سماجوادی پارٹی کے قومی صدر نے کہا ’’ فرضی انکاؤنٹر انتظامیہ کو بدعنوان بناتے ہیں‘‘، عدالت نے فرضی انکائونٹرس پر سخت تبصرہ کیا ہے
EPAPER
Updated: February 01, 2026, 11:03 AM IST | Lucknow
سماجوادی پارٹی کے قومی صدر نے کہا ’’ فرضی انکاؤنٹر انتظامیہ کو بدعنوان بناتے ہیں‘‘، عدالت نے فرضی انکائونٹرس پر سخت تبصرہ کیا ہے
اتر پردیش میں بدمعاشوں کے پیرمیں گولی مارنے کےمعاملے میں ہائی کورٹ کے سخت رویہ پر سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادونے کہا ہےکہ عدالت کے سوا کسی کو سزا دینے کا حق نہیں ہے۔گزشتہ روز ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ہندوستان جمہوری ملک ہے۔ اسے آئین کے مطابق ہی چلانا ہوگا، جس میں مقننہ، عاملہ اور عدلیہ کا کردار طے ہے۔ پولیس افسران کو ہاتھ اور پیر جیسے اعضاء پر بھی غیر ضروری طریقے سے گولی مارنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے ’ایکس ‘پر ہائی کورٹ کے جسٹس ارون کمارسنگھ دیشوال کے سخت تبصرے کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جھوٹے انکاؤنٹر انتظامیہ کوخراب کرتے ہیں اور عدالت کے علاوہ کسی اور کے ذریعہ کسی کو سزا دینا خود ایک گناہ ہے۔
اپنے اس تبصرے کے ذریعہ اکھلیش یادو نے واضح اشارہ دیا ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کے نام پر افسران کی من مانی سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے ۔ دراصل، پولیس انکاؤنٹر میں زخمی ملزم راج کمار نے ہائی کورٹ میں ضمانت عرضی داخل کی تھی جس پر سماعت کرتے ہوئے بنچ نے ملزمین کی گرفتاری کے دوران سپریم کورٹ اور حقوق انسانی کمیشن کی گائیڈ لائن پر عمل نہ کرنے پر اتر پردیش کے ڈی جی پی راجیو کرشنا اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سنجے پرساد کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ طلب کرکےپھٹکار لگائی تھی۔
پولیس انکاؤنٹر میں ملزمین کے پیروں میںگولی مارنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ کسی بھی ملزم کو سزا دینے کا حق صرف عدلیہ کے پاس ہے، پولیس کے پاس نہیں۔ عدالت عالیہ نے اسے قانون کی حکمرانی اور آئینی اصولوں کے خلاف بتاتے ہوئے ریاستی حکومت اور پولیس افسران کے لئے سخت ضوابط جاری کئے تھے۔ عدالت عالیہ نے اپنے تبصرے میں کہا تھا کہ قانون کی نظروں میں ایسے واقعات کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ ہندوستانی جمہوری ملک ہے۔ اسے آئین کے مطابق ہی چلانا ہوگا، جس میں مقننہ، عاملہ اور عدلیہ کا کردار طے ہے۔ پولیس افسران کو ہاتھ اور پیر جیسے اعضاء پر بھی غیر ضروری طریقے سے گولی مارنے کی اجازت نہیںدی جاسکتی۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں اسے مبینہ’ہاف انکاؤنٹر‘ قرار دیا اور کہا کہ پولیس کی طرف سے عدالتی دائرہ اختیار میں کوئی بھی مداخلت ناقابل قبول ہے کیونکہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں حکمرانی قانون کے تحت چلتی ہے۔ ہائی کورٹ نے ریاست کے ڈی جی پی اور سکریٹری داخلہ سے یہ بھی پوچھا کہ کیا پولیس افسران کو ملزمین کے پیروں یا جسم کے دیگر حصوں میں گولی مارنے کے سلسلے میں کوئی زبانی یا تحریری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایسے انکاؤنٹر اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔