Updated: February 08, 2026, 8:05 PM IST
| New Delhi
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی فریم ورک سے کئی امریکی زرعی مصنوعات پر ٹیکس کم ہو سکتا ہے، جس سے عام صارفین کو سستا تیل، پھل اور شراب مل سکتی ہے۔ لیکن اس معاہدے سے ہندوستانی کسانوں اور اناج کی صنعت پر دباؤ بڑھنے کا خطرہ ہے۔ خاص طور پر مکئی ، سویابین اور چارہ جات سے متعلق شعبے پر اس کا بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔
ہندوستان اور امریکہ ۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی فریم ورک کو حکومت اور صنعت ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے، لیکن اس میں چھپے خطرات اب سامنے آ رہے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت ہندوستان کئی امریکی صنعتی اور زرعی مصنوعات پر ٹیکس کم یا ختم کرنے کے لیے تیار ہے جبکہ امریکہ اب بھی ہندوستانی مصنوعات پر ۱۸؍فیصد متقابل (ریسیپروکل) ٹیکس لگائے گا۔ اس سے ہندوستان کے کسانوں اور گھریلو زرعی صنعت کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔
ہندوستان پہلے بھی امریکی زرعی مصنوعات پر ڈیوٹی کم کر چکا ہے، جیسے کہ بلیوبیری اور کرینبیری پر۲۰۲۴ء میں ٹیکس کم کیا گیا تھا۔ لیکن آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور یورپی یونین کے حالیہ تجارتی معاہدوں میں ہندوستان نے ڈیری، گندم، چینی اور سیب جیسے حساس شعبوں کو محفوظ رکھا تھا۔ اب امریکہ کے معاملے میں صورتحال کچھ مختلف نظر آ رہی ہے۔
مشترکہ بیان کے مطابق: ہندوستان امریکی خشک اناج، سویابین آئل، میوہ جات، پھل، وائن اور شراب جیسی کئی مصنوعات پر ٹیکس کم کرے گا۔ اس میں خشک ڈسٹلرز گرین (ڈی ڈی جی ایس )بھی شامل ہے، جو چارہ جات میں استعمال ہوتا ہے۔ہندوستان میں ڈی ڈی جی ایس کی پیداوار تیزی سے بڑھی ہے اور اس کی قیمت تقریباً۲۴؍ہزار سے۲۷؍ہزار روپے فی ٹن ہے۔ امریکہ سے آنے والاڈی ڈی جی ایس تقریباً۲۷؍ہزار روپے فی ٹن پڑ سکتا ہے اور اس کی معیار زیادہ مستحکم مانی جاتی ہے۔ اس سے ہندوستانی ڈسٹلری اور مکئی کے کسانوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کیونکہ سستا اور بہتر غیر ملکی مال گھریلو بازار میں آ سکتا ہے۔
سویابین آئل اور کسانوں پر اثر
سویابین آئل پر ٹیکس کم ہونے سے ہندوستان کے لیے امریکہ سے درآمد سستی ہو سکتی ہے۔ اس وقت ہندوستان زیادہ تر سویابین آئل ارجنٹینا اور برازیل سے منگواتا ہے۔ اگر امریکی آئل سستا ہوا تو درآمد کا رجحان امریکہ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ اس کا اثر ہندوستانی سویابین کسانوں کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
سرخ جوار اور اناج بازار کا خطرہ
امریکہ کا سرخ جوار بھی ہندوستان میں آنے کا امکان ہے۔ اس وقت ہندوستان سفید جوار اگاتا ہے۔ اگر سرخ جوار سستا پڑا تو پولٹری اور چارہ جات کی صنعت مکئی کی جگہ اس کا استعمال کر سکتی ہے۔ اس سے مکئی اور سویابین کی قیمتیں دباؤ میں آ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:قسمت، محنت اور موقع جب ایک ساتھ آ جائیں تو ہیرو راتوں رات جنم لیتے ہیں
عام آدمی کو کیا فائدہ ہوگا
اس معاہدے سے عام صارفین کو کچھ فائدے بھی ہو سکتے ہیں۔ سویابین آئل، میوہ جات، پھل اور شراب جیسے مصنوعات سستے ہو سکتے ہیں۔ امیر صارفین کے لیے ایوکاڈو، بلیوبیری اور کرینبیری جیسے پریمیم پھل دستیاب ہو سکتے ہیں۔ شراب پر ڈیوٹی کم ہونے سے غیر ملکی شراب بھی سستی ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’او رومیو‘ کی ریلیز کا راستہ صاف، عدالت نے درخواست مسترد کر دی
کسانوں کے لیے بڑا خطرہ
اس معاہدے کا سب سے بڑا خطرہ کسانوں کے لیے ہے۔ غیر ملکی اناج، تیل اور چارہ سستا آنے سے ہندوستانی کسانوں کی فصل کی قیمتیں گر سکتی ہیں۔ اس سے زراعت کی آمدنی کم ہونے کا خطرہ ہے۔ خاص طور پر مکئی، سویابین اور پالتو جانور پالنے والے کسانوں پر اس کا اثر زیادہ ہو سکتا ہے۔
ہندوستان کی تجارتی ڈیل کا بڑا حساب
اس معاہدے کے تحت امریکہ ہندوستان سے اگلے پانچ سال میں۵۰۰؍ ارب ڈالر کے توانائی اور دیگر مصنوعات خریدنے کی توقع کر رہا ہے۔ اگر درآمد تیز ہوئی اور برآمدات نہ بڑھیں تو ہندوستان کے ادائیگی کے توازن پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔