Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران میں جنگ بندی کیلئے اسلام آباد میں اجلاس، سعودی، مصرا ورترکی کی شرکت

Updated: March 30, 2026, 9:57 AM IST | Islamabad

مذاکرات اورسفارت کاری سے مسائل حل کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال، تہران نے واشنگٹن پر سفارتکاری میں  الجھا کر زمینی حملے کی سازش کا الزام عائد کیا۔

Foreign ministers of Turkey, Egypt, Saudi Arabia and Pakistan before the meeting. Photo: INN
ترکی، مصر، سعودی عرب اور پاکستان کے وزرائے خارجہ میٹنگ سے قبل۔ تصویر: آئی این این

ایران جنگ کے خاتمے اورمسائل کو مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعہ حل کرانے کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے اتوار کو اسلام آباد میں  پاکستانی، سعودی، مصری اور ترک وزرائے خارجہ نے تبادلہ خیال کیا۔ دوسری طرف امریکہ کے مزید ساڑھے ۳؍ ہزار فوجی اتوار کو مشرق وسطیٰ پہنچ گئےہیں۔ تہران کا الزام ہے کہ امریکہ ایک طرف سفارتکاری میں  الجھا رہا ہے اور دوسری طرف ایران میں  فوج بھیجنے کی تیاری کررہاہے۔ اسلامی جمہوریہ نے متنبہ کیا ہے کہ واشنگٹن اپنے فوجیوں  کو ’’آگ میں  جھونک‘‘ رہا ہے۔ 
ایران میں  جنگ بندی کے تعلق سے اسلام آباد میں  پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے ۴؍ فریقی اہم مشاورتی اجلاس پاکستان کے سینیٹر اسحاق ڈار، سعودی عرب کے فیصل بن فرحان، ترکی کے حاکان فیدان اور مصر کے بدر عبدالعاطی نے شرکت کی۔ چار ملکی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں خطے میں کشیدگی کی صورتحال اور جنگ بندی سے متعلقہ امور پر گفتگو کی گئی اور امن واستحکام کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری سے معاملات حل کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران کا جوہری عدم پھیلائومعاہدے سے علاحدگی پر غور

ذرائع کے مطابق اس اہم بیٹھک سے پہلے پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے بھی فون پر گفتگو کی۔ 
اس بیچ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ سفارتی کوششوں میں مصروف ہونے کے باوجود خفیہ طور پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ قالیباف نے کہا کہ ’’دشمن کھلے عام مذاکرات اور بات چیت کے پیغامات دیتا ہے جبکہ خفیہ طور پر زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ ‘‘ ایران ایک سے زائد بار کہہ چکا ہے کہ وہ امریکہ کی زمینی فوج کامنتظر ہے۔ اتوار کو بھی قالیباف نے متنبہ کیا کہ واشنگٹن اپنے فوجیوں  کو آگ میں  جھونک رہا ہے۔ امریکہ کے ایک اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع ایران میں زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے جن میں جزیرہ خارگ اور آبنائے ہرمز کے قریب ساحلی مقامات پر ممکنہ چھاپے شامل ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK