Inquilab Logo Happiest Places to Work

میٹا نے بچوں کی حفاظت پر’’آنکھیں بند رکھنے‘‘ کی پالیسی اپنائی ہے

Updated: August 21, 2026, 9:03 AM IST | New York

فیس بک اور انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی میٹا ایک بڑے امریکی مقدمے میں شدید قانونی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ کمپنی کے سابق سیفٹی انجینئر اور وسل بلوئر آرٹورو بیجار (Arturo Béjar) نے عدالت میں الزام لگایا ہے کہ میٹا نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کی حفاظت کے معاملے میں Don’t ask, don’t tell یعنی ’’زیادہ سوال نہ کرو اور جو ہو رہا ہے اسے نظر انداز کرو‘‘ جیسا رویہ اختیار کیا۔

Meta.Photo:INN
میٹا۔ تصویر:آئی این این

فیس بک اور انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی  میٹا  ایک بڑے امریکی مقدمے میں شدید قانونی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ کمپنی کے سابق سیفٹی انجینئر اور وسل بلوئر آرٹورو بیجار (Arturo Béjar)  نے عدالت میں الزام لگایا ہے کہ میٹا نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کی حفاظت کے معاملے میں  Don’t ask, don’t tell یعنی ’’زیادہ سوال نہ کرو اور جو ہو رہا ہے اسے نظر انداز کرو‘‘ جیسا رویہ اختیار کیا۔ 
بچوں کو نقصان دہ مواد تک رسائی کا الزام
بیجار نے امریکی وفاقی عدالت میں گواہی دیتے ہوئے کہا کہ میٹا کو اس بات کا علم تھا کہ اس کے پلیٹ فارمز بچوں اور کم عمر صارفین کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق فیس بک اور انسٹاگرام کے نظام بعض اوقات کم عمر صارفین کو  جنسی شکاریوں، تشدد اور گرافک نوعیت کے مواد تک پہنچا سکتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بارہا فیس بک اور انسٹاگرام کے اعلیٰ عہدیداروں کو ان خطرات سے آگاہ کیا، لیکن ان کے مطابق ان شکایات پر مطلوبہ سطح کی کارروائی نہیں کی گئی۔ 
 مارک زکربرگ کو بھی بارہا آگاہ کیا
بیجار کے مطابق انہوں نے اپنے دورِ ملازمت میں میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ  سے مصنوعات اور صارفین کی حفاظت سے متعلق معاملات پر تقریباً۱۰۰؍ مرتبہ  بات کی تھی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ۲۰۲۱ء میں انہوں نے زکربرگ کو ایک ای میل بھی بھیجی، جس میں نوجوان صارفین کو درپیش نقصان دہ مواد اور ذہنی صحت سے متعلق خدشات کا ذکر کیا گیا تھا۔ بیجار کے مطابق انہیں اس ای میل کا کوئی جواب نہیں ملا۔  بیجار نے یہ بھی الزام لگایا کہ زکربرگ کے عوامی بیانات، جن میں کمپنی کی جانب سے منافع کو صارفین کی حفاظت پر ترجیح دینے کی تردید کی گئی تھی، ان کے ذاتی تجربے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے:نور احمد سی پی ایل ۲۰۲۶ء سے باہر، ٹم سیفرٹ سینٹ لوشیا کنگز میں شامل

۱۳؍برس سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس پر بھی سوال
مقدمے میں ایک اہم مسئلہ ۱۳؍ سال سے کم عمر بچوں کے فیس بک اور انسٹاگرام استعمال  کا بھی ہے۔ میٹا کے مطابق صارفین کی عمر کم از کم ۱۳؍ سال ہونی چاہیے، لیکن بیجار نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ ان کی تحقیق کے دوران انسٹاگرام پر  ہزاروں کم عمر بچوں  کے اکاؤنٹس سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے پاس جعلی یا مشتبہ اکاؤنٹس کی شناخت کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی موجود تھی، مگر کم عمر صارفین کی شناخت اور کارروائی کے لیے مناسب اہداف اور پیمانے موجود نہیں تھے۔ 
بیجار کی اپنی بیٹی کا تجربہ بھی سامنے آیا
کمپنی کے سابق ملازم  بیجار نے عدالت کو بتایا کہ جب ان کی ۱۴؍ سالہ بیٹی  نے انسٹاگرام اکاؤنٹ بنایا تو اسے نامعلوم افراد کی جانب سے جنسی نوعیت کے ناپسندیدہ پیغامات اور تصاویر سے متعلق درخواستیں موصول ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تجربے نے انہیں ذاتی طور پر یہ احساس دلایا کہ نوجوان صارفین کو پلیٹ فارم پر کس نوعیت کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ 
’Take a Break‘ فیچر بھی مؤثر نہیں، سابق انجینئر کا دعویٰ
بیجار نے میٹا کے بعض سیفٹی فیچرز پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے خاص طور پر’’Take a Break‘‘ فیچر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر صارف کو خود اس فیچر کو فعال کرنا پڑے تو بہت سے لوگ اسے استعمال نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق بچوں اور نوجوانوں کے لیے حفاظتی فیچرز  ڈیفالٹ طور پر فعال  ہونے چاہئیں، نہ کہ صارف کی جانب سے خود انہیں آن کرنے پر منحصر ہوں۔ 

یہ بھی پڑھئے:گٹارسٹ پرتیش والیا ۱۴؍ روز بعد آئی سی ای کی حراست سے رہا ہوئے

۲۹؍ امریکی ریاستوں کا میٹا کے خلاف مقدمہ
یہ گواہی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ۲۹؍ امریکی ریاستیں  میٹا کے خلاف قانونی کارروائی کر رہی ہیں۔ ریاستوں کا الزام ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام کو ایسے انداز میں ڈیزائن کیا گیا جس سے نوجوان صارفین زیادہ دیر تک پلیٹ فارم پر موجود رہیں اور ان میں لت جیسا رویہ پیدا ہو۔ ریاستوں نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ میٹا نے بچوں کی ذہنی صحت اور حفاظت سے متعلق خطرات کے باوجود اپنے پلیٹ فارمز کی پالیسیوں اور ڈیزائن میں مناسب تبدیلیاں نہیں کیں، جبکہ ۱۳؍ سال سے کم عمر بچوں کے ڈیٹا کے حوالے سے بھی قانونی خلاف ورزیوں کے الزامات موجود ہیں۔ 
میٹا کا مؤقف
میٹا نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ کمپنی نوجوان صارفین کی حفاظت کے لیے متعدد اقدامات اور حفاظتی ٹولز استعمال کرتی ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ وہ کم عمر صارفین کے تحفظ، والدین کے کنٹرولز اور اسکرین ٹائم سمیت مختلف حفاظتی اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK