Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنتر منتر احتجاج: پی ایم مودی کا اعلان، پیپر لیک قصورواروں کو نہیں بخشا جائیگا

Updated: July 23, 2026, 10:52 AM IST | New Delhi

ملک بھر میں مبینہ نیٹ ۲۰۲۶ء پیپر لیک معاملے پر جاری احتجاج کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپر لیک سے متعلق مقدمات کی تیز رفتار سماعت اور قصورواروں کو سخت سزا دلانے کیلئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل اور ان کی فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے، جبکہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعظم کے اس اعلان کو جاری احتجاج اور امتحانی نظام پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان ایک اہم حکومتی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

Narendra Modi.Photo:INN
نریندر مودی۔ تصویر:آئی این این

ملک بھر میں مبینہ نیٹ ۲۰۲۶ء پیپر لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج اور امتحانی نظام پر اٹھنے والے سنگین سوالات کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپر لیک سے متعلق مقدمات کی فوری سماعت کو یقینی بنانے کیلئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی، تاکہ قصورواروں کو جلد از جلد سخت سزا دی جا سکے۔ وزیر اعظم نے جمعرات کو اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ’’ملک کے نوجوانوں کی فلاح اور ان کا مستقبل ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے۔ پیپر لیک کے تمام معاملات میں ملوث افراد کو جلد اور سخت سزا دلانے کیلئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ طلبہ کے مفادات کے تحفظ کیلئے حکومت کے اقدامات کا یہ ایک اہم حصہ ہے۔ جو لوگ نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کی کوشش کریں گے، انہیں کسی بھی صورت بخشا نہیں جائے گا۔‘‘

وزیر اعظم کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مبینہ نیٹ ۲۰۲۶ء پیپر لیک معاملے پر ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج جاری ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران دہلی سمیت کئی شہروں میں ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکلے اور امتحانی نظام میں شفافیت، پیپر لیک کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج نے قومی توجہ حاصل کی، جہاں طلبہ تنظیموں، سماجی کارکنوں اور متعدد عوامی شخصیات نے بھی اظہارِ یکجہتی کیا۔

اس دوران احتجاج کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی، لاٹھی چارج اور مظاہرین کو حراست میں لینے کے واقعات بھی موضوعِ بحث بنے۔ کئی سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے طاقت کے استعمال پر سوالات اٹھائے، جبکہ حکومت نے قانون و نظم برقرار رکھنے کے اقدامات کو ضروری قرار دیا۔ فلمی دنیا کی متعدد شخصیات نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی۔ اداکارہ ہما قریشی اور ان کے بھائی ثاقب سلیم جنتر منتر پہنچے، جبکہ شبانہ اعظمی، پرکاش راج، رتیش دیشمکھ، جنیلیا دیشمکھ، بھومی پیڈنیکر، دیا مرزا، سوناکشی سنہا، دلجیت دوسانجھ اور دیگر فنکاروں نے مختلف بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے شفاف تحقیقات اور طلبہ کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: دھولیہ: چلتی بس میں آگ، مسافر محفوظ

وزیر اعظم کے اعلان کو حکومت کی جانب سے پیپر لیک کے خلاف سخت مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کا مقصد ایسے مقدمات میں برسوں تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی کو تیز کرنا اور قصورواروں کو جلد سزا دلانا بتایا جا رہا ہے، تاکہ مستقبل میں امتحانی بے ضابطگیوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ دوسری جانب احتجاج کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ صرف سخت سزا کے اعلانات کافی نہیں، بلکہ پورے امتحانی نظام میں شفافیت، احتساب اور اصلاحات بھی ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں لاکھوں امیدواروں کو ایسے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تحقیقات مکمل طور پر غیر جانبدارانہ ہوں اور اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

تعلیمی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ پیپر لیک جیسے واقعات نہ صرف امتحانی نظام پر عوامی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں بلکہ لاکھوں نوجوانوں کی محنت، مستقبل اور ذہنی سکون پر بھی براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کے تازہ اعلان پر عمل درآمد اور اس کے عملی نتائج پر اب طلبہ، والدین اور تعلیمی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK