سونے کی ریکارڈ بلند قیمتوں نے ہندوستانی خریداروں کو محتاط کردیا ہے اور رواں سال جولائی سے ستمبر کے دوران ملک میں سونے کی مجموعی مانگ میں سالانہ بنیاد پر ۲۹؍ فیصد کمی درج کی گئی۔
EPAPER
Updated: November 03, 2026, 10:03 PM IST | New Delhi
سونے کی ریکارڈ بلند قیمتوں نے ہندوستانی خریداروں کو محتاط کردیا ہے اور رواں سال جولائی سے ستمبر کے دوران ملک میں سونے کی مجموعی مانگ میں سالانہ بنیاد پر ۲۹؍ فیصد کمی درج کی گئی۔
سونے کی ریکارڈ بلند قیمتوں نے ہندوستانی خریداروں کو محتاط کردیا ہے اور رواں سال جولائی سے ستمبر کے دوران ملک میں سونے کی مجموعی مانگ میں سالانہ بنیاد پر ۲۹؍ فیصد کمی درج کی گئی۔ ورلڈ گولڈ کونسل کی تازہ رپورٹ کے مطابق، اس سہ ماہی میں ہندوستان میں سونے کی مجموعی مانگ گھٹ کر ۱۶۲ء۵؍ ٹن رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ ۲۲۸؍ ٹن تھی۔ زیورات کی خریداری اور سرمایہ کاری، دونوں شعبوں میں کمی دیکھی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلند قیمتوں کے باعث صارفین بڑی مقدار میں سونا خریدنے سے گریز کر رہے ہیں۔ تاہم، قیمتوں میں اضافے کے سبب کم مقدار میں خریداری کے باوجود سونے پر خرچ کی گئی رقم میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں زیورات کی طلب جولائی تا ستمبر ۲۰۲۶ء کے دوران ۲۰؍ فیصد گھٹ کر ۹۹ء۹؍ ٹن رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں یہ ۱۲۵؍ ٹن تھی۔ اس کے باوجود زیورات پر خرچ کی جانے والی رقم ۱۶؍ فیصد بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ ۴۸؍ ہزار ۷۰۰؍ کروڑ روپے ہوگئی۔ اس کی بنیادی وجہ سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق، رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں ہندوستان میں سونے کی اوسط قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۴۵؍ فیصد زیادہ رہی۔ نتیجتاً صارفین نے بھاری زیورات کے بجائے ہلکے وزن، کم قیراط اور نسبتاً کم قیمت والے زیورات کو ترجیح دی۔
سونے میں سرمایہ کاری کی طلب بھی دباؤ کا شکار رہی۔ تیسری سہ ماہی کے دوران ہندوستان میں سونے کی سرمایہ کاری کی مانگ سالانہ بنیاد پر ۴۰؍ فیصد کم ہوکر تقریباً ۵۵؍ ٹن رہ گئی۔ سونے کی اینٹوں اور سکّوں کی خریداری میں بھی نمایاں کمی آئی، جبکہ گولڈ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (Gold ETFs) میں سرمایہ کاری گھٹ کر تقریباً ۵ء۳؍ ٹن رہ گئی۔ رپورٹ کے مطابق، قیمتوں میں مسلسل اضافے اور مستقبل میں قیمتوں کی سمت کے بارے میں غیر یقینی صورت حال نے انفرادی سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے پر مجبور کیا۔ اس کے باوجود سرمایہ کاری کے شعبے میں کچھ بہتری بھی نظر آئی، کیونکہ دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں تیسری سہ ماہی کے دوران سرمایہ کاری کی طلب میں ۱۲؍ فیصد اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھئے:بدتمیزی کے الزام کے بعد اوری نےامرتا سنگھ اور سارہ علی خان سے بدلہ لینے کی دھمکی دی
سونے کی خریداری میں کمی صرف ہندوستان تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی زیورات اور سرمایہ کاری کے لیے سونے کی جسمانی طلب کم ہوئی ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق، عالمی سطح پر تیسری سہ ماہی میں زیورات کی کھپت ۱۷؍ فیصد گھٹ کر ۳۱۳؍ ٹن رہ گئی، جو ۲۰۰۰ء سے دستیاب اعداد و شمار میں کسی بھی تیسری سہ ماہی کی کم ترین سطح ہے۔ اسی دوران سونے کی اینٹوں اور سکّوں کی عالمی طلب میں بھی ۱۹؍ فیصد کمی آئی اور یہ ۲۶۸؍ ٹن رہ گئی۔ چین میں زیورات کی مانگ ۲۲؍ فیصد اور ہندوستان میں ۲۰؍ فیصد کم ہوئی۔ تاہم، عالمی سطح پر زیورات کی خریداری کی قدر میں معمولی اضافہ ہوا اور یہ ۴۳؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ قیمتیں بڑھنے کے باعث کم سونا خریدنے کے باوجود صارفین زیادہ رقم خرچ کر رہے ہیں۔ سونے کی بلند قیمتوں اور خریداری میں کمی کے پیش نظر ورلڈ گولڈ کونسل نے ہندوستان میں ۲۰۲۶ء کے لیے سونے کی مجموعی مانگ کا تخمینہ بھی کم کردیا ہے۔ اب پورے سال کے دوران ہندوستان میں سونے کی طلب ۶۲۵؍ سے ۶۷۵؍ ٹن کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ اپریل میں اس کا تخمینہ ۶۵۰؍ سے ۷۵۰؍ ٹن لگایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، دیوالی، دھن تیرس اور شادیوں کے موسم کے باعث سال کی آخری سہ ماہی میں خریداری میں بہتری آسکتی ہے، لیکن قیمتوں کا بلند رہنا صارفین کی قوتِ خرید پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ون ڈے سیریز کے لیے مکمل مضبوط ٹیم چاہتے تھے: گِل
جہاں عام صارفین نے سونے کی خریداری میں احتیاط برتی، وہیں دنیا کے مرکزی بینکوں اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے میں دلچسپی برقرار رہی۔ عالمی رپورٹ کے مطابق، جولائی تا ستمبر کے دوران مرکزی بینکوں نے اپنے ذخائر میں خالص طور پر ۳۲۱؍ ٹن سونا شامل کیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ۴۲؍ فیصد زیادہ ہے۔ دوسری سہ ماہی میں اخراج کے بعد عالمی سطح پر سونے کے ای ٹی ایف میں بھی دوبارہ سرمایہ آیا اور ان میں ۲۱۱؍ ٹن کا اضافہ درج کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام صارفین اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے درمیان سونے کی خریداری کے رجحانات میں فرق پایا جارہا ہے۔
مجموعی طور پر ورلڈ گولڈ کونسل کی رپورٹ بتاتی ہے کہ سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے ہندوستانی زیورات کی صنعت اور انفرادی سرمایہ کاری دونوں کو متاثر کیا ہے۔ خریدار اب بھاری زیورات کے بجائے ہلکے زیورات، پرانے سونے کے تبادلے اور محدود سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تاہم، تہواروں اور شادیوں کے موسم میں طلب میں کچھ بحالی کی امید ہے۔ اس کے باوجود سونے کی بلند قیمتیں آنے والے مہینوں میں ہندوستانی گولڈ مارکیٹ، جیولری کاروبار اور سرمایہ کاری کے رجحانات کے لیے ایک اہم چیلنج بنی رہ سکتی ہیں۔