ہاتھ سے بنے قالینوں میں مغربی ممالک کے خریداروں کی گہری دلچسپی کے باعث جرمنی کے فرینکفرٹ میں منعقد ہائم ٹیکسٹائل ۲۰۲۶ء میں امریکی ٹیرف کا اثر کچھ کم نظر آیا۔
EPAPER
Updated: January 20, 2026, 7:02 PM IST | Lucknow
ہاتھ سے بنے قالینوں میں مغربی ممالک کے خریداروں کی گہری دلچسپی کے باعث جرمنی کے فرینکفرٹ میں منعقد ہائم ٹیکسٹائل ۲۰۲۶ء میں امریکی ٹیرف کا اثر کچھ کم نظر آیا۔
ہاتھ سے بنے قالینوں میں مغربی ممالک کے خریداروں کی گہری دلچسپی کے باعث جرمنی کے فرینکفرٹ میں منعقد ہائم ٹیکسٹائل ۲۰۲۶ء میں امریکی ٹیرف کا اثر کچھ کم نظر آیا۔
اس بین الاقوامی میلے میں حاصل ہونے والی غیر معمولی کامیابی سے قالین برآمد کنندگان میں خاصا جوش پایا جا رہا ہے۔ جرمنی کے فرینکفرٹ میں ۱۳؍ سے ۱۶؍جنوری کے درمیان منعقد ہائم ٹیکسٹائل ۲۰۲۶ء میں کارپیٹ ایکسپورٹ پروموشن کونسل کی شرکت کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی، جس میں ہندوستان کے۵۰؍ قالین ایکسپورٹر نے حصہ لیا۔امریکی ٹیرف کے پس منظر میں میلے کی ایک اہم خصوصیت یہ رہی کہ ہائم ٹیکسٹائل کی منتظم ٹیم نے قالین کو ایک علیحدہ اور مخصوص شعبے کے طور پر شامل کیا، جوہندوستانی ہاتھ سے بنے قالین صنعت کے لیے ایک اہم اور تاریخی پیش رفت مانی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اعلیٰ ہندوستانی سی ای اوز ڈبلیو ای ایف میں ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے
میلے کے دوران خریداروں کی ترجیحات اور شرکت کے رجحان میں واضح تبدیلی دیکھنے کو ملی، جسے ہندوستانی ٹیکسٹائل صنعت پر عائد امریکی ۵۰؍ فیصد ٹیرف کے اثرات کا ایک طرح سے جواب قرار دیا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک سے آئے خریداروں نے ہندوستانی پویلین کا دورہ کیا اورہندوستانی ہاتھ سے بنے قالینوں کے بہتر ڈیزائن دیکھ کر خاصے متاثر نظر آئے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹی۲۰؍ سیریز: ناگپور میں ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا معرکہ
اگرچہ بین الاقوامی میلے میں امریکی خریداروں کی تعداد کم نہیں تھی، تاہم ٹیرف کی وجہ سے ہندوستانی قالینوں کے تئیں ان کا رجحان نسبتاً کم دکھائی دیا، حالانکہ اب بھی ہندوستانی قالینوں کی مجموعی برآمدات کا تقریباً ۵۰؍ سے ۶۰؍ فیصد حصہ امریکہ کو ہی جاتا ہے۔ کارپیٹ ایکسپورٹ پروموشن کونسل کے نائب صدر اسلم محبوب نے بتایا کہ امریکہ کے ساتھ جاری ٹیرف وار کے درمیان ہائم ٹیکسٹائل ۲۰۲۶ء اس شعبے کے لیے ایک انتہائی کامیاب پلیٹ فارم ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق جرمنی میں منعقد ہونے والی نمائشوں میں شرکت ہاتھ سے بنے قالین صنعت کے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ اس سے پورے سال کے لیے آرڈرز کے حصول اور کاروباری منصوبہ بندی میں مدد ملتی ہے، خصوصاً موجودہ عالمی تجارتی ماحول اور امریکہ سے جڑی ٹیرف چیلنجز کے تناظر میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔