نندہ نے اپنی دلکش اداؤں سے تقریباً ۳؍ عشروں تک شائقین کا دل جیتا

Updated: March 24, 2020, 8:04 AM IST | Agency | Mumbai

اداکارہ نندہ نےاپنی دلکش اداؤں سے تقریباً ۳؍ عشروں تک شائقین کا دل جیتا ہے لیکن بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہوں گے کہ وہ فلم اداکارہ بننے کے بجائے فوج میں شامل ہونے کی خواہش مند تھیں۔

Actress Nanda - Pic : INN
اداکارہ نندہ ۔ تصویر : آئی این این

 اداکارہ نندہ نےاپنی دلکش اداؤں سے تقریباً ۳؍ عشروں تک شائقین کا دل جیتا ہے لیکن بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہوں گے کہ وہ فلم اداکارہ بننے کے بجائے فوج میں شامل ہونے کی خواہش مند تھیں۔
 ممبئی میں ۸؍جنوری ۱۹۳۹ء کو نندہ کی پیدائش ہوئی تھی۔ ان کے گھر فلمی ماحول تھا۔ ان کے والد ماسٹر ونایک مراٹھی تھیٹر کے مشہور مزاحیہ اداکار تھے۔ اس کےعلاوہ انہوں نے کئی فلمیں بھی بنائی تھیں۔ ان کے والد چاہتے تھے کہ نندہ فلموں کی اداکارہ بنیں لیکن اس کے باوجود نندہ کی دلچسپی اداکاری کی جانب نہیں تھی۔ نندہ عظیم مجاہد آزادی سبھاش چندر بوس سے بے حد متاثر تھیں اور ان ہی کی طرح فوج میں جاکر ملک کی حفاظت کرنا چاہتی تھیں۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ جب نندہ پڑھائی میں مصروف تھیں، تب ان کی ماں نے ان کے پاس آکر کہا ’’تمہیں اپنے بال کٹوانے ہوں گے، کیونکہ تمہارے پاپا چاہتے ہیں کہ تم ان کی فلم میں لڑکے کا کردار اداکرو۔‘‘ ماں کی یہ بات سن کر نندہ کو بہت غصہ آیا۔ پہلے تو انہوں نے بال کٹوانے سے صریحاً انکار کردیالیکن ماں کے سمجھانے پر وہ راضی ہوگئیں۔ اس فلم کے بننے کے دوران ہی نندہ کے سر سے باپ کر سایہ اُٹھ گیا اور وہ فلم بھی ادھوری رہ گئی۔ رفتہ رفتہ خاندان کی معاشی حالت خراب ہونے لگی۔ صورتحال اتنی ابتر ہوگئی کہ گھر اور کار تک بیچنے کی نوبت آگئی۔ خاندان کی معاشی حالت خراب ہونے کی وجہ سے نندہ نے اپنے بچپن میں فلموں میں کام کرنا شروع کر دیا۔ بطور چائلڈ آرٹسٹ  نندہ نے ۱۹۴۸ء میں ’مندر‘، ۱۹۵۲ء میں’ جگو‘، ۱۹۵۴ء میں ’شنکر آچاریہ‘ اور ’انگارے‘ جیسی فلموں میں کام کیا۔ ۱۹۵۶ءمیں انہوں نے اپنے چچا وی شانتارام کی فلم ’طوفان اور دیا‘ سے بطوراداکارہ اپنے فلمی کریئر کی شروعات کی حالانکہ فلم کی ناکامی کی وجہ سے ان کی کچھ خاص شناخت نہیں بن سکی۔
 فلم ’طوفان اور دیا‘ کی ناکامی کے بعد نندہ نے ’رام لکشمن‘، ’لکشمی‘، ’دُلہن‘، ذ’را بچ کے‘، ’ساکشی گوپال‘، ’چاند میرے آجا‘ اور ’پہلی رات‘ جیسی چند فلموں میں کام کیا لیکن ان فلموں سے انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔ نندہ کی قسمت کا ستارہ فلمساز ایل وی پرساد کی ۱۹۵۹ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’چھوٹی بہن ‘ سے چمکا۔ اس فلم میں بھائی بہن کے محبت بھرے رشتےکو بخوبی بڑے پردے پر پیش کیاگیا تھا۔اس فلم میں بلراج ساہنی نے بڑے بھائی اور نندہ نے چھوٹی بہن کا کردار اداکیاتھا۔شیلندر کا لکھا اور لتا منگیشکر کا گایا ہوا اس فلم کا گیت ’بھیّا میرے راکھی کے بندھن کو نبھانا‘ بہت مقبول ہوا تھا۔ رکشا بندھن کے گیتوں میں اس گیت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ فلم کی کامیابی کے بعد نندہ کچھ حد تک فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئیں اور انہیں کئی اچھی فلموں کی پیشکش ہوئیں۔ ان میں دیو آنند کی فلم ’کالا بازار‘ اور ’ہم دونوں‘ اور بی آر چوپڑہ کی فلم ’قانون‘ قابل ذکر ہیں۔ ۱۹۶۵ءنندہ کے کریئر کا اہم سال ثابت ہوا۔ اس سال ان کی فلم ’جب جب پھول کھلے‘ ریلیز ہوئی۔ بہترین موسیقی،نغموں اور اداکاری سے آراستہ اس فلم کی زبردست کامیابی نے نہ صرف اداکار ششی کپور اور نغمہ نگار آنند بخشی اور موسیقار کلیان جی آنند جی کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا بلکہ نندہ کو بھی ایک بہترین اداکارہ کے طورپر کامیابی دلائی۔ ۱۹۶۵ء میں ان کی ایک اور سپر ہٹ فلم ’گمنام‘ ریلیز ہوئی، اس فلم میں وہ منوج کمار کے ساتھ نظرآئیں۔ ۱۹۶۹ءمیں ان کی فلم ’اتفاق‘ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں راجیش کھنہ کے ساتھ ان کی جوڑی کو کافی پسند کیاگیااور یہ فلم سپرہٹ رہی۔ ۱۹۸۲ءمیں فلم ’آہستہ آہستہ‘ سے فلم انڈسٹری میں نندہ کی واپسی ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے راج کپور کی فلم ’پریم روگ‘ اور روی چوپڑہ کی فلم ’مزدور‘ میں کام کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تینوں ہی فلموں میں انہوں نے اداکارہ پدمنی کولہاپوری کی ماں کا کردار  اداکیا تھا۔ ۱۹۹۲ء میں نندہ نے فلمساز و ہدایتکار منموہن دیسائی کے ساتھ منگنی کر لی لیکن ۱۹۹۲ء میں  منموہن دیسائی گرگام میں واقع اپنے مکان کی بالکنی سے نیچے گر گئے جس کے نتیجے میں ان کی موت ہو گئی  اور نندہ غیر شادی شدہ ہی رہ گئیں۔۲۵؍ مارچ ۲۰۱۴ءکو نندہ اس دنیا کو الواع کہہ گئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK