• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نانا پاٹیکر۷۵؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے، گوا کے گھر میں بے ہوش پائے گئے

Updated: October 08, 2026, 9:05 AM IST | Mumbai

معروف اداکار کو گوا کی رہائش گاہ سے اسپتال لے جایا گیا، تقریباً ۴۵؍ منٹ تک سی پی آر کے باوجود جان نہ بچ سکی؛ پوسٹ مارٹم ہوگا۔

Nana Patekar. Picture: INN
نانا پاٹیکر۔ تصویر: آئی این این

ہندی اور مراٹھی سنیما کے معروف اداکار نانا پاٹیکر ۷۵؍ برس کی عمر میں جمعرات ۸؍ اکتوبر کو انتقال کرگئے۔ وہ گوا کے ڈونا پاؤلا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر بے ہوش پائے گئے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک انہیں بچانے کی کوشش کی۔ منی پال اسپتال کے ڈاکٹر شیکھر سالکر کے مطابق ابتدائی طبی جائزے میں شدید قلبی گرفت کی بات سامنے آئی ہے۔ انہیں صبح ۵:۲۰ بجے مردہ قرار دیا گیا۔ ان کی موت کے سلسلے میں میڈیکو لیگل کیس درج کیا گیا ہے اور پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔

نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے بھی ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ ان کے اہل خانہ کی جانب سے تفصیلی بیان کا انتظار ہے، جبکہ حکام کی جانب سے بھی موت کے مکمل حالات کی مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔ اسی وجہ سے اس مرحلے پر شدید قلبی گرفت کو ابتدائی طبی وجہ کے طور پر بیان کیا جارہا ہے، حتمی نتیجے کے لیے پوسٹ مارٹم اور متعلقہ طبی کارروائی مکمل ہونا ضروری ہے۔

وشواناتھ پاٹیکر کے نام سے یکم جنوری ۱۹۵۱ء کو پیدا ہونے والے نانا پاٹیکر نے ہندی اور مراٹھی فلموں میں تقریباً ۵؍ دہائیوں پر محیط کیریئر بنایا۔ ان کی اداکاری میں مکالموں کی مخصوص ادائیگی، شدید جذبات اور کردار کے اندر اتر جانے کا انداز نمایاں رہا۔ انہوں نے فلموں کے علاوہ ہدایت کاری اور اسکرین رائٹنگ میں بھی کام کیا اور ۱۹۹۱ء میں ’پراہار: دی فائنل اٹیک‘ کی ہدایت کاری کی۔

نانا پاٹیکر نے ۱۹۷۸ء کی فلم ’گمن‘ سے ہندی سنیما میں اداکاری کا آغاز کیا۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی کے اختتام تک وہ اپنی اداکاری کے باعث نمایاں ہوچکے تھے، لیکن ’پرندہ‘ میں ان کی کارکردگی نے انہیں قومی سطح پر بڑی پہچان دی۔ ۱۹۸۹ء کی اس فلم کے لیے انہیں بہترین معاون اداکار کا قومی فلم ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد ’پراہار‘، ’ترنگا‘، ’کرانتی ویر‘، ’اگنی ساکشی‘، ’خاموشی: دی میوزیکل‘، ’اب تک چھپن‘ اور ’ویلکم‘ سمیت متعدد فلموں میں ان کے کردار یاد رکھے گئے۔

۱۹۹۴ء میں ریلیز ہونے والی ’کرانتی ویر‘ نانا پاٹیکر کے کیریئر کی اہم فلموں میں شامل رہی۔ اس فلم میں ان کی اداکاری کے لیے انہیں بہترین اداکار کا قومی فلم ایوارڈ ملا۔ اس سے قبل اور بعد میں بھی ان کی اداکاری کو قومی سطح پر تسلیم کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ مجموعی طور پر ۳؍ قومی فلم ایوارڈز حاصل کرنے والے اداکاروں میں شامل ہوئے۔ انہیں کئی فلم فیئر ایوارڈز اور مراٹھی سنیما کے اعزازات بھی ملے۔ ۲۰۱۳ءمیں ہندوستانی سنیما اور فنون میں ان کی خدمات کے لیے انہیں پدم شری سے نوازا گیا۔ 

نانا پاٹیکر نے صرف سنجیدہ اور شدید کردار ہی نہیں کیے بلکہ تجارتی سنیما میں بھی اپنی الگ شناخت بنائی۔ ’ویلکم‘ میں ان کا ادا کیا ہوا ادھی بھاؤ کا کردار ان کے نسبتاً ہلکے پھلکے اور مزاحیہ کرداروں میں نمایاں رہا۔ اس کے برعکس ’اب تک چھپن‘ میں پولیس افسر کا کردار ان کی سنجیدہ اور سخت اداکاری کی مثال بنا۔ اسی تنوع نے انہیں کئی دہائیوں تک مختلف نسلوں کے ناظرین سے جوڑے رکھا۔

مراٹھی سنیما میں بھی نانا پاٹیکر کی موجودگی اہم رہی۔ ’نٹسمرات‘ میں ان کی اداکاری کو خاص طور پر سراہا گیا اور اس کردار کے لیے انہیں مراٹھی فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔ ان کا کام صرف مرکزی دھارے کی فلموں تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے ایسے کردار بھی ادا کیے جن میں عمر، تنہائی، غصے، سماجی دباؤ اور انسانی رشتوں جیسے موضوعات نمایاں تھے۔

اداکاری کے ساتھ نانا پاٹیکر نے ہندوستانی فوج سے بھی وابستگی رکھی۔ وہ ٹیریٹوریل آرمی میں شامل ہوئے اور ۱۹۹۹ء کی کارگل جنگ کے دوران بھی فوج کے ساتھ رہے۔ بعد میں انہیں اعزازی لیفٹیننٹ کرنل کا رینک ملا۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو ان کے فلمی کیریئر سے الگ ایک نمایاں شناخت بن گیا تھا۔

ان کے کیریئر کا آخری دور بھی فلموں سے خالی نہیں رہا۔ ۲۰۲۶ء میں وہ ایکشن ڈراما ’صوبیدار‘ میں نظر آئے، جو ۵؍ مارچ کو ایمیزون پرائم ویڈیو پر جاری ہوئی۔ فلم میں ان کے ساتھ انیل کپور اور رادھیکا مدان سمیت دیگر اداکار شامل تھے۔ ان کی موت سے چند ہفتے قبل ستمبر ۲۰۲۶ء میں بھی ان سے متعلق فلمی خبریں سامنے آتی رہی تھیں، جن میں ان کے سابقہ کرداروں اور آنے والے منصوبوں کا ذکر کیا گیا تھا۔

نانا پاٹیکر کے انتقال کی خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ان کے کئی دہائیوں پر محیط فلمی سفر میں اداکاری کی مختلف جہتیں موجود تھیں۔ ایک طرف ’پرندہ‘، ’کرانتی ویر‘ اور ’اگنی ساکشی‘ جیسے سنجیدہ کردار تھے، تو دوسری طرف ’ویلکم‘ جیسی مقبول تجارتی فلم بھی ان کے فلمی ورثے کا حصہ ہے۔ ان کی موت کے بعد اب گوا میں پوسٹ مارٹم اور میڈیکو لیگل کارروائی کے ذریعے موت کے حالات کی مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK