• Wed, 04 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میں چاہتی ہوں کہ میرا کام میری ترقی کی گواہی دے ‘‘

Updated: August 10, 2025, 11:54 AM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ہندی اورگجراتی کی اداکارہ مازیل ویاس کا کہنا ہے کہ میں کردار سے زیادہ اداکاری کو اہمیت دیتی ہوں کیونکہ اداکاری بہتر ہوگی تو ہی میں کردار کے ساتھ انصاف کرسکونگی۔

Mazel Vyas. Photo: INN.
مازیل ویاس۔ تصویر: آئی این این۔

بڑودہ سے تعلق رکھنے والی اداکارہ مازیل ویاس نے فلم انڈسٹری میں امیتابھ بچن اور فرحان اخترکی فلم ’وزیر‘ سے اپنےکریئر کی شروعات کی تھی۔ اس کے بعد سے وہ اس انڈسٹری میں مصروف ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں ایک گجراتی فلم ’وہالی‘ میں بھی کام کیا تھا جسے گجراتی شائقین نے کافی پسند کیا۔ مازیل نے وزیر کے علاوہ اے تھرسڈے، دہاڑ، گنی ویڈس سنی اور ہیلو نامی فلموں میں بھی کام کیاہے۔ ۲۴؍جولائی کو ان کی فلم ہنٹر ۲؍ ریلیز ہوئی ہے جسےبھی پسند کیا جارہا ہے۔ وہ اپنے کام پر زیادہ توجہ دیتی ہیں، انہیں کوئی بھی رول کرنا پسند ہے، وہ اپنے فن کے ساتھ انصاف کرنے میں یقین رکھتی ہیں۔ نمائندہ انقلاب نےاداکارہ مازیل ویاس سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
شو بزا نڈسٹری میں کس طرح آنا ہوا؟
ج:میں نے کبھی شو بزانڈسٹری سے وابستہ ہونے کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ میں اسکول اور کالج کے کلچرل پروگراموں میں شرکت کیا کرتی تھی۔ میں نے کلاسیکل ڈانس کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے۔ میں کتھک رقص کی بھی ٹریننگ حاصل کرچکی ہوں۔ اسلئے میں مختلف ڈانس پروگرام میں شرکت کیا کرتی تھی۔ ایک بار میں نے گجرات کے ایک ڈانس شو میں بہت اچھا پرفارم کیا تھا جس کی ویڈیو گرافی کی گئی تھی۔ اس وقت فیس بُک اپنے عروج پر تھا۔ کسی نے میرا ویڈیو فیس بُک پر اَپ لوڈ کردیا تھا۔ یہ ویڈیو ایک پروڈکشن ہاؤس نے دیکھا اور مجھ سے رابطہ کیا کہ ہم کیڈبری کے اشتہار کیلئے آپ کا آڈیشن لینا چاہتے ہیں۔ میں نے بھی اہل خانہ سے کہا کہ ممبئی کی سیر کرنے کیلئے ممبئی کا دورہ کیا جائے۔ ممبئی آنے کے بعد میں نے کیڈبری کے اشتہار کیلئے آڈیشن دیا۔ اسی دوران مجھے ایک ٹی وی شو کیلئے بھی آڈیشن دینے کیلئے کہا گیا۔ ۲؍ آڈیشن دینے کے بعد ہماری فیملی گجرات چلی گئی۔ کچھ عرصے کے بعد مجھے فون آیا کہ مجھے ٹی وی شو کیلئے منتخب کر لیا گیا ہےاور مجھے ممبئی آنا ہے۔ اس طرح یہ شو کرنے کے بعد مجھے امیتابھ بچن اور فرحان اختر کی فلم وزیر کرنے کا موقع ملا۔ پھرمیں نے طے کرلیا کہ یہی کام میرے لئے ٹھیک ہے۔ 
امیتابھ بچن اور فرحان اختر جیسے تجربہ کار اور سینئر فنکاروں کے ساتھ کام کرتے وقت خوفزدہ تو نہیں تھیں ؟
ج:دونوں ہی بہت اچھے اداکار ہیں۔ وزیر میں میرے زیادہ تر شاٹس فرحان اختر اور مانو کال کے ساتھ ہیں۔ مانو کال نے میرے والد کا رول نبھایا تھا۔ امیتابھ بچن اور فرحان اختر نے میری بہت مدد کی تھی کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ میں انڈسٹری میں نئی ہوں۔ وہ اداکاری کے ساتھ ہی دیگر چیزوں کے بارے میں بھی بتایا کرتے تھے۔ فرحان اختر کہتے تھے کہ مازیل ایسا لگتا ہی نہیں کہ آپ نئی ہو۔ بہت اچھا کام کررہی ہو۔ سیٹ پر یہ لوگ کافی مذاق بھی کیا کرتے تھے، اسلئے مجھے شوٹنگ کے دوران کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ 
کیا آپ کو اب بھی اچھے اورلیڈ رول کی تلاش ہے ؟ 
ج:ظاہر سی بات ہے کہ ہر اداکار انڈسٹری میں اپنی الگ شناخت قائم کرنا چاہتا ہے، اسلئے وہ اہم اور لیڈ رول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ میں بھی چاہتی ہوں کہ میں ایک ایسا رول نبھاؤں جس سے میری شہرت کو چار چاند لگ جائے۔ حالانکہ میں نے اب تک جتنے بھی رول نبھائے ہیں وہ سبھی بہت طاقتور اور مضبوط تھے۔ ان سے پردے پر میری شناخت تو قائم ہوئی ہے۔ میں نے شارٹ فلموں میں بھی مرکزی کردار نبھائے ہیں اورمیرے اگلے پروجیکٹس میں بھی لیڈ رول نبھا رہی ہوں۔ ان کی کہانی بھی بہت اچھی ہے۔ میں رول پر زیادہ توجہ نہیں دیتی بلکہ اپنی اداکار ی کو بہتر اندازمیں پیش کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ 
کس طرح کے کردار نبھانے میں زیادہ دلچسپی ہے؟
ج:مجھے ہر طرح کے رول نبھانے میں دلچسپی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر مجھے چھوٹا رول بھی ملا ہے تو میں اسے اپنی صلاحیت سے ایسے ادا کروں کہ وہ یادگار بن جائے۔ میں اپنے پرفارم پر زیادہ توجہ دیتی ہوں۔ میں اس کردار کے ذریعہ اپنے ہنر کو کس طرح لوگوں کے دلوں میں اتاروں اس بات پر توجہ دیتی ہوں۔ بس یہی سوچ کے ساتھ میں الگ الگ کردار نبھاناچاہتی ہوں ۔ 
کیا آپ گجراتی فلموں کے ساتھ بھی وابستہ رہنا چاہتی ہیں ؟
ج:میں بڑودہ سے تعلق رکھتی ہوں اور گجراتی خاندان میں میری پرورش ہوئی ہے تو میں ریجنل فلموں میں بھی کام کرنا چاہتی ہوں۔ میں خوش ہوں کہ میں نے اپنی ریاست کے عوام کیلئے گجراتی فلم میں کام کیاہے۔ اس فلم کو اچھی خاصی کامیابی ملی ہے اور گجرات میں اس کی پزیرائی ہورہی ہے۔ یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ میں نے اپنی زبان کی فلم انڈسٹری کیلئے کچھ اچھا کام کیاہے۔ 
کیا آپ گجراتی ناٹک سے بھی وابستہ رہی ہیں ؟
ج:اب تک تو میں نے گجراتی ناٹک نہیں کیا ہے لیکن اگر موقع ملے گا تو میں اسے ہاتھ سے جانے نہیں دوں گی کیونکہ گجراتی ڈرامے بہت طاقتور ہوتے ہیں اور ان سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ مراٹھی تھیٹرس بھی بہت مشہور ہیں جہاں سے کئی بہترین اداکار انڈسٹری کو ملے ہیں۔ میں چاہوں گی کہ ریجنل زبان میں بھی تھیٹر کرنے کا موقع ملے۔ میں نے ہندی زبان میں ایک شو کیا ہے جوکہ سوانند کرکرے کا تھا۔ 
کہا جاتا ہے کہ آپ نے ’وہالی‘ کے وقت سنیما گھروں میں جاکر شائقین سے ملاقات کی تھی، یہ تجربہ کیسا رہا تھا؟
ج:ہم نے پہلے ہی طے کرلیا تھاکہ فلم وہالی کی ریلیز  کے وقت سنیما گھروں کا دورہ کریں گے اور فلم کے بارے میں عوام کے تجربات جاننے کی کوشش کریں گے۔ یہ تجربہ کامیاب رہا کیونکہ ہم نے شائقین کے چہرے پر جو خوشی دیکھی وہ قابل دید تھی۔ اس سے ہمیں یقین ہوگیا کہ ہم نے فلم کے ذریعہ اپنا پیغام شائقین تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ایسے تجربات سے ہم براہ راست شائقین سے جڑتے ہیں اور ان کے تاثرات جانتے ہیں۔ 
کیا ہندی اور گجراتی انڈسٹری میں اگر ایک ساتھ موقع ملے تو کیا بیک وقت دونوں جگہ کام کرنا پسند کریں گی؟
ج:میرے لئے کہانی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر دونوں جگہ اچھی کہانیاں ملتی ہیں تو میں دونوں جگہ کام کرنا پسند کروں گی۔ حالانکہ میں بالی ووڈ کو ترجیح دوں گی کیونکہ وہی میرا حتمی ہدف ہے۔ میں نے شروعات اس انڈسٹری سے کی تھی اسلئے یہاں زیادہ مصروف رہنا چاہوں گی۔ گجراتی انڈسٹری سے اگر مجھے میرے دل کو چھولینے والی کہانی ملتی ہے تو میں ضرور کام کروں گی۔ میں چاہوں گی کہ دونوں انڈسٹری میں کام کے توازن کو برابر رکھوں۔ 
سوشل میڈیا کا استعمال کتنا کرتی ہیں ؟
ج:میں سوشل میڈیا پر زیادہ سرگرم نہیں ہوں۔ صرف اپنے شائقین سے جڑنے کیلئے میں انسٹاگرام استعمال کرتی ہوں اور ان کیلئے کچھ نہ کچھ پوسٹ بھی کرتی رہتی ہوں۔ میں دیگر انفلوئنسر کی طرح مسلسل اپ لوڈ نہیں کرتی۔ میں اپنے کرافٹ کو بہتر کرنا چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ میراکام میری ترقی کی گواہی دے۔ 
مستقبل کی کیا منصوبہ بندی ہے؟
ج: مستقبل کا ایسا کو ئی بڑا منصوبہ نہیں ہے۔ میں فی الحال اپنی ایکٹنگ پر ہی زیادہ توجہ دینا چاہتی ہوں کیونکہ یہ میری پہلی پسند ہے۔ میں انڈسٹری کے باہر اپنے مستقبل کے بارے میں نہیں سوچتی۔ اگر مستقبل میں کبھی ایکٹنگ کے ساتھ کچھ اور کرنے کا موقع ملا تو میں پروڈکشن میں قسمت آزمانا چاہوں گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK