارِ رائے کی آزادی اور احترام کی بات کر رہے ہیں، تو دوسری طرف منوج منتشر ‘نئے بھارت’ کی سوچ کو سامنے رکھ رہے ہیں۔ اس پورے معاملے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا تعلیمی اداروں میں خیالات اور مکالمے کے لیے کافی جگہ بچی ہے، یا پھر ہر دعوت اب تنازعہ کی وجہ بنتی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK