تازہ سروے کے مطابق نیتن یاہو کا اتحاد اکثریت کیلئے درکار ۶۱؍ نشستوں سے اب بھی ۹؍ نشستیں دور ہے جبکہ اپوزیشن بھی معمولی برتری کے باوجود مشکلات کا شکار ہے۔
EPAPER
Updated: September 07, 2026, 9:56 PM IST | Tal Aviv
تازہ سروے کے مطابق نیتن یاہو کا اتحاد اکثریت کیلئے درکار ۶۱؍ نشستوں سے اب بھی ۹؍ نشستیں دور ہے جبکہ اپوزیشن بھی معمولی برتری کے باوجود مشکلات کا شکار ہے۔
کنٹار انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کئے گئے ایک حالایہ سروے کے مطابق نتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کی مقبولیت میں مسلسل کمی آرہی ہے، جس کے چلتے ان کاحکومت میں واپس آنا مشکل لگ رہا ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے کان (KAN) کے شائع کردہ ایک نئے سروے کے مطابق، اکتوبر میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامین نتن یاہو کی پار ٹی لیکوڈ کی حمایت میں مسلسل کمی آ رہی ہےاور ان کے دوبارہ حکومت بنانے کے امکانات غیر یقینی ہوتے جا رہے ہیں۔ کنٹار انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے عرب شہریوں سمیت ۱۸؍ سال اور اس سے زائد عمر کے ۵۵۱؍ اسرائیلیوں کے درمیان کئے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر آج انتخابات ہوتے ہیں تو لیکوڈ پارٹی کو گزشتہ ہفتے کے سروے کے مقابلے میں مزیدایک سیٹ کا نقصان ہو رہا ہے، جس کے بعد۱۲۰؍سیٹوں والی اسرائیلی پارلیمنٹ میں اس کے پاس صرف ۲۰؍ سیٹیں ہی رہ جائیں گی۔
لیکوڈ کی مقبولیت گھٹنے کے باوجود نتن یاہو کا پورا سیاسی اتحاد ۵۲؍ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے لیکن اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کیلئے درکار ۶۱؍ کے ہندسے سے وہ اب بھی ۹؍ سیٹیں دور ہے۔ ملک کی سیاسی صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، سیاستداں یوآز ہینڈل اور ماہرِ معیشت یارون زیلیخا کے ایک نئے اتحاد نے ۴؍ سیٹیں حاصل کر لیں۔ یہ نیا اتحاد فی الحال اسرائیل کے کسی بھی مرکزی سیاسی بلاک کے ساتھ شامل نہیں ہے۔ اگر یہ نیا اتحاد نتن یاہو کے خیمے کے ساتھ ہاتھ ملا بھی لے، تب بھی ان کے بلاک کے پاس کل ۵۶؍ سیٹیں ہی ہوں گی، یعنی وہ پارلیمانی اکثریت سے ۵؍ سیٹیں پیچھے رہے گا۔ ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف اپنے موجودہ اتحادیوں اور اس نئے بلاک کی ممکنہ حمایت کے بل بوتے پر نتن یاہو کیلئے حکومت بنانا فی الحال ممکن نظر نہیں آتا۔
یہ بھی پڑھئے: ملیالم نیوز چینلز میں اسلاموفوبک فریمنگ کے ۱۲۰؍ واقعات: اسلاموفوبیا واچ کی رپورٹ
دوسری طرف، سابق فوجی سربراہ گادی آئسینکوٹ کی قیادت والے اپوزیشن بلاک کی سیٹیں بھی پچھلے ہفتے کی ۵۵؍ سیٹوں سے کم ہو کر ۵۱؍ رہ گئی ہیں۔ کنٹار انسٹی ٹیوٹ کا یہ سروے ۴ء۲ ؍ فیصد کے مارجن آف ایرر کے ساتھ تیار کیا گیا تھا۔ یہ تمام نتائج ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے اسرائیل کے عام انتخابات سے ٹھیک پہلے کے سروے میں سامنے آئے ہیں، جہاں سیاسی اتحادوں کو مضبوط کرنے اور وزاتِ عظمیٰ کی کرسی حاصل کرنے کیلئے مقابلہ انتہائی سخت ہو چکا ہے۔