Updated: February 08, 2026, 8:04 PM IST
| Guwahati
آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسواشرما کا مسلمانوں پر فائرنگ کرنے کا ویڈیو ، انٹرنیٹ پر شدید تنقید کا نشانہ بنا، جس کے بعدآسام بی جے پی نے اسے خاموشی سے ہٹادیا، اس ویڈیو کلپ میں شرما رائفل سنبھالے ہوئے ہیں جو اصلی تصویر ہے، جبکہ ہدف کو اے آئی کی مدد سے مسلمانوں کی تصویر سے بدل دیا گیا تھا۔
آسام بی جے پی اکائی نے ایک متنازع ویڈیو ہٹا دی ہے جسے سنیچر کو اپنے ایکس ہینڈل پر پوسٹ کیا تھا، جس میں وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کو دو مسلمان مردوں کی تصاویر پر علامتی طور پر براہ راست فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔لیکن سوشل میڈیا پرشدید تنقید کے بعد یہ کلپ ہٹا دی گئی۔ اس میں بی جے پی لیڈر کی رائفل سنبھالتے ہوئے اصلی فوٹیج اور مصنوعی ذہانت سے بنی مسلمانوں کے نشانے کی تصاویر کو یکجا کیا گیا تھا۔جبکہ اسکرین پر متن میں ’’غیر ملکیوں سے پاک آسام، ‘‘ ’’کوئی رحم نہیں، ‘‘ ’’آپ پاکستان کیوں نہیں گئے؟‘‘ اور ’’بنگلہ دیشیوں کے لیے کوئی معافی نہیں،‘‘ جیسے نعروں کو شامل کیا گیا تھا۔
بعد ازاں ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ سگاریکا گھوش نے ویڈیو کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ بعد کے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، انھوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے آسام اکائی نے غیر قانونی سرگرمیاں روکنے کے قانون کے تحت جرم کیا ہے، جسے انھوں نے ’’تشدد کے لیے صریح ترغیب‘‘ قرار دیا، اور کہا کہ ویڈیو کو حذف کرنا ملوث افراد کو بری الذمہ نہیں کرے گا۔جبکہ کانگریس لیڈر سپریا شرینیت نے کہا کہ ویڈیو کو حذف کرنا ناکافی ہے، اور کہا کہ’’ مواد زہر، نفرت اور تشدد کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی عدالتوں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے رد عمل پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا، ’’بی جے پی درحقیقت یہی ہے: اجتماعی قاتل۔‘‘
اس کے علاوہ وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اس معاملے پر سو موٹو نوٹس لینا چاہیے اور بی جے پی کے عہدیداروں کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے، جسے انھوں نے ،’’سنگین فوجداری جرم،‘‘ قرار دیا۔بھوشن نے کہا، ’’اگر کوئی حزب اختلاف عہدیدار ایسی پوسٹ لگاتا تو وہ یو اے پی اے کے تحت جیل جا سکتا تھا۔‘‘ صحافی رانا ایوب نے کہا کہ’’ یہ پوسٹ اوپر سے گھٹیا پن ظاہر کرتی ہے، حالانکہ وزیر اعظم نریندر مودی مسلم اکثریتی ملائیشیا میں شاندار استقبال کی بات کر رہے تھے۔‘‘
واضح رہے کہ آسام بی جے پی کی یہ پوسٹ شرما کے اس ریاست میں بنگالی نژاد مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے ایک سلسلہ وار بیانات کے پس منظر میں آئی ہے۔اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ ’’ میاں کو تکلیف دینا ان کافریضہ ہے۔‘‘یاد رہے کہ آسام میں،’’ میاں ‘‘ ایک توہین آمیز لفظ ہے جو غیر دستاویزی تارکین وطن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور خاص طور پر بنگالی نژاد مسلمانوں کے لیے ، جو نوآبادیاتی دور میں آسام ہجرت کر گئے تھے۔ ان پر اکثر بنگلہ دیش سے غیر دستاویزی تارکین وطن ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بسوا شرما کیخلاف زائد از۴۰؍ دانشور گوہاٹی ہائی کورٹ سے رجوع
دراصل جنوری کو، شرما نے کہا تھا کہ وہ خود لوگوں کومیاں کو تکلیف دیتے رہنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا، ’’اگر رکشے کا کرایہ۵؍ روپے ہے، تو انھیں ۴؍ روپے دو۔لہٰذا جب انھیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا تو وہ آسام چھوڑ دیں گے۔‘‘ اسی روز، وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا تھا کہ جب ریاست میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی ہوگی تو چار سے پانچ لاکھ میاں رائے دہندگان حذف کر دیے جائیں گے، اور انھوں نے تسلیم کیا کہ بی جے پی حکومت نے انھیں ابتدائی طور پر ووٹ ڈالنے سے روکنے کے لیے انتظامات کیے ہیں۔تاہم ایک دن بعد، شرما نے کہا کہ بی جے پی کارکنوں نے خصوصی نظر ثانی کے دوران مشکوک غیر ملکیوں کے خلاف پانچ لاکھ سے زیادہ شکایات درج کی ہیں۔