Inquilab Logo Happiest Places to Work

این سی ای آر ٹی کی نظرثانی شدہ نصابی کتاب،عدلیہ میں بدعنوانی پرمبنی باب حذف

Updated: July 08, 2026, 6:02 PM IST | New Delhi

این سی ای آر ٹی کی نظرثانی شدہ آٹھویں جماعت کی نصابی کتاب سے عدلیہ میں بدعنوانی پر مبنی باب حذف کردیا گیا، نئے ایڈیشن میں عدالتی نظام کو ایک غیر جانبدار اور آزاد ادارہ قرار دیا گیا ہے جو شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

 پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) پر سپریم کورٹ کی تنقید کے بعد  اس تعلیمی ادارے نے سماجی علوم کی نصابی کتاب کا ایک نظرثانی شدہ ایڈیشن جاری کیا ہے، جس میں اس نے عدلیہ میں بدعنوانی کے حوالہ جات کو حذف کر دیا ہے۔خبروں کے مطابق، ’’عدالتی نظام کو درپیش چیلنج ‘‘اور ’’عدلیہ میں بدعنوانی‘‘ کے باب کو مکمل طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔جہاں ’’عدالتی بیکلاگ‘‘ کا ذکر اور دو بڑے عدالتی مقدمات کے حوالے ختم کر دیے گئے ہیں، وہیں نظرثانی شدہ نصابی کتاب میں پبلک انٹرسٹ لٹی گیشن، ٹریبونل اور متبادل تنازعات کے حل کے طریقہ کار پر نیا مواد شامل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی ہائی کورٹ: سی اے اے مخالف کارکن اطہرخان کےجیل میں چھ سال، ضمانت سے انکار

جیسا کہ ڈیکن ہیرالڈ نے رپورٹ کیا،عدلیہ پرشامل شدہ باب اسے ایک غیر جانبدار اور آزاد ادارہ قرار دیتا ہے جو شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور آئین کی روح کو برقرار رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ این سی ای آر ٹی نے باب کے آغاز میں موجود افتتاحی حصے میں بھی تبدیلیاں کی ہیں، جس کا عنوان ’’بڑے سوالات‘‘ ہے۔ جبکہ اس سے قبل کی نصابی کتاب میں اس نے طلبہ سے پوچھا تھا کہ ایک آزاد عدلیہ کیوں ضروری ہے،  جبکہ نظرثانی شدہ نصاب میں پوچھا گیا ہے کہ ایک ’’منصفانہ اور ہم آہنگ معاشرے‘‘ کے لیے انصاف کیوں اہم ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۰۸ءاحمد آباد بم دھماکہ کیس: ۳۸؍ مجرموں کی سزائے موت، ۱۱؍ کی عمر قید برقرار

واضح رہے کہ این سی ای آر ٹی کی آٹھویں جماعت کی سماجی علوم کی نصابی کتاب میں "عدلیہ میں بدعنوانی" پر ایک باب شامل تھا، جس میں سابق چیف جسٹس بی آر گوئی کا حوالہ دیتے ہوئے عدالتی نظام کے اندر ’’بدعنوانی اور بدانتظامی‘‘کے واقعات کو تسلیم کیا گیا تھا۔اس باب میں ہندوستانی عدالتوں میں ’’ججوں کی کمی، پیچیدہ طریقہ کار اور ناقص انفراسٹرکچر‘‘کی وجہ سے مقدمات کے ’’بڑے پیمانے پر بیکلاگ‘‘ کی بھی تفصیل تھی۔بعد ازاں اس سال فروری میں، سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا اور نصابی کتاب کی اشاعت اور دوبارہ چھپائی پر پابندی عائد کر دی، یہ کہتے ہوئے کہ اس میں نامناسب مواد شامل ہے۔مزید برآں اس نے مرکزی حکومت اور ریاستی محکمہ تعلیم کو بھی ہدایت کی کہ کتاب کی تمام چھپی ہوئی یا ڈیجیٹل کاپیاں عوام کی رسائی سے ہٹا دی جائیں۔جبکہ نظرثانی شدہ نصابی کتاب تسلیم کرتی ہے کہ عدلیہ پر باب کو سپریم کورٹ کی ہدایات کی تعمیل میں ایک ماہر کمیٹی نے "دوبارہ تحریر کیاہے۔نظرثانی شدہ ایڈیشن میں اس کی ترقیاتی ٹیم کے۴۸؍ اراکین درج ہیں جبکہ منسوخ شدہ نصابی کتاب میں۵۱؍ اراکین تھے۔ اس کے ساتھ ہی سابقہ باب کیلئے ذمہ دار ٹھہرائے گئے مائیکل ڈینینو، سپرنا دیواکر اور الوک پراسننا کمار کو ٹیم سے نکال دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK