• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی میں کثیرمنزلہ عمارت منہدم، طلبہ مقیم تھے، ۵؍ ہلاک

Updated: September 07, 2026, 9:05 AM IST | Agency | New Delhi

وزیراعظم نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا مگر اپوزیشن نے اُن کی حکومت اور دہلی سرکار کو ذمہ دار ٹھہرایا، طلبہ کے قیام کیلئے ہاسٹیل کا خاطر خواہ نظم نہ ہونے کا حوالہ دیا۔

Rescue workers taking a student, pulled from the rubble, to the hospital in Delhi. Picture: INN
دہلی میں ملبہ سے نکالے گئے ایک طالب علم کو بچاؤ کارکن اسپتال لے جاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے قریب ستیہ نکیتن میں اتوار کو تقریباً۵۰؍ سال پرانی پانچ منزلہ عمارت منہدم ہوگئی۔ اس عمارت میں طلبہ ’’پیئنگ گیسٹ ‘‘  کے طور پر رہ رہے تھے۔ حادثے میں کم از کم ۵؍ طلبہ ہلاک  ہوگئے ہیں جبکہ خبر لکھے اجنے تک متعدد افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔پولیس کے مطابق۱۱؍افراد کو ملبے سے نکالا جا چکا ہے۔ ان میں ایک کو اسپتال پہنچنے پر مردہ قرار دیا گیا، جبکہ ۴؍ کی دورانِ علاج موت ہوگئی۔ ۳؍ افراد کی حالت نازک ہے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران زخمی ہونے والے ایک اہلکار کو علاج کے بعد اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔

۴۰؍ افراد ملبے کے نیچے دب گئے

مقامی افراد کے مطابق تقریباً۴۰؍ افراد اب بھی ملبے تلے پھنسے ہوسکتے ہیں۔ عمارت کے بیسمنٹ میں مرمت کا کام جاری تھا اور اسی دوران دوپہر تقریباً ساڑھے ایک بجے عمارت اچانک منہدم ہوگئی۔ مقامی لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ گزشتہ کئی دنوں سے جاری بارش کی وجہ سے بیسمنٹ میں پانی جمع ہونے سے عمارت کی بنیاد کمزور ہوگئی تھی۔ حادثے کے فوراً بعد دہلی پولیس، این ڈی آر ایف، دہلی فائر سروس اور ڈی ڈی ایم اے کی ٹیمیں فائر ٹینڈرز اور کیٹس ایمبولینسوں کے ساتھ موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائی شروع کردی۔ تنگ اور گنجان گلیوں کے باعث  بچاؤ کیلئے پہنچنے والی گاڑیوں کو جائے حادثہ تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

مقامی افراد نے بچاؤ میں اہم رول ادا کیا

مقامی افراد اور عینی شاہدین  نے بھی امدادی کارروائیوں میں  اہم رول ادا کیا  اور ہاتھوں اور دستیاب اوزاروں سے ملبہ ہٹا کر پھنسے لوگوں کو تلاش کرتے رہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک زخمی نوجوان ملبے کے نیچے دبا نظر آیا، جس کا آدھا چہرہ اور ایک ہاتھ دکھائی دے رہا تھا۔

دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو، پولیس کمشنر انوراگ کمار اور رکن پارلیمنٹ بانسوری سوراج نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ، پولیس کمشنر اور این ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل سے صورتحال کی معلومات حاصل کیں۔

وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بتایا کہ ڈی ڈی ایم اے، این ڈی آر ایف، فائر سروس، پولیس، ایم سی ڈی، کیٹس اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں جنگی بنیادوں پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ احتیاطی اقدام کے طور پر ملحقہ عمارت کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

 اپوزیشن کا مودی سرکار پر حملہ

اپوزیشن نے  حادثہ کیلئے مرکز اور دہلی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے اس حادثے کوایک ایسا سانحہ قرار دیا جسے ٹالا جاسکتاتھا۔  پارٹی نے کہا کہ طلبہ کو محفوظ رہائش فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔  کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ عمارت کا منہدم ہونا انتہائی تشویشناک ہے اور یہ ان غیر محفوظ اور گنجان پی جی رہائش گاہوں کی حقیقت سامنے لاتا ہے جہاں طلبہ مناسب ہاسٹل سہولتوں کی کمی کے باعث رہنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ دہلی اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے آتے ہیں، اپنی جان خطرے میں ڈالنے کے لیے نہیں۔

ابھیجیت دپکے کاوزیراعظم سے سوال 

کاکروچ جنتا پارٹی  کے بانی ابھیجیت دپکے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے طلبہ کی سلامتی اور تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی صورتحال پر  سوال کیا ہے۔   انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ وزیر اعظم نے ایک روز قبل دہلی یونیورسٹی کا دورہ کیا اور ’’دماغی نکسل‘‘ جیسی اصطلاح استعمال کی، لیکن ملک کے تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی حالت پر بہت کم بات کی۔    انہوں نے سوال کیا کہ آخر طلبہ کو ناقص بنیادی ڈھانچے اور انتظامی غفلت کی قیمت کب تک چکانی پڑے گی۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK