• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پونے: ایم پی ایس سی امیدواروں کا احتجاج رنگ لایا

Updated: October 13, 2026, 1:09 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

فرنویس حکومت نے تفتیشی کمیٹی تشکیل دی، ایم پی ایس سی چیئر مین کو لمبی تعطیل پر بھیجا، تکارام منڈے کو تفتیشی کمیٹی کا سیکریٹری مقررکیا۔

Rohit Pawar reading out the written points of the assurance given by the government to the protesters. Photo: INN
روہت پوار مظاہرین کو حکومت کی جانب سے دئیے جانے والے تیقن کے تحریری نکات پڑھ کر سناتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

ایم پی ایس سی پیپر لیک اور مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف امیدواروں کا احتجاج رنگ لایا۔ مہاراشٹر حکومت نے معاملے کی جانچ اور کمیشن میں اصلاحات کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے ۔اسکے ساتھ ہی چیئرمین وویک بھیمنوار کو لمبی رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔اسی کے ساتھ پونے میں ۱۰؍ روز سے چل رہا امیدواروں کا احتجاج بھی ختم کردیا گیا ہے۔ 

مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن(ایم پی ایس سی )میں پیپر لیک میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیق کے لئے حکومت نے نے بڑا رد و بدل کرتے ہوئےفوڈ اینڈ ڈرگ اسٹیبلشمنٹ ( ایف ڈی اے ) کے سربراہ اور آئی اے ایس افسر تکارام منڈے کو پیپر لیک کی جانچ سے متعلق تشکیل کردہ جانچ واصلاحات کمیٹی کا سیکریٹری بنادیا ہے ۔ریاستی حکومت نے اتوار کی رات ایم پی ایس  میں امتحان کے دوران ہونے والی بے ضابطگیوں، بشمول امتحانی پرچوں کے افشا ہونے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ 

خیال رہے کہ ایم پی ایس سی کے امیدوار گزشتہ۱۱؍دنوں سے پونے میں سرکاری بھرتی امتحانات میں پیپر لیک اوربدعنوانیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ کمیشن کے چیئرمین وویک بھیمنووار اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ تاہم ریاستی حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات تسلیم کرنے کے بعد امیدواروں نے اپنا احتجاج ختم کر دیاہے ۔اس فیصلے کا اعلان اس وقت کیا گیا جب ریاست کے وزیر برائے تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی) شیویندر راجے بھوسلے نے احتجاج کرنے والے امیدواروں، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شردچندر پوار) کے رکن اسمبلی روہت پوار اور کانگریس کے رکن اسمبلی وشواجیت کدم سے ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آر اے پروجیکٹوں کو آسان بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل

روہت پوار، ایم پی ایس سی امیدواروں کے ساتھ پونے کے ایس ایم جوشی پل پر بھرتی امتحان کے پرچوں کے مبینہ افشا ہونے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

مہاراشٹر حکومت کے اعلان کے بعد کمیشن کے چیئرمین وویک بھیمنوار نے  عہدے سے رخصت ہونے سے قبل سوشل میڈیا ایکس پرٹوئٹ کرتے ہوئےکہا کہ’’  تحقیقات مکمل ہونے تک رخصت پر جارہا ہوں۔ میں نے اپنی پوری زندگی ہمیشہ اخلاقیات کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک عہدے پر برقرار رہنے کے بجائے اس مدت کے دوران رخصت پر چلا جاؤں۔‘‘

بھیمناور نے مزید کہا کہ ایم پی ایس سی کی خودمختاری، ساکھ اور طلبہ کی فلاح و بہبود ہمیشہ ان کی اولین ترجیحات رہی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔ انہوں نے اپنی پوسٹ کا اختتام ’’جئے ہند! جئے مہاراشٹر!‘‘ کے نعرے کے ساتھ کیا۔

 واضح رہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کمیشن کے کام کاج کا جائزہ لے گی، اس کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرے گی اور اصلاحات کے لئے تجاویز پیش کرے گی۔ کمیٹی کو۲؍ ماہ کے اندر ریاستی حکومت کو رپورٹ پیش کرنی ہوگی ۔ اس کے علاوہ ایم پی ایس سی کے امتحانات میں سوالیہ پرچوں کے افشا ہونے سے متعلق تمام الزامات کی بھی تحقیقات کی جائے گی۔ اسی درمیان طلبہ سے تبادلہ خیال کرنے کے بعد وزیر شیویندر راجے بھوسلے نے یہ بھی اعلان کیا کہ احتجاج میں شامل طلبہ کے خلاف درج تمام فوجداری مقدمات واپس لیے جائیں گے ۔ وزیر نے حکومت کی تجویز کا مسودہ روہت پوار کے حوالے کیا، جسے انہوں نے احتجاجی طلبہ کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ تاہم، مسودے میں کمیشن کے چیئرمین وویک بھیمنوار کے استعفے کا ذکر نہیں تھا۔ اس لیے روہت پوار اور امیدواروں نے واضح کیا کہ وہ ان کے استعفے کا مطالبہ برقرار رکھیں گے۔ بعد ازیں ریاستی حکومت نے بھیمنوار کو تحقیقات مکمل ہونے تک لازمی رخصت پر بھیج دیا۔ اس فیصلے کے بعد طلبہ نے اصولی طور پر اپنا احتجاج معطل کر دیا۔

خصوصی کمیٹی میں کون کون شامل ہے؟

تشکیل کردہ کمیٹی کا مقصد مہاراشٹر پبلک کمیشن کے کام کاج میں شفافیت لانا، امتحانی عمل کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا مطالعہ کرنا اور ضروری اصلاحات کی سفارش کرنا ہے۔بامبے ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس دلیپ بھوسلے کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی میں سابق جسٹس پی ڈی نائیک، تُکارام منڈے، ریٹائرڈ سیکریٹری گنیش پاٹل اور انسپکٹر جنرل آف پولیس لکشمی گوتم بھی شامل ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK