• Sun, 01 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’او ٹی ٹی کی شہرت کم ہورہی ہے اور ٹی وی شوز اپنا پرانا مقام حاصل کررہے ہیں‘‘

Updated: February 01, 2026, 12:13 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

فلم اور ٹی وی اداکارہ میگھا شرما کا کہنا ہے کہ میں اداکاری کے شعبے میں ڈیلی سوپس اور ریئلیٹی شوز دونوں جگہ قسمت آزمانا چاہوں گی، اس کے ساتھ ہی میں فوڈ انڈسٹری میں بھی کاروبار شروع کرناچاہتی ہوں۔

Film and TV actress Megha Sharma. Photo: INN
فلم اور ٹی وی اداکارہ میگھا شرما۔ تصویر: آئی این این

دنگل ٹی وی کے شو’ساجن گھر‘ میں اہم کردار نبھانے والی اداکارہ میگھا شرما نے ۲۰۱۷ء میں اپنے کریئرکی شروعات کی تھی۔ انہوں نے ہندی ٹی وی شوز کے ساتھ ساتھ پنجابی فلموں میں بھی کام کیاہےلیکن جب انہیں ہندی شوز میں کام ملنے لگا تو انہوں نے پنجابی انڈسٹری پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ ’ساجن گھر‘ سے قبل انہوں نے ’پانڈیا اسٹور‘ میں بھی اہم کردار نبھایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ۳؍فلموں میں بھی کام کیا ہے۔ بچپن ہی سے اداکارہ بننے کا خواب دیکھنے والی میگھا نے ٹی وی انڈسٹری میں اپنی پہچان بنالی ہے اور اب وہ آگے بڑھنا چاہتی ہیں۔ اداکاری کے ساتھ ساتھ ہی وہ کاروبار شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ انقلاب نے فلم اور ٹی وی اداکارہ میگھا شرما سےگفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے: 
اس وقت آپ کس شو میں مصروف ہیں ؟
ج: دنگل ٹی وی پر ایک شو آتا ہے جس کا نام ’ساجن گھر‘ ہے، اس میں کام کررہی ہوں۔ اس میں میں ایک مزاحیہ کردار نبھا رہی ہوں جو کہ ہیروئن کی بہن ہے۔ یہ بہت ہی اچھا شو ہے اور فیملی ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکتی ہے۔ اس خاندان میں نوک جھونک ہوتی ہے لیکن جلد ہی صلح بھی ہو جاتی ہے۔ یہ شو جوائنٹ فیملی کو باندھ کر رکھنے کا سبق دیتاہے۔ اب تک تو شو میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ یہ شو’ہم ساتھ ساتھ ہیں ‘ جیسا ہے۔ 
اداکاری کا انتخاب کس طرح کیا اور کریئر کی شروعات کس طرح ہوئی ؟
ج:میں بچپن ہی سے اداکارہ بننا چاہتی تھی، اسلئے مختلف کلچرل پروگرام میں شرکت کیا کرتی تھی۔ میں بالی ووڈ اور اس کے گیتوں سے بہت متاثر تھی، اسلئےہیروئنوں کی طرح لباس پہن کران کی نقالی بھی کیا کرتی تھی۔ یہ شوق زیادہ بڑھ گیا تومیں نے اسے بحیثیت پیشہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، اسلئے اپنے شہر سے نکل کر تعلیم حاصل کرنے کیلئے ممبئی آگئی اور یہیں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ دوران طالب علمی میں نے مختلف پروڈکشن ہاؤسیز میں آڈیشن دینا شروع کیا تھا۔ مجھے ۲۰۱۷ء میں پہلا شو سواستیک پروڈکشن کا بال کرشنا ملا تھا۔ اس کے بعد اسی پروڈکشن ہاؤس نے مجھے دوسرے شو کی پیشکش کی تھی۔ اس طرح میرے کریئر کی شروعات ہوئی جو آج تک جاری ہے۔ 
کیا آپ نے ٹی وی شو ز سے کریئر کی شروعات کا فیصلہ کیا تھا؟
ج:ایسی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی کہ ٹی وی شوز ہی سے کریئر کا آغاز کرنا ہے۔ میں جس عمر میں ممبئی آئی تھی اس میں یہ فیصلہ کرنے کی سمجھ نہیں ہوتی تھی کہ کس میڈیم سے شروعات کرنی ہے۔ ہاں اگر آپ کی رہنمائی کرنے والا کوئی ہے تو آپ بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں۔ میں چھوٹے شہر سے آئی تھی اور مجھےاس کا اندازہ نہیں تھا کہ کہاں سے آغاز کرنا ہے۔ اس وقت ٹی وی کیلئے آڈیشن دینا نسبتاً آسان ہوتا تھا جو آج کافی مشکل ہوگیا ہے۔ بہرحال میں نے ٹی وی کیلئے آڈیشن دیا اور اس میں کامیاب رہی۔ جب مجھے کام کی پیشکش ہوئی تو میں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اس میں کام کرنے کیلئے تیار ہوگئی۔ اس وقت تو یہی تھا کہ جس میڈیم میں پہلا موقع مل جائے وہاں کام کرناہے۔ بس رول اور شو اچھا ہونا چاہئے۔ 
آپ نے پنجابی فلموں میں بھی کام کیاہے ؟
ج:جی ہاں، پنجابی میری مادری زبان ہے اور میں نے وہاں بھی کام کیاہے۔ میں آئندہ بھی پنجابی فلم انڈسٹری میں کام کرنا چاہوں گی۔ وہ انڈسٹری بہت اچھی ہے اور مادری زبان ہونے کی وجہ سے وہاں مجھے آسانی بھی ہوتی ہے۔ بہرحال وہ میرے لئے ریجنل انڈسٹری جیسا ہے۔ اگر وہاں سے آفر آئیں گے تو میں اس کیلئے انکار نہیں کروں گی۔ 
کیا پنجابی انڈسٹری، ہندی فلمی صنعت سے مختلف ہے؟
ج:پنجابی انڈسٹری زیادہ مشکل نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہندی اور پنجابی میں کئی چیزیں مشترک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں انڈسٹری میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ وہاں بھی کام کا وہی طریقہ ہے جو ہندی انڈسٹری کا ہے۔ ایک اداکار کیلئے کام اہمیت رکھتا ہے زبان نہیں۔ 
کیا آپ دونوں انڈسٹری میں ایک ساتھ کام کریں گی ؟ اگر اس طرح کی کوئی پیشکش ہوئی تو آپ کس طرح اسے مینیج کریں گی؟
ج:اگر ہندی اور پنجابی انڈسٹری دونوں جگہ سے اچھے آفر ایک ساتھ ملے تو میں دونوں ہی جگہ کام کرنا چاہوں گی۔ میں اس موقع کا دونوں ہاتھ سے فائدہ اٹھانا چاہوں گی۔ جہاں تک مینیج کرنے کی بات ہے تو ایک آرٹسٹ اور فنکار دونوں جگہ کام کرنے کا طریقہ تلاش کرلیتاہے۔ بہت سے ایسے اداکار ہیں جو بیک وقت ۳؍ جگہ کام کرتے ہیں۔ جب آپ کو ایسے مواقع ملتے ہیں تو آپ خود ہی اس کا راستہ نکال لیتے ہیں۔ 
کیا ٹی وی سے آگے بڑھنے کا بھی ارادہ ہے ؟
ج:جی ہاں ضرور بڑھنا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ترقی کرے اور میں بھی یہی چاہتی ہوں، لیکن اس سے پہلے میں اپنی بنیاد مضبوط کرنا چاہتی ہوں اور اس کے بعد آگے بڑھنا چاہوں گی۔ فلم انڈسٹری میں اگر آپ کی معلومات کم ہے تو آپ کا استحصال کیا جاسکتاہے، اسلئے میں اس سے بچنا چاہتی ہوں۔ میں ٹی وی انڈسٹری میں رہتے ہوئے اپنی بنیاد مضبوط کرنا چاہوں گی اور اس کے بعد ہی فلموں میں مواقع تلاش کروں گی۔ میں اسی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہوں۔ 
اداکاری کے ساتھ ساتھ، آپ کو اور کیا کرنا پسند ہے؟
ج:اداکاری کے شعبے میں میں ڈیلی سوپس کے ساتھ ساتھ ریئلیٹی شوز میں کام کرنا چاہتی ہوں۔ اگر اچھے مواقع ملیں گے تو میں آن لائن پلیٹ پر بھی قسمت آزمانے میں یقین رکھتی ہوں۔ بس کوشش یہی ہوتی ہے کہ اچھے رول اوراچھے شوز ملیں۔ باقی قسمت کی بات ہے۔ شوبز انڈسٹری کے علاوہ میں فوڈ انڈسٹری میں قسمت آزمانا چاہوں گی۔ میں فوڈ انڈسٹری میں اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتی ہوں اور اس کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ ممکن ہے کہ ایک دو سال میں، میں اس انڈسٹری میں بھی مصروف نظرآؤں۔ 
انڈسٹری میں آپ کسے اپنارول ماڈل تسلیم کرتی ہیں ؟
ج:اداکارہ پرینکا چوپڑہ سے میں بہت متاثر ہوں۔ حالانکہ ان کے کردار میں ادانہیں کرنا چاہوں گی لیکن ان کی نجی اور پیشہ ورانہ زندگی سے بہت متاثر ہوں۔ پرینکا چوپڑہ نے جس جدوجہد کے ساتھ اپنی شناخت قائم کی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ پرینکا چوپڑہ کو پرینکا چوپڑہ بننے میں جو محنت کرنی پڑی ہے وہ محنت میں بھی کرنا چاہتی ہوں۔ میں ان کی نجی زندگی سے بہت متاثر ہوں اور چاہتی ہوں کہ اپنے کریئر میں ان کی جیسی بنوں۔ 
آج کل ٹی وی شوز زیادہ دنوں تک نہیں چلتے، کیوں ؟
ج:بحیثیت اداکارہ اگر میرا شو ۳؍ماہ کے بعد بند ہوجاتاہے تو مجھے برا لگے گا، لیکن ایک طرح سے یہ صحیح بھی ہے۔ اگر آپ کے پاس کہانی اور اسکرپٹ نہیں ہےتو آپ اس سلاٹ سے ہٹ جائیں تاکہ دوسرے شوز کو موقع ملے۔ اگر اس شو کی کہانی اچھی ہے تووہ اس سلاٹ پر بہتر ٹی آر پی حاصل کرسکتاہے۔ بہرحال ٹی وی شوز میں کہانیوں کی کمی نظرآتی ہے۔ 
او ٹی ٹی کے بارے میں آپ کیاکہنا چاہیں گی؟
ج:کورونا کے بعد او ٹی ٹی کوجو شہرت ملی تھی، وہ رفتہ رفتہ اب کم ہوتی جا رہی ہے اوراس کی جگہ ڈیلی سوپس اپنی پرانی حیثیت حاصل کررہے ہیں۔ او ٹی ٹی اپنی چمک گنوا رہا ہے، اس لئے میں او ٹی ٹی پر زیادہ توجہ نہیں دے رہی ہوں۔ فی الحال میری پوری توجہ ٹی وی اور فلموں پر ہے۔ اگراس میں کچھ نہیں ہوا اور او ٹی ٹی پر کوئی اچھا رول اور شو ملا تب ہی میں اس پر کام کرنے کے بارے میں سوچوں گی، ورنہ میں ٹی وی انڈسٹری میں ہی مصروف رہنا چاہوں گی۔ 
آج کل پاکستانی ٹی وی شوز کو بہت پسند کیا جارہاہے، اس کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گی؟
ج:وہ ہمارا ہی پنجاب ہے اور وہ لو گ بھی ہمارے ہی ہیں۔ میں ذاتی طورپر ان شوز کو پسند کرتی ہوں۔ ان کی شہرت کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ صاف ستھرے شوز بناتے ہیں اور ان کی کہانی بھی مختصر ہوتی ہے۔ وہ بہت زیادہ ایپی سوڈ میں کہانی نہیں سمیٹتے ہیں۔ میرے کئی احباب اور عزیز پاکستانی شوز کو یوٹیوب پر دیکھتے رہتے ہیں۔ اسی طرح اگر بالی ووڈ میں کچھ اچھا بنتاہے توپاکستانی انڈسٹری بھی اسے قبول کرتی ہے۔ 
شوبز انڈسٹری میں اب تک کا آپ کا سفر کیسا رہا ہے؟
ج:شوبز انڈسٹری میں اب تک کا سفر بہت اچھا رہا ہے اور امید کرتی ہوں کہ یہ سفر یوں ہی جاری رہے گا۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے اورمیں آگے بھی سیکھنا چاہتی ہوں۔ اگر کچھ برا تجربہ رہا ہے تو اس نے بھی کوئی سبق ہی دیا ہے کہ آگے کا سفر کس طرح طے کیا جانا چاہئے۔ یہاں میرا اچھا اور برا دونوں ہی سفر میرے لئے سبق آموزرہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK