Updated: October 13, 2026, 5:05 PM IST
| New York
امریکی باسکٹ بال کے عظیم کھلاڑی مائیکل جارڈن کی ایک تاریخی جرسی نے نیلامی میں ۱۴؍ ملین ڈالر حاصل کرکے باسکٹ بال سے متعلق یادگاری اشیا کی فروخت کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ نیلام گھر کے مطابق، یہ جرسی کھیلوں کی تاریخ میں مائیکل جارڈن کی غیر معمولی اہمیت اور ان کے عالمی مداحوں کی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔
مائیکل جارڈن۔ تصویر:آئی این این
امریکی باسکٹ بال کے عظیم کھلاڑی مائیکل جارڈن کی ایک تاریخی جرسی نے نیلامی میں ۱۴؍ ملین ڈالر حاصل کرکے باسکٹ بال سے متعلق یادگاری اشیا کی فروخت کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ نیلام گھر کے مطابق، یہ جرسی کھیلوں کی تاریخ میں مائیکل جارڈن کی غیر معمولی اہمیت اور ان کے عالمی مداحوں کی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔ جارڈن کو باسکٹ بال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے، اور ان کے کھیل سے وابستہ تاریخی سامان جمع کرنے والوں کے لیے ہمیشہ خاص کشش رکھتا ہے۔ اس ریکارڈ ساز نیلامی نے کھیلوں کی یادگاری اشیا کی عالمی منڈی میں بھی توجہ حاصل کی ہے، جہاں معروف کھلاڑیوں کی استعمال شدہ جرسیوں، دستخط شدہ گیندوں، جوتوں اور دیگر تاریخی اشیا کی قیمتیں ان کی اہمیت، نایابی اور مستند ہونے کی بنیاد پر طے ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:رجنی کانت کی ’جیلر ۲‘ ہندی میں بڑے ملٹی پلیکسز پر ریلیز نہیں ہوگی
یہ سرخ جرسی مائیکل جارڈن نے ۵؍ جون ۱۹۹۸ء کو شکاگو بلز اور یوٹاہ جاز کے درمیان این بی اے فائنلز کے دوسرے میچ میں پہنی تھی۔ اس مقابلے میں شکاگو بلز نے ۸۸۔۹۳؍ سے کامیابی حاصل کرکے سیریز ایک، ایک سے برابر کردی تھی۔ بعد ازاں بلز نے یہ سیریز چھ میچوں میں جیت کر اپنی چھٹی این بی اے چیمپئن شپ حاصل کی، جو جارڈن کے کریئر کا آخری خطاب بھی تھا۔ ۹۸۔۱۹۹۷ء کا یہ یادگار سیزن بعد میں مشہور دستاویزی سیریز ’’دی لاسٹ ڈانس‘‘ کا موضوع بنا، جس نے جارڈن کے آخری چیمپئن شپ سیزن کی اہمیت کو مزید نمایاں کیا۔
امریکی نیلام گھر ہنٹ آکشنز نے ۱۲؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو اعلان کیا کہ یہ جرسی نجی معاہدے کے ذریعے ۱۴؍ ملین ڈالر میں فروخت ہوئی ہے۔ خریدار کی شناخت میامی کے رئیل اسٹیٹ سرمایہ کار رون فرمن کے طور پر کی گئی ہے۔ نیلام گھر کے صدر ڈیوڈ ہنٹ کے مطابق، اس فروخت نے باسکٹ بال کی یادگاری اشیا کی مارکیٹ میں ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ جرسی ۲۰۰۳ء میں شکاگو بلز سے ایک نجی خریدار نے حاصل کی تھی اور اس کے بعد محدود تعداد میں مالکان کے درمیان منتقل ہوئی۔ اس کی تاریخی اہمیت، اصل ہونے کی تصدیق اور مائیکل جارڈن کے دستخط نے اس کی قدر بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے:پونے: ایم پی ایس سی امیدواروں کا احتجاج رنگ لایا
۱۴؍ ملین ڈالر کی یہ فروخت باسکٹ بال سے متعلق کسی بھی یادگاری شے کی اب تک کی سب سے بڑی قیمت قرار دی گئی ہے۔ اس سے قبل ستمبر ۲۰۲۶ء میں جارڈن کی ۱۹۹۸ء کے فائنلز کے تیسرے میچ میں پہنی گئی جرسی تقریباً۲۶ء۱۲؍ ملین ڈالر میں فروخت ہوئی تھی جبکہ ۲۰۲۲ء میں اسی فائنلز کے پہلے میچ کی جرسی تقریباً ۱ء۱۰؍ملین ڈالر میں نیلام ہوئی تھی تاہم، کھیلوں کی تاریخ میں سب سے مہنگی فروخت ہونے والی میچ میں استعمال شدہ جرسی کا ریکارڈ اب بھی بیب روتھ کی ۱۹۳۲ء کی ورلڈ سیریز والی جرسی کے پاس ہے، جو ۲۰۲۴ء میں ۱۲ء۲۴؍ ملین ڈالر میں فروخت ہوئی تھی۔
مائیکل جارڈن کی یہ ریکارڈ ساز جرسی نہ صرف ان کے شاندار باسکٹ بال کریئر کی علامت ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ کھیلوں کی تاریخ سے وابستہ نایاب اشیا جمع کرنے والوں کے لیے انتہائی قیمتی اثاثہ بن چکی ہیں۔ جارڈن کے چھ این بی اے خطابات، شکاگو بلز کے ساتھ ان کی تاریخی کامیابیاں اور ’دی لاسٹ ڈانس‘ سیزن سے وابستہ یادیں اس جرسی کو محض کھیلوں کے لباس سے بڑھ کر ایک تاریخی یادگار بناتی ہیں۔