سپریم کورٹ نے۲؍ بچوں کی پالیسی پر بہت ضروری اور اہم تبصرہ کیا ہے کہ ۲؍سے زیادہ بچے پیدا کرنے والوں کو سزا دینے سے متعلق قوانین اب اپنی معنویت کھو چکے ہیں۔
EPAPER
Updated: November 05, 2026, 1:46 PM IST | Agency | New Delhi
سپریم کورٹ نے۲؍ بچوں کی پالیسی پر بہت ضروری اور اہم تبصرہ کیا ہے کہ ۲؍سے زیادہ بچے پیدا کرنے والوں کو سزا دینے سے متعلق قوانین اب اپنی معنویت کھو چکے ہیں۔
سپریم کورٹ نے۲؍ بچوں کی پالیسی پر بہت ضروری اور اہم تبصرہ کیا ہے کہ ۲؍سے زیادہ بچے پیدا کرنے والوں کو سزا دینے سے متعلق قوانین اب اپنی معنویت کھو چکے ہیں۔ ملک میں شرح افزائش میں تیزی سے کمی کو دیکھتے ہوئے ان قوانین پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ۲؍ سے زیادہ بچہ پیدا ہونے پر پنچایت کا رُکن بننے کیلئے نااہل قرار دینے والے مہاراشٹرکے ایک قانون پر سماعت کے دوران عدالت نے یہ تبصرہ کیا۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب کئی ریاستوں میں شرح افزائش بہت کم ہوگئی ہےتو آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے بنائی گئی پالیسی کو جاری رکھنے کا کیا جواز ہے؟
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی میں میٹرو چلنے کی راہ ہموار، ۱۳؍ کلومیٹر کا ٹرائل شروع
سپریم کورٹ کے ۲؍ ججوں کی بنچ نے اس معاملے کو ۳؍ ججوں کی بنچ کے پاس بھیجتے ہوئے اس پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی ۔جسٹس نرسمہا کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ آج کی نسل میں ۳؍ بچے ہونا ایک غیر معمولی بات ہے۔ اب تو کنبے میں صرف ایک ہی بچہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے ملک کی اوسط شرح افزائش بہت کم ہو گئی ہے۔ ایسے میں مذکورہ پالیسی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے کہا کہ ان قوانین کی بنیاد بڑھتی ہوئی آبادی کے تئیں تشویش تھی لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں آبادی کے ڈھانچے میں تبدیلیاں آئی ہیں۔ ایسے میں دوبارہ ان قوانین اور ضوابط پر غور کیا جانا چاہئے۔
۲۰۰۳ء میں ہندوستان کی مجموعی شرح افزائشِ نسل (ٹی ایف آر) ۳؍ تھی جو اَب گھٹ کر ۱ء۹؍ رہ گئی ہے۔ ۱ء۲؍کی شرح کو متبادل شرح افزائش (ری پلیسمنٹ ریٹ) کہا جاتا ہے۔۲ ؍ججوں کی بنچ نے کہا کہ ہندوستان کی آبادی اگرچہ ابھی فوری طور پر کم نہیں ہو رہی ہے لیکن شرح افزائش نسل کے متبادل شرح سے نیچے جانے کے اثرات آنے والے وقت میں نظر آئیں گے۔ اس سے بزرگوں کی آبادی میں اضافہ ہوگا اور کام کرنے کی عمر والے افراد کا تناسب کم ہو جائے گا۔ یہ جاپان جیسی صورتحال ہو گی۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر بدلتی ہوئی صورتحال کو مدنظر نہیں رکھا گیا تو ملک کو سنگین نتائج برداشت کرنے پڑ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ مہاراشٹر کی سابق سرپنچ منگلا بھیم راؤ انگلے کی عرضی سے متعلق ہے۔ انہوں نے بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، جس میں ۲؍ سے زیادہ بچے ہونے کی بنیاد پر ان کی نااہلی برقرار رکھی گئی تھی۔مہاراشٹر ولیج پنچایت ایکٹ۱۹۵۹ء کے تحت ۲؍سے زیادہ بچے ہونے پر کوئی شخص پنچایت رکن یا سرپنچ کا انتخاب نہیں لڑ سکتا اور نہ ہی ان عہدوں پر برقرار رہ سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں اپنے سابقہ فیصلوں پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ظاہر کی ہے۔ ان میں۲۰۰۳ء کا جاوید بنام ہریانہ مقدمے کا فیصلہ بھی شامل ہے، جس میں ہریانہ کی ۲؍ بچوں کی پالیسی کو برقرار رکھا گیا تھا۔ بعد ازاں۲۰۰۴ء کے رام جی لال جاٹ بنام راجستھان مقدمے میں بھی سپریم کورٹ نے ۲؍بچوں کی شرط سے متعلق قانون کو برقرار رکھا تھا۔